اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہندومت اور ذات پات

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
ہندومت اور ذات پات
79
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: ڈاکٹر مبارک علی

ذات پات کا یہ رواج آریہ اپنے ساتھ لے کر آئے، جو وقت کے ساتھ مختلف شکلوں میں تشکیل پاتا رہا۔ذات پات کی بنیاد ورن پر ہے جس کا مطلب رنگ ہے۔ اس میں چار ذاتیں ہیں: برہمن، کشتری، ویش اور شودر۔ یہ چاروں ذاتیں آگے چل کر ذیلی ذاتوں میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ ان ذیلی ذاتوں کی بنیاد پیشوں پر ہوتی ہے۔

جو جس ذات میں پیدا ہو جائے وہ اسی پیشے کو اختیار کرتا ہے۔ ذات کی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ ہر فرد کو اپنی ذات کے دھرم پر عمل کرنا ہوتا ہے۔

ان چار ذاتوں سے باہر اچھوت یا دلت ذات ہے، لیکن اسے یہ چار ذاتیں ناپاک قرار دے کر ان سے دور رہتی ہیں اور یہ لوگ شہروں سے باہر اپنی آبادیوں میں رہنے پر مجبور تھے۔

بھارت کے دانشوروں اور سیاست دانوں میں یہ بحث رہی ہے کہ کیا ذات پات نے ملک کو فائدہ پہنچایا یا نقصان۔

ان میں سے ایک جماعت کا یہ نقطہ نظر ہے کہ ذات پات کی تقسیم کی وجہ سے بھارت میں کوئی طبقاتی تضاد پیدا نہیں ہوا۔ چونکہ ہر فرد اپنی ذات میں محدود رہا اس لیے ملک میں امن و امان قائم رہا اور ذات پات میں باہمی فسادات اور جھگڑے نہیں ہوئے۔

جرمن فلسفی ہیگل نے جہاں ایک طرف یہ کہا کہ انڈیا کی کوئی تاریخ نہیں ہے، وہیں اس نے ذات پات کی وجہ سے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی حکمران مطلق العنان نہیں بن سکے۔ کیوں کہ برہمن اونچی ذات ہونے کی وجہ سے ان کے اختیارات میں رکاوٹ تھے۔

لیکن دوسری جماعت کی یہ دلیل ہے کہ ذات پات نے انڈیا کی سوسائٹی کو تقسیم کیے رکھا اور چوں کہ جنگ کرنا کشتریوں کا پیشہ تھا، اس لیے یہاں حملہ آور کامیاب ہوتے رہے۔ ذات پات کی وجہ سے ملک میں قوم پرستی کے جذبات بھی نہیں آئے اور ہر ذات اپنے ہی دائرے میں محدود رہی۔

برہمنوں کے اثر و رسوخ اور رسومات کی بہتات کی وجہ سے نچلی ذاتوں پر مالی اور سماجی بوجھ بڑھتا رہا۔ ویدوں کا علم صرف برہمن ذات تک تھا۔

دوسری ذاتوں کو ویدوں کے علم کے حصول کی اجازت نہیں تھی۔ اس لیے اس نظام کے خلاف بدھ مت نے آواز اٹھائی مگر گپت دور حکومت میں ذاتوں کا نظام دوبارہ سے مستحکم ہو گیا اور منوسمرتی لکھے جانے کے بعد ذات پات کے قوانین اور بھی زیادہ مضبوط ہو گئے۔

ہندوستان میں جب مغربی اقوام نے آنا شروع کیا تو یہاں آکر ذات پات کے نظام کو سمجھنے کی کوشش کی۔ موریا خاندان کے دور حکومت میں یونانی مورخ میگھستنیز نے یہاں سات ذاتوں کا ذکر کیا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔

پرتگیزیوں نے سب سے پہلے ذات پات کے لیے ‘کاسٹ‘ کی اصطلاح استعمال کی۔ بعد میں آنے والے ڈچ، فرانسی اور انگریز تھے، جنہوں نے ذات پات کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی کوشش کی۔

اس موضوع پر نکولاس ڈیرکس کی کتاب ‘کاسٹس آف مائنڈ‘ ایک اہم تحقیق ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ انگریزی حکومت سے پہلے ذات پات کی شناخت چھپی ہوئی تھی اور لوگ اس سلسلے میں حساس نہیں تھے۔ لیکن انگریز حکومت کے لیے یہ ضروری تھا کہ انتظامی وجوہات کی خاطر ذات پات کے نظام کو سمجھے۔ چنانچہ حکومت نے تاریخ علم بشریات، نسلیات کی بنیاد پر اعداد و شمار جمع کرنا شروع کیے۔

ایک کوشش تو یہ کی گئی کہ مختلف ذاتوں کے افراد کی پینٹنگز تیار کرائی جائیں، جو ان کے لباس اور ان کی پوری جسمانی حالت میں تھی۔ ان میں سے بعض پینٹنگز کے پس منظر میں کھنڈرات بھی دکھائے گئے، تاکہ اس کے ذریعے ماضی کو محفوظ کیا جا سکے۔

اس کے بعد ہر علاقے کے گزٹیئرز لکھوائے گئے جن میں ذاتوں اور قبائل کی تاریخ اور رسم و رواج کے بارے میں معلومات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انگریزی عہدیداروں نے مختلف رپورٹوں میں ذاتوں اور قبائل کے بارے میں اہم معلومات اکٹھی کیں۔

ذات پات کی شناخت اور اس کا مسئلہ اس وقت ابھر کر آیا جب سن 1771 میں پہلی مردم شماری ہوئی۔ اس میں ذات کا خانہ بھی موجود تھا اور ہر دس سال بعد ہونے والی مردم شماری میں ذات کا یہ اندراج ہوتا رہا۔ اس نے ذات پات کی شناخت کو ابھارا اور ہر فرد اپنی ذات کے بارے میں حساس ہو گیا۔

تب تک انگریزی حکومت کی جانب سے بھارت میں مسیحی مشنریز کو تبلیغ کی اجازت نہیں تھی۔ تاہم سن 1813 میں ایونجلیکل فرقے نے برطانوی پارلیمنٹ کو مجبور کیا کہ وہ مسیحی مشنریز کو ہندوستان جانے کی اجازت دیں۔

چنانچہ یہ مشنریز یہاں آئیں اور مسیحیت کی تبلیغ شروع کی تو ہندوستان کے لوگوں کو یہ ڈر ہوا کہ حکومت ان کا مذہب بدلنا چاہتی ہے۔ جب سن 1857 میں کارتوسوں کا واقعہ پیش آیا، جن کے بارے میں یہ تھا کہ ان میں گائے اور سور کی چربی استعمال ہوئی ہے، تو اس کے نتیجے میں بغاوت ہوئی۔ 1857ء کے بعد بھی مشنریوں کی تبلیغ کی وجہ سے لوگوں میں اپنی مذہبی شناخت کا جذبہ مضبوط ہوتا گیا۔

جب مناظروں کا سلسلہ شروع ہوا تو اس نے مزید مذہبی شناختوں کو ابھارا۔ لہٰذا ڈیرک کی دلیل ہے کہ انگریزی دور حکومت میں ذات پات کو ایک نئی زندگی ملی اور ہندو سوسائٹی میں ذات پات کی شناخت اور تقسیم بڑھتی رہی۔ انگریزی حکومت کو اس کا یہ فائدہ ہوا کہ اس کی وجہ سے ان کے خلاف قوم پرستی کی تحریک نہیں اٹھی اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی ذاتوں کا اتحاد ہوا۔

ذات پات کے اس شعور نے شمالی اور جنوبی ہندوستان کے درمیان تضادات کو پیدا کیا۔ جنوبی ہندوستان نے برہمنوں اور آریا نسلوں کے خلاف تحریکیں اٹھیں اور ان میں دراوڑی نسل پر فخر کیا گیا اور برہمنوں پر سخت تنقید کی گئی کہ انہوں نے نچلی ذاتوں کو عزت اور وقار سے محروم کرکے غیر انسانی بنا دیا ہے۔ انہیں نہ تو ان کے مندروں میں جانے کی اجازت ہے نہ ہی وہ ان کے ساتھ وہ میل جول رکھتے ہیں اور نہ ہی وہ ان کے ساتھ کھانے پینے میں شریک ہوتے ہیں۔

انہوں نے مہابھارت اور رمائن کو آریائی تہذیب کا تسلط قرار دیا۔ اس لیے جنوب میں رام کے بجائے ان کا ہیرو راون ہے۔ لہٰذا دراوڑی تحریک نے برہمن ازم کی تاریخ کو الٹ کر رکھ دیا اور اپنی نئی شناخت کو ابھار کر توانائی حاصل کی۔ ذات پات کی وجہ سے ایک اہم تبدیلی ہندوستان کی سیاست میں یہ آئی۔

دلت ذات کے رہنما ڈاکٹر امبیڈکر نے اس تحریک کا آغاز کیا کہ دلت ذات کے لوگوں کو بنیادی حقوق دیے جائیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کی طرح دلت ذات کو بھی جداگانہ انتخابات کا حق دیا جائے تاکہ وہ اپنے نمائندے منتخب کر سکیں۔

گاندھی جی نے اس پر سخت احتجاج کیا، کیونکہ وہ ہندو مت میں ذات پات کے نظام کے قائل تھے اور جو جس ذات میں ہے اس کے اسی میں رہنے پر یقین رکھتے تھے۔ ڈاکٹر امبیڈکر کے اس مطالبے کی مخالفت میں انہوں نے مرن برت رکھ لیا۔

اس پر ڈاکٹر امبیڈکر پر دباؤ بڑھا کہ وہ اپنے مطالبے سے دست بردار ہو جائیں۔ اس پر انہوں نے ایک بار یہ بھی کہا کہ اگر گاندھی جی ایک بار میرے ساتھ کھانا کھالیں تو میں یہ مطالبہ چھوڑ دوں گا۔

مگر بالآخر ڈاکٹر امبیڈکر کو مجبور ہونا پڑا کہ وہ گاندھی جی سے مل کر کوئی راستہ نکالیں۔ چنانچہ پونا معاہدے کے تحت سن 1932 میں یہ قرار پایا کہ دلت ذات کے لوگوں کے لیے ریزرویشن میں زیادہ نشستیں کر دی جائیں گی۔

آخر میں ڈاکٹر امبیڈکر اس پر مایوس ہو کر گئے کہ ہندومت میں رہتے ہوئے دلت ذات کے لوگوں کو ان کے حقوق نہیں ملیں گے۔ اس لیے انہوں نے اپنے تین سو ساتھیوں سمیت بدھ مت کو اختیار کر لیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ ہندو دیوتاؤں کو گھر سے باہر پھینک دیں۔

ڈاکٹر امبیڈکر بھارت کا دستور لکھنے والوں میں سے ہیں۔ جس میں انہوں نے کوشش کی ہے کہ تمام لوگوں کو برابر کے حقوق دیئے جائیں، لیکن عملی طورپر اب بھی بھارت میں دلت ذات کے ساتھ تعصب کر برتاؤ ہوتا ہے۔ خاص طور سے گاؤں اور دیہاتوں میں ان کے کنوئیں علیحدہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ سیاست کی وجہ سے کچھ تبدیلیاں آئی ہیں، لیکن اب بھی ذات پات کا یہ تاثر جاری ہے۔

جب 2001ء کی مردم شماری میں ذات کا خانہ رکھا گیا تو اس پر سخت احتجاج کیا گیا کہ یہ انگریزی دور کا ورثہ ہے جسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

اگرچہ دلت ذات میں سیاسی شعور پیدا ہو گیا ہے اور وہ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد بھی کر رہے ہیں۔ ان کا دانشور طبقہ اپنی تحریروں کے ذریعے ایک نئے شعور کو پیدا کر رہا ہے۔ لیکن ذات پات کی یہ روایات اور تعصبات جو ہزاروں برس سے واضح ہیں، ان کو ختم کرنے میں بھی کافی وقت درکار ہو گا۔

حال ہی میں ارون دتی رائے نے ڈاکٹر امبیڈکر کی کتاب ‘انائیلیشن آف دی کاسٹس‘ یا ‘ذات پات کے نظام کا خاتمہ‘ ایک طویل تعارف کے ساتھ دوبارہ شائع کی ہے۔ امبیڈکر نے یہ کتاب اپنے خرچے سے شائع کرائی تھی اور پھر اس کا دوسرا ایڈیشن نہیں چھپا تھا۔

ارون دتی رائے نے تعارف کا عنوان رکھا ہے ‘ڈاکٹر اینڈ دی سینٹ‘یعنی ڈاکٹر امبیڈکر اور گاندھی جی۔ اس میں اس نے ثابت کیا ہے کہ امبیڈکر کی شخصیت سے زیادہ اہم ہے۔ لہٰذا بھارت میں ذات پات کی یہ جنگ ابھی جاری ہے۔

(بشکریہ: ڈی ڈبلیو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN