اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

روس اور یوکرین تنازع کا تاریخی تناظر

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
روس اور یوکرین تنازع کا تاریخی تناظر
70
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:ڈاکٹر سلیم خان

یوکرین اور روس کے درمیان ثالثی کرانے کے مقصد سے ترکی نے جب سہ فریقی بات چیت کا انعقاد کیا تواس سےترکی کے صدر طیب اردوگان نے یہ امید وابستہ کی تھی کہ اس سے جنگ بندی میں مدد ملے گی اور کسی بڑے المیہ (مثلاً جوہری بم یا تیسری عالمی جنگ ) سے بچا جاسکتا ہے۔ اس بدلتے ہوئے منظر نامہ میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور ترکی میں اُن کے ہم منصب نے 6؍ مارچ کو فون پر گفتگو کی ۔ اس بات چیت کے دوران ترکی کے صدر رجب طیب اروان مل جل کر امن کا راستہ تلاش کرنے کی خاطر اپنے ہم منصب کے سامنے مسائل کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کیلئے جو گفت و شنیدکی تجویز رکھی اسی کے تحت مذکورہ کوشش کی گئی۔ عام طور دماغ کے بجائےپیٹ سے سوچنے والے سیاسی دانشوروں نے اسے معیشت سے جوڑ کر دیکھا اس لیے کہ ان اعصاب پر دولت سوار رہتی ہے۔ ان کے مطابق یوکرین پر روسی حملوں نے ترکی کی مشکل میں گھری معیشت کوزبردست دھچکا دیا ہے۔ ترکی کی معیشت کا اچھا خاصہ انحصار سیاحت پر ہے سن 2021 میں ترکی آنے والے جملہ سیاحوں میں سے ستائیس فیصد کا تعلق روس اور یوکرین سے تھا۔ جنگ کے سبب رواں سال روسی سیاحوں کی تعداد میں نصف سطح تک کمی کا امکان ہے۔ ان لوگوں کے احمقانہ دلائل پر علامہ اقبال کا یہ شعر معمولی ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے:

ہند کے شاعِر و صُورت گر و افسانہ نویس
آہ! بیچاروں کے اعصاب پہ دولت ہے سوار!

یہ اصل حقیقت کا ایک ثانوی پہلو ہے لیکن یہی مکمل سچائی نہیں ہے۔ یوکرین اور ترکی کے بہت قدیم سیاسی اور تہذیبی رشتے ہیں۔ ان کی گہرائی کا اندازہ لگانے کی خاطر ماضی کے جھروکوں میں جھانک کر دیکھنا پڑے گا۔ منگول فاتح چنگیز خان کے پوتے باتو خان نے سن 1230 میں یوکرین سمیت روس کو سردیوں میں فتح کرلیا تھا۔ یعنی جس موسم کی سختی نے ہٹلر کی فوج کو شکستِ فاش سے دوچار کردیا وہ باتو خان کو نہیں روک سکا۔اس نے ماسکو کے بجائے قرم نامی شہر کو دارالخلافہ بنایا جو آگے چل کر کرائمیا کہلایا ۔ یہ وہی صوبہ ہے جس پر 2014 میں روس نے قبضہ کر لیا تھا۔ کرائمیا کے تاتاریوں نے 13ویں صدی میں اسلام قبول کر لیا۔ تیمور لنگ کی تاراجی کے بعد ملک خاجى كراى‎‎‎ نامی ایک تاتار جنگی سردار نے کرائمیا کو فتح کرکےجوسلطنت قائم کی وہ تین سو سال تک چلتی رہی اور اس علاقہ میں یہی سب سے طویل مستحکم حکومت تھی ۔ اس کے بعد وہاں یکے بعد دیگرے چہار جانب سے حملے ہوتے رہےاوراس کے نتیجے میں یہاں بدامنی کا دور دورہ رہا ۔ اس خلفشار کے لیے سب سے زیادہ پولینڈ اور روس جیسے ہمسایہ ممالک ذمہ دار ہیں۔

1475 میں حاجی کرای کا بیٹا منكلى كراى‎ گرفتار ہو کر عثمانی سلطان محمد ثانی کے روبرو پہنچا اور اپنی سلطنت ِ کرائمیا کو عثمانی سلطنت کا باج گزار بنانے پر آمادہ ہو گیا۔عثمانیوں کی پشت پناہی ملنے کے بعد منکلی نے اپنے حریفوں کا قلع قمع کیا جب کہ اس کے بیٹے نے روسیوں کے ایک لشکر کو ماسکو کے قریب شکست دی جس کے بعد روسی انہیں خراج دینے پر مجبور ہو گئے۔ وقت کے ساتھ کرائمیا اور عثمانی سلطنت کا تعلق مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا اور اس دوران وقت کی سپر پاور عثمانیوں کی پشت پناہی کے سبب کوئی کرائمیا کی جانب نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکا۔ عثمانیوں کو بھی اس کے عوض کو ہمہ وقت جاری جنگوں میں حصہ لینے کے لیے اس علاقے سے جری شہسواروں کے تازہ دم دستے فراہم ہوتے رہے۔ اس دوران کرائمیا براہِ راست عثمانی سلطنت میں شامل نہیں تھا لیکن عسکری، معاشی اور سیاسی طور پر اسے عثمانی دنیا کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔1672 میں عثمانی فوج نے سلطان محمد چہارم کی قیادت میں پوڈولیا کو بھی پولینڈ کے بادشاہ سے چھین کر عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا تھا۔ تاہم 1699 میں عثمانیوں نے ایک معاہدے کے تحت پوڈولیا کو واپس کر دیا۔

یوکرین کا اہم صوبہ کرائمیا پر نہ صرف عسکری طور پر بلکہ ثقافتی اور لسانی اثرات بھی پڑے ترکی تہذیب و زبان کے بڑے اثرات آج بھی نظر آتے ہیں۔ یوکرینی زبان میں ترکی کے کئی الفاظ رائج ہیں مثلاًوہ چرواہے کے لیے ترکی کے لفظ ’چوبان‘ استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح کلم (قالین)، کاون (خربوز)، ہاربوز (تربوز)، اور بہت سارے ا لفاظ رائج ہیں۔ یوکرین پر عثمانیوں کا اثر و رسوخ کرائمیا تک محدود نہیں ہے۔ مشرقی یوکرین کے کئی دوسرے علاقے بھی ان کے زیرِ نگین رہے ہیں اور عثمانیوں نے یوکرین کے کچھ حصوں پر براہِ راست بھی حکومت کی ہے۔یوکرین میں امن و امان کے اس دور کا خاتمہ روسی زار کی فوجوں کے ذریعہ 1783 میں کرائمیا کی فتح سے ہوا جب اسے روسی سلطنت کا حصہ بنا لیا گیا ۔ یہی کہانی 1917 کے انقلاب کے بعد دوہرائی گئی جبکہ کرائمیا پرسوویت یونین نے غاصبانہ قبضہ کرلیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سٹالن نے اس شبہ میں کہ کرائمیا کے تاتاریوں نے ہٹلر کا ساتھ دیا تھا، ان کے خلاف بڑے پیمانے پر انتقامی کارروائیاں کیں۔ ہزاروں خاندانوں کو گھر بار سے بےدخل کر کے ازبکستان جانے پر مجبور کیا گیا اور کچھ راستے میں بھی مارے گئے۔ایسے جائزے بھی موجود ہیں کہ جلاوطن خاندانوں میں سے 40 فیصد دو سال کے اندر مر کھپ گئے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ روس میں زار ہوں یابیزار یعنی اشتراکی ، ان کے ذریعہ یوکرین کی قسمت میں ظلم و جبر ہی آیا۔

کرائمیا کے اندرخدا بیزار سٹالن نے بھی یوگی کی طرح قدیم آثار مٹانے کی ناکام کوشش کی۔ مسجدیں اور قبرستان مسمار کر دئیے، پرانے محلات اور قلعے برباد کر دیئے، حتیٰ کہ علاقوں اور شہروں کے پرانے نام تک بدل دیئے۔ یوکرین پھر ایک بار روسی یلغار کی زد میں ہے، اور اپنے قدیم تعلقات کی بناء پر ترکی بڑھ چڑھ کر اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ ترکی نے یوکرین کو جنگی ڈرون بھی دے رکھے ہیں جو روس کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں۔ یوکرین پر عثمانیوں کی پکڑ کمزور ہونے کے بعد اس کیا گزری اس کا چشم کشا جائزہ یہ بتاتا ہے کہ کس طرح مسلمان عالم انسانیت کی خاطر امن و امان کا باعث رہے ہیں اور ان کے کمزور ہوجانے پر کیسے ظلم و جبر بے لگام ہوگیا ۔ پس منظر کے طور یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ چودھویں صدی کے وسط تک، مشرقی یورپ میں واقع یوکرین کے علاقے تین بیرونی طاقتوں، منگولوں ، لیتھوانیا اور پولینڈ،کے تسلط میں تھے۔ پندرھویں صدی کے نصف میں جب منگول حکمرانی کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل تیز ہوگیا تو اس کے جو جانشین کریمیا پر حکومت کررہے تھے انہوں نے 1475 کے بعدخلافتِ عثمانیہ کی حاکمیت قبول کرلی۔

دریائے نیپر یوکرین، روس اور بیلاروس کے درمیان مشترک آبجو ہے ۔ اس دریا کے دونوں کناروں پر آزاد منش اور مہم جو کوسیک (جنہیں ترکی زبان میں قزاق کہا جاتا ہے) آباد تھے۔ پہاڑوں پر بسنے والے یہ قزاق موسمی شکار،مچھلیاں، نمک اور شہد اکٹھا کرنے کو میدانوں میں اترتے تھے تاہم جب تاتار یوں کا حملہ ہوتا جیسا کہ ابھی روس نے کیا ہے تو اس دراندازی کے خلاف یہ لوگ یوکرین کی سرحدی آبادی کا بھی دفاع کرتے تھے ۔ کریمیا کے علاقے میں مہم جوئی کرنے والے قزاقوں کا اپنا چھوٹا بحری جہازوں کا دستہ بھی ہوا کرتا تھا جس کے ذریعہ ترکی کے ساحلی شہروں مثلاً اناطولیہ وغیرہ پر چھاپے بھی مارے جاتے تھے ۔ یہ انا طولیہ وہی تاریخی شہر ہے جہاں موجودہ ترکی نے یوکرین اور روس کے وزرائے خارجہ کو بات چیت کے لیے یکجا کیا ۔ جی ٹوئنٹی میں روس کی جگہ لینے کا خواب دیکھنا والا پولینڈ ازلی موقع پرست رہا ہے۔ اس کا معاملہ یہ تھا کہ وہ ان قزاقوں کو تاتاروں، ترکوں اور ماسکو کے حملہ آوروں کے خلاف جنگ میں ڈھال کے طور پر استعمال کرتا لیکن امن کے زمانے میں انھیں اپنے لیے خطرہ سمجھتا تھا۔ افغانیوں کے معاملہ میں مغرب اور امریکہ کا یہی رویہ تھا کہ جب وہ سوویت یونین کی جارحیت کے خلاف برسرِ پیکار تھے تو ان کی آنکھوں کا تارہ تھے لیکن جیسے نیٹو اور امریکہ کوچیلنج کیا دہشت گرد قرار دیئے گئے ۔ مغرب کا یہ دوغلا پن صدیوں پرانا ہے۔

فی الحال جس طرح روس نے یوکرین کے نیٹو میں شامل ہونے کی جرأت سے ناراض ہوکر حملہ کردیا اسی طرح وہ 29 جون 1659 کو بھی کرچکا ہے لیکن اس وقت کونوٹوپ کی جنگ میں اسے شکست ہوگئی۔اس کے باوجود چونکہ یوکرین کے رہنما بڑی حد تک موقع پرست اور کم نظر تھے اس لیے روس ان پر پھر سے غالب ہوگیا ۔ 1677 میں، ترکوں نے بوہدان کے بیٹے یوری کو اپنی قیدی سے نکال کر زمامِ کار سونپی مگر وہ پھر سے نااہل ثابت ہوا۔ یوری کو غیر نتیجہ خیز مہمات کے بعد 1681 میں ترکوں نے معزول کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اسی سال، ماسکو نے عثمانیوں اور کریمیائی تاتاروں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت انھوں نے یوکرین میں ایک دوسرے کی املاک کو تسلیم کرلیا۔ پانچ سال بعد روس نے پولینڈ کے ساتھ بھی ایسا ہی معاہدہ کیا۔ 1686 تک، پورا یوکرین ان طاقتوں میں تقسیم ہو چکا تھا ۔ بوہدان کے ذریعہ برپا کردہ انقلاب کے بعدیوکرین کو ایک طاقتور ملک کی حیثیت سے ابھرنے کا نادر موقع ملا تھا مگر اسے گنوادیا گیا اور اس کے نتیجے میں وہ تقریباً 300 سال تک تباہی و بربادی کا شکار رہا ۔ اس دوران پولینڈ-لیتھوانیا، روس اور سوویت یونین کے طویل تسلط میں رہنے کے بعد بیسیویں صدی کے اواخر ہی میں جاکر یوکرین ایک خودمختار ملک کی حیثیت سے ابھرا مگر پھر سے بہت جلد بکھراوکا شکار ہونے لگا ہے ۔ یوکرین کی اس عبرت انگیز تاریخی تناظر پر مظفر رزمی کا یہ شعر صادق آتا ہے:

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

(جاری)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN