نئی دہلی : (ایجنسی)
بی جے پی پر تعلیم کے بھگواکرنے کی کوششوں کے الزام توپہلے بھی لگتے رہے ہیں، لیکن سرکار اور اس کی ایجنسیوں نے اس معاملے میں اب زمینی سطح پر اہم اقدامات کرنا شروع کیا ہے۔ اس کی شروعات تاریخ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے ہوگی، جس سے سرکار کے لوگ ’نئے حقائق کی روشنی میں پھر سے تاریخ لکھنا‘ کہہ رہےہیں ۔
‘’نئے حقائق کے تناظر میں پھر سے تاریخ لکھنے‘ کی یہ تھیوری نیشنل بک ٹرسٹ کے صدر گووند پرساد شرما کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخ کی کتابوں میں ہار پر بہت کچھ لکھا گیاہے، لہٰذا اب شکست کےبجائے راجاؤں کی جد وجہداور ان کے لڑنے کی صلاحیت پرابواب تاریخ کی نصابی کتابوں میں شامل کیاجانا چاہئے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مہارانا پرتاپ نے جس بہادری سے لڑائی لڑی، اس کےبارے میں بتایا جانا چاہئے ۔
دراصل مرکزی حکومت نے کے کستوریانگن کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جو قومی نصاب کے فریم ورک پر نظر ثانی کرے گی۔ یہ اسکولی نصاب میں تبدیلی کے لیے تجویز دے گی۔
اس کمیٹی کی تشکیل 21 ستمبر کو ہوئی اور اس کی پہلی میٹنگ گزشتہ منگل کو ہوئی۔ گووند پرساد شرما اس کمیٹی کے ممبر ہیں۔ اس میں اسکول ایجوکیشن سکریٹری انیتا کاروال بھی موجود تھیں۔ اس میٹنگ میں نئی تعلیمی پالیسی پر بھی بات چیت ہوئی۔
این بی ٹی کے صدر شرما نے ’انڈین ایکسپریس سے کہاکہ اتنی ساری لڑائیاں اس لئے ہوئیں کہ ان لوگوں نےسخت مزاحمت کی۔ مثال کے طور ایک بیانیہ رقم کی گئی ہے کہ رانا پرتاپ کو اکبر نے شکست دی ،جبکہ ان دونوں کے درمیان کبھی آمنے سامنے کی لڑائی ہوئی ہی نہیں۔‘
گورکھپور اور ناگپور کی یہ یونیورسٹیاںتو بی اے اور ایم اے سطح پر یہ کام کرنے کی سوچ رہے ہیں۔ مگر این بی ٹی تو پوری قومی سطح پر ایک نئی تاریخ لکھنے جارہا ہے۔ اس کے دوررس نتائج ہوں گے ۔ مبصرین نےاس کا توازانہ پاکستان سے کیا ہے ۔ جہاں جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں تاریخ کو پھر سے لکھنے کی کوشش شروع ہوئی۔ وہاں کی تاریخ میں بھارت، تحریک آزادی ، کانگریس، گاندھی وغیرہ کےبارے میں توڑ مروڑ کر ابواب لکھے گئے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کو اسلام اور عرب سے جوڑ کر دکھایاگیا۔ اس نتیجہ سب کےسامنے ہے ۔










