اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازع بیان بھارت اور اسلامی دنیا کے تعلقات کا ٹیسٹ کیس کیسے بنا؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازع بیان بھارت اور اسلامی دنیا کے تعلقات کا ٹیسٹ کیس کیسے بنا؟
238
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:وکاس پانڈے

حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو رہنماؤں کی طرف سے پیغمبراسلام سے متعلق متنازع بیانات کے بعد بڑھتے ہوئے غصے کو دیکھ کر بھارت اسلامی دنیا میں اپنے دوست ممالک کو وضاحتیں دینے پر مجبور ہو گیا ہے۔

بی جے پی کی سرکاری ترجمان نوپور شرما نے ایک ٹی وی شو میں پیغمبر اسلام سے متعلق متنازع بیان دیا ہے جبکہ حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک اور رہنما نوین جندل نے، جو پارٹی کے میڈیا ونگ کے سربراہ بھی تھے، اس معاملے پر ٹویٹ کیا۔ نوپور شرما کے بیان نے خاص طور پربھارت میں اقلیتی کمیونٹی یعنی مسلمانوں میں غم و غصہ کو ہوا دی اور اس کے بعد ملک کی کچھ ریاستوں میں احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔

دونوں رہنماؤں نے اپنے بیانات پر معذرت کی ہے جبکہ بی جے پی نے نوپور شرما کی پارٹی رکنیت معطل کر دی ہے جبکہ نوین جندل کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔

بی جے پی نے کسی بھی مذہبی شخصیت کی توہین کی سختی سے مذمت کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں پارٹی نے کہا ہے کہ بی جے پی ہر اس سوچ کے خلاف ہے جو کسی بھی فرقے یا مذہب کی بے توقیری کرتی ہے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بی جے پی ایسے لوگوں اور فلاسفی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بی جے پی کے دونوں رہنماؤں کے بیانات ملک میں گذشتہ چند برسوں سے موجود گہری مذہبی تقسیم کی عکاسی کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پر بی جے پی کا ردعمل شاید اب کافی نہ ہو کیونکہ اب ملک کے اندورنی معاملے نے بین الاقوامی نوعیت اختیار کر لی ہے۔ کویت، قطر اور ایران نے اتوار کو بھارت کے سفیروں کو بلا کر ان بیانات پر اپنا احتجاج ریکارڈ کیا ہے۔ پیر کو سعودی عرب نے بھی ان بیانات کی مذمت کی ہے۔

اتوار کو اس معاملے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے قطر کی وزارت خارجہ نے دوحہ میں انڈیا کے سفیر دیپک متل کو طلب کر کے انڈیا سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق اس طرح کے اسلام فوبیا پر مبنی ریمارکس کو بغیر سزا کے چھوڑ دینا، انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور یہ مزید تعصب اور پسماندگی کا باعث بن سکتا ہے، جو تشدد اور نفرت کے ایک نئے سلسلے کو جنم دے گا۔

سعودی عرب نے اپنے بیان میں کچھ سخت الفاظ بھی استعمال کیے ہیں۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی ’وزارت خارجہ نے انڈین بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ترجمان کے بیانات کی مذمت کرتی ہے، جس میں پیغمبر اسلام کی توہین کی گئی ہے۔ اور یہ کہ سعودی عرب تمام مذاہب اور مذہبی شخصیات اور شعائر سمیت اسلام اور شعائر اسلام کے خلاف اس طرح کے تعصب کی مستقل حوصلہ شکنی کی پالیسی کا اعادہ کرتا ہے۔‘

دوحہ میں انڈیا کے سفیر دیپک متل نے کہا کہ اس طرح کے عناصر کے ذاتی خیالات انڈیا کی حکومت کے نکتہ نظر کی ترجمانی نہیں کرتے۔ بی جے پی کے سینئیر رہنماؤں اور دیگر سفیروں نے بھی اس متنازع بیان کی مذمت کی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور حکومت کی طرف سے بھی اس معاملے پر بیان دینا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسا نہ کرنے کی صورت میں انڈیا کے ان اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

بھارت کا بہت کچھ خطرے میں ہے

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ساتھ انڈیا کی تجارت، جس میں کویت، قطر، سعودی عرب، بحرین، عمان اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، سال 2020-21 میں 87 ارب ڈالر تک رہی۔ اس کے علاوہ انڈیا کے لاکھوں شہری ان ممالک میں رہتے ہیں اور کام کرتے ہیں اور لاکھوں ڈالر کی ترسیلات زر وطن واپس بھیجتے ہیں۔ یہ خطہ انڈیا کی توانائی کی درآمدات کا بھی سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سنہ 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ان خلیجی ممالک کا باقاعدہ دورہ کرتے رہے ہیں۔ نیو دہلی نے پہلے ہی متحدہ عرب امارات کے ساتھ ایک آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں اور ایک وسیع معاہدے کے لیے جی سی سی کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔

نریندر مودی نے سنہ 2018 میں ابوظہبی میں پہلے ہندو مندر کے سنگ بنیاد کی تقریب میں پرتپاک انداز میں شرکت کی تھی۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے اس اقدام کو انڈیا اور خطے کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی ایک مثال قرار دیا گیا تھا۔

جبکہ تہران کے ساتھ دلی کے تعلقات گذشتہ چند برسوں سے بہت اچھے رہے ہیں، یہ تنازعہ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے آنے والے انڈیا کے دورے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے کہا کہ یہ تنازعہ انڈیا کی حالیہ کامیابیوں کو ماند کر سکتا ہے۔ انڈیا کے سابق سفیر جتیندر ناتھ مشرا کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی طرف سے خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں حقیقی ثابت ہوئی ہیں اور ان تعلقات میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق انڈیا کے لیے ایک اور کامیابی کا زینہ یوکرین تنازعے میں بہتر انداز میں کردار ادا کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسا بحران ہے جو سفارت کار چاہتے ہیں کہ نا ہی ہو تو بہتر ہے۔ ہم اپنے دوستوں کے حلقے کو بڑھانے کی پوری کوشش کرتے ہیں، اور جب ایسا ہوتا ہے تو یہ کوئی اچھی پیشرفت نہیں ہوتی۔

عرب دنیا میں خدمات انجام دینے والے ایک اور سابق سفارت کار انیل تریگونیت نے کہا کہ انڈیا ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے اور صرف قیادت کی سطح پر مخلصانہ کوششیں ہی منفی اثرات کو روک سکتی ہیں۔

ان کے مطابق قانون کے تحت ذمہ داران کے خلاف مثالی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے تاکہ ایسے سرکس عناصر اسے دہرانے اور سماجی افراتفری پیدا کرنے اور ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا سبب نہ بنیں۔

دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تنازعے کے اثرات کی سفارتی قیمت خطے میں انڈیا کے مفادات کو بہت نقصان پہنچا سکتی ہے۔

امریکہ کے ولسن سینٹر تھنک ٹینک میں ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین کا کہنا ہے کہ انڈین حکام اکثر دفاعی ردعمل کا اظہار کرتے ہیں جب نئی دہلی کے قریبی دوستوں سمیت دیگر ممالک انڈیا کے اندرونی معاملات پر تنقید کرتے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں، انڈیا کے سفارت کاروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ معافی اور نقصان پر قابو پانے کی دیگر اقسام کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تیزی سے کام کریں گے۔

عرب ممالک بھی اپنے ہی عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ٹھوس اقدام اٹھانا چاہتے ہیں۔ انڈیا پر تنقید کرنے والے ہیش ٹیگز ان ممالک میں ٹرینڈ کر رہے ہیں اور یہ واقعہ ان کے میڈیا میں ٹاپ سٹوری بن گیا ہے۔

ان ہیش ٹیگز میں سے کچھ نے انڈیا کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔

قطر اور کویت میں کچھ دکانوں کی جانب سے انڈیا مصنوعات کو ہٹانے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

مائیکل کوگلمین کے مطابق یہ تعلق جی سی سی اور انڈیا دونوں کے لیے اہم ہے اور دونوں فریق خطرات کو کم کرنے پر غور کریں گے۔

ان کے خیال میں جہاں ایک طرف دلی کو اس طرح کے تزویراتی طور پر نازک خطے کی طرف سے اس ناراض ردعمل کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے، تو دوسری جانب انڈیا کی اپنی خاص اہمیت بھی اسے مزید نقصان سے بچاتی ہے۔

اپنے اقتصادی مفادات کی وجہ سے، خلیجی ریاستوں کو اپنی توانائی کی درآمد جاری رکھنے کے لیے انڈیا کی ضرورت ہے۔ انھیں انڈین شہریوں کی ضرورت ہے جو وہاں رہیں اور کام جاری رکھیں۔ مجموعی طور پر، انھیں انڈیا کے ساتھ کاروبار کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اس بات کی کوئی حد ہوسکتی ہیں کہ یہ ممالک ان مسلم مخالف تبصروں کا جواب دینے میں کتنا آگے جا سکتے ہیں۔

(بشکریہ: بی بی سی اردو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN