اردو
हिन्दी
مئی 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

طالبان اور سعودی عرب کے مابین رشتے کیسے بدلے؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
طالبان اور سعودی عرب کے مابین رشتے کیسے بدلے؟
124
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: شیایئر کیتھرین

طالبان نے جب پچھلی مرتبہ سن 1996سے 2001 کے درمیان افغانستان کی باگ ڈور سنبھالی تھی تو اس اسلام پسند گروپ کی حکومت کو دنیا بھر میں تسلیم کرنے والے صرف تین ملکوں میں سعودی عرب بھی شامل تھا۔ دیگر دو ممالک میں پڑوسی ملک پاکستان اور متحدہ عرب امارات شامل تھے۔ ماضی میں دونوں شریک کار تھے لیکن آج سیاسی اور ثقافتی اختلافات نیز بعض تاریخی مسائل کی وجہ سے ایک دوسرے سے الگ ہیں۔

ماضی میں سعودی عرب کے ساتھ تعلق سے طالبان کو کافی فائدہ ہوا۔ مثلاً سعودی عرب نے ان مدارس کی مالی امداد کی جہاں سے طالبان تحریک ابھری۔ حالانکہ دونوں مختلف مسلک کے پیروکار ہیں۔ طالبان دیوبندی مسلک کو مانتے ہیں جبکہ سعودی عرب میں وہابیت رائج ہے۔

اسلام کے دفاع کے نام پر

سن اسّی کی دہائی میں جب سابقہ سویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو سعودی عرب نے افغان جنگجوؤں کی مدد کی جنہیں مجاہدین کہا جاتا تھا۔ حالانکہ امریکا او ر سعودی عرب کے نظریات او رمقاصد ایک دوسرے سے الگ تھے۔ اس کے باوجود امریکا نے طالبان کی مدد کی۔ امریکی کمیونزم کو شکست دینے کے لیے جبکہ سعودی اسلام کا دفاع کرنے کے نام پر طالبان کا ساتھ دے رہے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق ان دونوں ملکوں میں سے ہر ایک نے سوویت یونین کے خلاف جنگ میں تقریباً چار چار ارب ڈالر خرچ کیے۔

سوویت یونین کی افغانستان سے واپسی اور سن 1990کی دہائی میں خانہ جنگی کے دوران بھی سعودی عرب طالبان کو مالی امداد فراہم کرتا رہا۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس نے بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود طالبان کو مبینہ طورپر ہتھیار بھی فراہم کیے۔ لیکن گیارہ ستمبر2001 کو جب القاعدہ نے امریکا پر خودکش حملے کیے، جس میں تقریباً تین ہزار لوگوں کی ہلاکت ہوئی، تو طالبان کے حوالے سے سعودی عرب کا موقف تبدیل ہوگیا۔

دہشت گردوں کی پناہ گاہ

سعودی عرب اور امریکا کے درمیان 1940ء سے ہی سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ امریکا سعودی مملکت کے سب سے مضبوط ترین تجارتی اور سکیورٹی اتحادیوں میں سے ایک ہے۔

سن 1998میں سعودی عرب نے طالبان سے القاعدہ کے سربراہ اور سعودی شہری اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ اسامہ بن لادن نے اس وقت افغانستان میں پناہ لے رکھی تھی۔ لیکن طالبان نے سعودی عرب کی درخواست ٹھکرادی۔ اس کی وجہ سے دونوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی اور طالبان کو سعودی مالی امداد تقریباً بند ہوگئی۔

نائن الیون کے واقعات نے تعلقات مزید خراب کردیے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے طالبان کی قیادت والے افغانستان سے اپنے تعلقات منقطع کرلیے۔ سعودی عرب نے طالبان پردہشت گردوں کو پناہ دے کر اسلام کو بدنام کرنے کا الزام عائد کیا۔

جرمن انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی اور سکیورٹی امور کے تجزیہ کاروں نے سن 2013 میں ایک تحقیقاتی مقالے میں لکھا تھاکہ، ’’غیرسرکاری، مذہبی اور انفرادی سطح‘ پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات برقرار رہے ہیں۔‘‘

دوریاں بڑھتی گئیں


سعودی عرب نے اب اپنے پرانے اتحاد ی سے ناطہ توڑ لیا ہے۔ حالانکہ ایک مرحلے پر وہ طالبان اور معزول افغان حکومت کے درمیان مذاکرات میں ممکنہ مصالحت کار بنتا دکھائی دے رہا تھا لیکن خلیجی ملک قطر نے آگے بڑھ کر یہ ذمہ داری سنبھال لی اور پچھلے چند برسوں سے وہی مصالحت کار کا کردار ادا کررہا ہے۔

رواں ماہ افغانستان کے دارالحکومت کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد سعودی وزارت خارجہ نے ایک محتاط بیان جار ی کیا۔ جس میں کہا گیا،”مملکت سعودیہ کسی طرح کی مداخلت کے بغیر افغان عوام کی پسند کے ساتھ ہے۔”

ماہرین کا خیال ہے کہ فوری طورپر اس بات کا امکان کم ہے کہ سعودی عرب اورطالبان کے درمیان رشتے استوار ہوسکیں۔ ماہرین کے مطابق سعودی عرب کے لیے امریکی اتحاد اب بھی اہم ہے اور ملک میں جاری ثقافتی تبدیلیاں بھی اسی کا حصہ ہیں۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اپنے ملک میں جدیدیت لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسے میں ایک زیادہ کھلے اورآزاد معاشرے والا سعودی عرب دیگر ملکوں میں شدت پسند مسلمانوں کی حمایت شاید نہ کرے۔

بھارت کے معروف تھنک ٹینک آبزرور ریسر چ فاؤنڈیشن میں فیلو کبیر تنیجا نے گزشتہ ماہ لکھا تھاکہ ’’افغان بحران سعودی عرب کے لیے داخلی محاذ پر ایک چیلنج ہے۔ آنے والے دنوں میں سرمایہ کاری کا عالمی مرکز بنانے کے اپنے امیج کو برقرار رکھنے کے لیے ریاض کو اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ افغانستان سے آنے والے جنگجوؤں کی پناہ گاہ نہ بن جائے یا انتہاپسندانہ سرگرمیوں کے لیے مالی امداد فراہم کرنے کا مرکز نہ بننے پائے۔‘‘

علاقائی حریف

دراصل آج افغانستان کا پڑوسی ایران طالبان سے زیادہ قریب ہے حالانکہ دونوں کے مذہبی نظریات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

واشنگٹن کے تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے فیلو وینے کاورا نے گزشتہ برس لکھا تھا،” تہران اور طالبان کے درمیان حکمت عملی کے سلسلے میں باہمی مفاہمت سے متعلق خبریں ملتی رہی ہیں۔ یہ سابقہ طالبان حکومت کے دور کے یکسر برخلاف ہے، جسے ایران کے کٹر حریف سعودی عرب کی سرپرستی حاصل تھی۔‘‘

امریکی ریاست ٹیکسس کی رائس یونیورسٹی کے بیکر انسٹیٹیوٹ میں مشرق وسطی امور کے ماہر کرسٹیان کوٹس کہتے ہیں،” سعودی عرب اور ایران آنے والے دنوں اور ہفتوں میں ایک دوسرے کے اقدامات پر قریبی نگاہ رکھیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ سعودی عرب میں مقیم علماء کرام اور مذہبی نیٹ ورک کے ذریعہ طالبان کے ساتھ کچھ غیر رسمی رابطہ ہوجائے لیکن ماضی کے اتحاد کی طرح اسے سرکاری امداد دینا یا تسلیم کرنا یا فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔

کوٹس کا خیال ہے کہ افغانستان کو کسی طرح کی مالی امداد فراہم کرنے کی کوشش سعودی عرب کی نیک نامی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب جبکہ نائن الیون حملوں کے بیس برس مکمل ہونے میں چند دن باقی رہ گئے ہیں ایسے میں سعودی عرب کھل کر سامنے آنا پسند نہیں کرے گا تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سعودی عرب کے فیصلہ سازوں کی موجودہ نسل کے سامنے طالبان کی پرانی یادیں تازہ ہوجائیں۔

(بشکریہ : ڈی ڈبلیو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN