ممبئی :(ایجنسی)
ملک کی ہندی فلم انڈسٹری ’بالی ووڈ‘ کو ہٹ اور فلاپ، جشن اور سانحات، تعریفوں، تضحیک اور اختلافات کے لیے مشہور ہے۔ تاہم، کچھ ایسی بھی چیزیں ہیں جو نظر نہیں آتیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ پر ان دنوں کسی اسکیم کے تحت بالی ووڈ اور اس کے اداکاروں کے خلاف منفی مہم چلائی جا رہی ہے۔
اس کے تحت ایک انفلوانسراپنے لاکھوں فالوورز کو بالی ووڈ اداکاروں کو گالی دینے، جھوٹ پھیلانے اور پروپیگنڈہ پھیلانے کی ہدایت کرتا ہے جو انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ انفلوانسرافراد بھی غلط معلومات دے کر پیسے کما رہے ہیں۔
لیکن یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ کیسے ہوتا ہے، ہمیں گوگل کے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ’یوٹیوب‘ کے بارے میں جاننا چاہیے۔ بالی ووڈ کے خلاف چلائی جانے والی اس پروپیگنڈہ مہم کا بنیادی اڈہ یوٹیوب ہے۔
بی بی سی کے ڈس انفارمیشن یونٹ نے پروپیگنڈہپھیلانے والی سیکڑوں ویڈیوز کے ہفتوں کے بعد نیٹ ورک کا پتہ لگایا۔ اس رپورٹ میں ہم اس معاملے کی تہہ تک جائیں گے اور اس بارے میں یوٹیوب کا جواب بھی بتائیں گے۔
بی بی سی نے اپنی تحقیقات میں یہ بھی پایا کہ ہندی فلم انڈسٹری کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلانے والے ان میں سے بہت سے دائیں بازو کے ہیں۔ ہمیں ایسے ویڈیوز ملے جن میں وہ بی جے پی کے ارکان کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ ورچوئل میٹنگ کے لیے بھی ایک انفلوانسرکو بلایا گیاتھا۔
بالی ووڈ کے لوگوں نے ان آن لائن سرگرمیوں کے ان پر پڑنے والے اثرات کو قبول کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنے دفاع کے لیے مناسب کوشش نہیں کی ہے۔
جعلی ویڈیو کا سہارا

ہم اس معاملے کو سندیپ ورما کی مثال لے کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سندیپ ورما ہمارے ذریعہ ٹرک کئے گئے کچھ انفلوانسر میں سے ہیں،ان کا دعویٰ ہے کہ پیشے سے صحافی ہیں اور ایک ’ ‘مڈل کلاس آدمی‘ ہیں۔ ان کے یوٹیوب چینل پر (ہم اس کا نام چھپا رہے ہیں) مگرہمیں فلم انڈسٹری سے متعلق بہت سی ویڈیوز ملیں۔
ان ویڈیوزسے ایک میںانہوں نے ان خاتون (چیٹ کااسکرین شاٹ) کو دکھایا ہے۔ ان کے بارے میں ورما نے دعویٰ کیا کہ وہ دہلی کے مشہور سرکاری اسپتال ایمس میں کام کرنے والی ایک ’ میڈیکل وسل بلور ‘ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بالی ووڈ ہیرو سشانت سنگھ راجپوت کی موت کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی میں بدعنوانی ہوتے دیکھا ہے۔ اس ویڈیو کا ٹائٹل ’ بگیسٹ پروف‘ تھا، جس میں بتایا گیا کہ ایمس نے کیسے سشتانت سنگھ معاملےکی جانچ میں دھاندلی کی۔
جب بی بی سی کی ٹیم ان دعوؤں کی تحقیقات کے لیے ایمس پہنچی تو ایمس کے ترجمان نے اس بات کی تردید کی کہ خاتون نے کبھی متعلقہ محکمہ میں کام کیا ہے۔ ترجمان نے اس ویڈیو کو’جعلی ویڈیو‘ قرار دیا۔
تاہم، بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سندیپ ورما نے کہا کہ ان کے پاس ان ’وسل بلورز‘ کی شناخت ثابت کرنے کے لیے تمام ثبوت موجود ہیں، لیکن انہوں نے کوئی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔ جب ایسا کرنے کے لیے چیلنج کیا گیا تو ورما پیچھے ہٹ گئے اور ہمیں’ ‘کارروائی‘ کرنے کی دھمکی دینے لگے۔
بغیر ثبوت کے بے بنیاد الزام
ہمیں کئی انفلوانسر کے ایسی ویڈیوز ملیں ،جن میں اداکاروں، ہدایت کاروں اور پروڈیوسروں کو ’ملک دشمن‘ اور ’ہندو مخالف‘ قرار دیا گیا تھا۔ ہم نے پایا کہ ان ویڈیوز میں اداکاروں پر بغیر کسی ثبوت کے منشیات، جسم فروشی، چائلڈ پورنوگرافی اور حتیٰ کہ انسانی اعضاء کے کاروبار میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔
ان انفلوانسر نے اس طرح کے کئی دعوے کرتے ہوئے ویڈیو دیکھنے والوں سے پیسوں کی مانگ کی ہے۔ پیسے جمع کرنے کے لیے یہ انفلوانسر یوٹیوب کی چیٹ فیچر کے علاوہ ’پیڈ ممبرشپ‘ بیچنے یا ویڈیو میں بتائے گئے بینک کھاتوں کا سہارا لے رہے ہیں۔
ایک انفلوانسر اپنی ویڈیوز دیکھنے والوں سے کہہ رہا تھا- ’براہ کرم (یو ٹیوب) اشتہارات کو چھوڑ کر آگے نہ بڑھیں۔ اگر آپ بغیر اشتہار چھوڑے ہماری ویڈیودیکھیں گے توان سے آنےوالے پیسوں کا کچھ حصہ ہمیں بھی ملے گا اورہمیں یہ سب کرنے میں مدد ملے گی۔‘
یوٹیوب پر کئی ویڈیوز میں، بی بی سی نے پایا کہ لوگ ان انفلوانسر کو پیسے بھیج رہے ہیں اور ساتھ ہی اس کے چیٹ آپشنز کے ذریعے مختلف قسم کے تاثرات بھی دے رہے ہیں۔
آخر ہم کیسے جییں گے؟

بالی ووڈ کے شہر ممبئی میں بی بی سی کی ٹیم کی ملاقات اداکارہ سوارا بھاسکر سے ہوئی جنہیں اکثر آن لائن چلائی جانے والی ایسی مہمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ٹیم نے ان سے پوچھا کہ اس کا ان پر کیا اثر ہوا؟
سوارا بھاسکر نے کہا کہ ’اب لوگوں کے ذہنوں میں میرے بارے میں ایک تصویر بن گئی ہے اور یہ میرے کاموں سے زیادہ میرے بارے میں مچائے گئے شور نے بنائی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس کا براہ راست اثر ان کی روزی روٹی پر پڑتا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’مجھے زیادہ کام نہیں ملتا۔ انڈسٹری کے لوگ اس بات سے فکرمند ہیں کہ اگر سوارا آئیںگی تو تنازع ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے برانڈز مجھ سے بہت ڈرتے ہیں۔‘
ٹیم نے سوارا بھاسکر سے پوچھا کہ کیا ایسی مہمات فلم انڈسٹری کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اداکاروں کو ذاتی طور پر متاثر کر رہی ہیں۔ اس پر انہوں نے اتفاق کیا اور کہا کہ اس سب نے یہاں’خوف کا ماحول‘ پیدا کر دیا ہے۔
سوارا کہتی ہیں، ’لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ آج کے اسٹار لوگ 2011، 2012 اور 2013 کی طرح پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی شکایت کیوں نہیں کرتے؟ یہاں تک کہ جب انہیں نشانہ بھی بنایا جاتا ہے،تو وہ کچھ نہیں کہتے۔ لیکن ہم یہ سوچتے کہ آخر بدلا کیا ہے، جو بدلا ہے وہ ڈر ہے۔ بالی ووڈ پر لگاتار حملے ہو رہےہیں ، اس کےپیچھے ایک طے شدہ منصوبہ کے تحت چلایا جانےوالا ایجنڈہ ہو ، جسےاسپانسر کیاجاتاہے۔ اس کے پیچھے سوچ بالی ووڈ کو ان کے اشارے پرنچانے کاہے۔
تاہم، بالی ووڈ صرف اداکار نہیں ہے۔ ہندی فلم انڈسٹری ہزاروں لوگوں کو براہ راست اور بالواسطہ روزگار فراہم کرنے کے لیے جانی جاتی ہے۔ لیکن بی بی سی نے جس قسم کی مہم کا ابھی پردہ فاش کیا ہے، اس سے روزگار کا بھی نقصان ہو رہا ہے۔
انڈین موشن پکچرز پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (آئی ایم پی پی اے) کے سیکریٹری انل ناگ رتھ نے بی بی سی کو بتایا: ’کچھ لوگوں نے جس طرح انڈسٹری کو بدنام کیا ہے، اس سے پروڈیوسرز کے لیے اپنے پروجیکٹ کے لیے رقم اکٹھا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ سے ورکرز کو بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔آخر ہم کیسے جییں گے؟‘
جان کو بھی ہوسکتا ہے خطرہ

افواہوں پر قابو نہ پایا گیا تو معاملہ تشدد تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
صحافی رہ چکی شریمی ورما نے اس بارے میں ایک مثالی دیتےہوئے کہاکہ جب پدماوت ریلیز ہو رہی تھی، تب فلم میں رانی بنیں دیپکا پڈوکون اور علاؤ الدین خلجی کے کردار میں رنویر سنگھ کے درمیان بوسے کےسین کی افواہیں پھیلنے لگیں ،فلم کے سیٹ توڑ دیے گئے، ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کو تھپڑ مارا اور دیپیکا کی ناک کاٹنے کی دھمکی بھی دی۔
خاموش بیٹھنے کی قیمت لگاتار بڑھ رہی ہے ، وہ کہتی ہے ’ میں خطرے کی گھنٹی نہیں بجانا چاہتی، لیکن صورت حال سنگین ہے۔‘ آج کسی بھی شو کی ریلیز سے پہلے پروڈکشن ہاؤس اس بات پر غور کرتےہیں کہ آیا اس میں کوئی قابل اعتراض حقائق ہیں اور کہاں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن یہ سب نہیں ہونا چاہیے۔‘
ہمیں یوٹیوب کی کارروائی سے کوئی فکر نہیں

کئی ہفتوں کے رابطے کے بعد سندیپ ورما نے دہلی میں ہم سے ملنے کا اتفاق کیا۔ اس نے وہاٹس ایپ پر کہا، ’میں اپنی لوکیشن کو خفیہ رکھتا ہوں۔ میرے جیسے لوگوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم ہوٹل میں کمرہ کرائے پر لے سکتے ہیں؟‘ ہم نے ورما سے پوچھا کہ کیا وہ پیسے کے لیے سنسنی خیز اور بے بنیاد ویڈیوز بنا رہے ہیں۔ ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں بالی ووڈ سے نفرت نہیں کرتا لیکن میں اس کی وضاحت چاہتا ہوں۔
وہیں ایک اورانفلوانسر سندیپ پھوگاٹ کا یوٹیوب پر ایک ویریفائڈ چینل ہے، وہ خود کو ’ عام لوگوںکی آواز‘ بتاتے ہیں۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا ان کامواد اس بات پر منحصر ہے کہ انہیں نجی طور پر بالی ووڈ کو کیسے دیکھتے ہیں ۔
انہوں نے ایک ویڈیو کال پر جواب دیا،’میرے دفتر میں جب لوگ دیوالی مناتے ہیں تو ظاہر ہے بالی ووڈ کے گانے چلائے جاتے ہیں۔ لگاتار دو سال تک میں نے شرکت نہیں کی۔ وہ بھی جو شرکت کرتے تھے، جب میں نے ان سے بات کی تو اب۔ وہ اس میں حصہ بھی نہیں لیتے۔
جب ان سے ان کی ویڈیو میں کیے گئے بے بنیاد دعوؤں پر سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ‘جب آپ 2 گھنٹے طویل ویڈیو بناتے ہیں تو اس میں کوئی غلطی ہوسکتی ہے۔جب ان دونوں سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یوٹیوب کی ممکنہ کارروائی سے پریشان نہیں ہیں تو دونوں نے کہا کہ وہ اس سے پریشان نہیں ہیں۔
سندیپ پھوگاٹ نے کہا کہ اگر یہ چینل بند بھی ہو جائے تو میں مزید 10 چینل کھول سکتا ہوں اور بار بار ان چیزوں پر بات کر سکتا ہوں۔
ان میں سے کچھ متاثر کن ایک دوسرے کے یوٹیوب چینلز پر شریک پینلسٹ کے طور پر بھی نظر آتے ہیں۔ ان کے پاس نام نہاد ماہرین کا ایک تالاب ہے۔ یہ ماہرین ایک دوسرے انفلوانسر کے چینل سے دوسرےچینل پر جاتےرہتے ہیں۔ اس سے ان انفلوانسروں اور چینلوں کےدرمیان آپسی تام میل ہونے کا بھی پتہ چلتا ہے۔
یوٹیوب کا کردار

بھارت میں یوٹیوب کے تقریباً 45 کروڑ صارفین ہیں، جب کہ پوری دنیا میںیہ تعداد 2 ارب ہے۔ اس طرح اکیلے اس ملک میں اس کے 22 فیصدی صارفین ہیں ۔ بھارت اس پلیٹ فارم کےسب سے بڑے بازار میں سے ایک ہے۔
ہم نے پایا کہ یوٹیوب نے ان انفلوانسر کو اپنے مواد کے منیٹائزیشن ( مواد سے پیسہ کمانا) کی اجازت دی ہوئی تھی۔
YouTube نے مبینہ طور پر اپنے چینلز کو اشتہارات کی آمدنی میں حصہ دینے کے ساتھ ساتھ بامعاوضہ رکنیت کی اجازت دی ہے۔ ان انفلوانسرکو YouTube کی چیٹ فیچر کے ذریعے رقم کمانے اور اپنے شائقینسے براہ راست اپیل کرنے کی بھی اجازت ہے۔
درحقیقت ایسے انفلوانسر خطرناک قسم کی غلط معلومات پھیلا کر اپنے چینل پر اپنی چیزیں بھی بیچ رہے ہیں۔










