پٹنہ : (ایجنسی)
بہار میں آر جے ڈی کے رویہ سے کانگریس بہت ناراض نظر آرہیہے۔ اسمبلی ضمنی انتخابات کے لیے آر جے ڈی نے دونوں نشستوں پر امیدوار کھڑے کردئے ہے ، جبکہ ان میں سے ایک کیشوراستھان کی سیٹ کانگریس کے کھاتے میں تھی ۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ آر جے ڈی نے بغیر ان کی رضامندی لئے یہ منمانی کی ہے جو اتحاد کے اصول پر عمل نہیں ہے ۔
بہار کانگریس کے صدر مدن موہن جھا نے دی کوئنٹ ہندی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضمنی انتخابات کے حوالے سے آر جے ڈی کے ساتھ دو راؤنڈ کی بات چیت ہوئی تھی۔ لیکن آر جے ڈی نے اسے اہمیت نہ دیتےہوئے دونوں سیٹوں پر خود اپنے امیدواروں کااعلان کردیا۔ اس لئے ہم نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ ہم کیشور استھان اور تارا پور دونوں سیٹوںپر الیکشن لڑیں گے ۔
مدن موہن جھا کے مطابق اب کوئی مہا گٹھ بندھننہیں رہا ، اس لیے دونوں سیٹوں پر آر جے ڈی کے ساتھ تصادم ہوگا۔ ہم نے تو ان کے لیے کیشوراستھان کی نشست نہیں چھوڑی اور نہ ہی ہم نے اس کے امیدوار کے نام پر رضامندی دی ہے۔ لیکن اتوار کو تین بجے تیجسوی یادو نے صرف فون کیا اور بتایا کہ آر جے ڈی دونوں سیٹوں پر امیدواروں کے ناموں کا اعلان کرنے والی ہے۔ میں نے اس فیصلے سے اختلاف کیا اور ہائی کمان کو آگاہ کیا۔
آر جے ڈی کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کے سوال پر کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ سیاست میں ہر آپشن کھلا ہے۔ آر جے ڈی کی طرف سے کانگریس کو کمزور سمجھنے اور پچھلے انتخابات میں کانگریس کے اسٹرائیک ریٹ کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات پر مدن موہن جھا کا کہنا ہے کہ اتحاد میں صرف کسی ایک پارٹی کو نہیں بلکہ سب کو جوابدہ ہونا ہے۔ اگر کوئی جیتا تو وہ گرینڈ الائنس کا امیدوار تھا اور اگر وہ ہار گیا تو وہ گرینڈ الائنس کا امیدوار تھا نہ کہ کسی پارٹی کا۔
کیا آر جے ڈی کنہیا کمار کے کانگریس میں شامل ہونے سے ناراض ہے؟ اس سوال پر کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ میں اندر کا معاملہ نہیں جانتا ، لیکن میں نے آر جے ڈی کے کئی رہنماؤں سے بات کی ہے ، کسی نے اس پر کوئی اعتراض ظاہر نہیں کیااور اگر کوئی کہے کہ وہ کنہیا کو نہیں پہچانتا تو اس میں کوئی جرم نہیں ہے۔ میں خود کانگریس کے بہت سے لوگوں کو نہیں پہچانتا۔










