رامپور( ذیشان مراد علیگ )
کسی زمانے میں رامپور کے سیاسی افق پر آفتاب کی مانند چمکنے والا نواب گھرانہ ایک بار پھر اپنی سیاسی نشاۃ ثانیہ کے لئے بے تاب نظر آ رہا ہے۔ آزاد ہندوستان کے پہلے انتخاب 1952 سے ہی رامپور کی سیاست پر نوابین کا دبدبہ رہا اور عوام کا فیصلہ ان کے اشارے کا منتظر ہوا کرتا تھا۔نوابین کے زیر سرپرستی کانگریس پارٹی کا پرچم رامپور میں ایک طویل عرصے تک لہراتا رہا۔ وقت بدلا اور1977 میں اعظم خاں رامپور کی سیاست میں داخل ہوئے اور نوابین کے سیاسی مرکز نور محل کو للکارا۔ اور آہستہ آہستہ سیاسی چیلنج کی شکل اختیار کر لی۔ 1991 میں نواب ذوالفقار علی خاں المعروف مکی میاں ایک سڑک حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ ان کی بیگم نور بانو اور صاحبزادے نواب کاظم علی عرف نوید میاں نور محل کے سیاسی وقار کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے۔ جس کے بعد رامپور کی سیاست میں اعظم خاں کے رسوخ میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا گیا۔
حالانکہ اس دوران بیگم نور بانو کانگریس کے ٹکٹ پر دو بار رکن پارلیمان منتخب ہوئیں اور نوید میاں بھی مختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندے کے طور پر ایک بار بلاسپور اور چار مرتبہ سوار ٹانڈہ حلقہ سے رکن اسمبلی منتخب ہونے کے ساتھ ہی وزیر مملکت بھی رہے لیکن اعظم خاں کی سیاسی آندھی کے سامنے نور محل کے سیاسی چراغ کی لو میں اضافہ نہیں کر پائے۔ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں اعظم خاں کے فرزند عبد اللہ اعظم خاں نے سوار ٹانڈہ اسمبلی حلقہ سے نواب کاظم علی عرف نوید میاں کو بڑے فرق سے شکست دے کر نور محل کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کا کام کیا۔
گزشتہ دو سال سے اعظم خاں اور عبداللہ اعظم سیتاپور جیل میں قید ہیں۔ اس موقع کو غنیمت جان کر نواب خاندان ایک بار پھر نور محل کی سیاسی نشاۃ ثانیہ کے لئے میدان میں آ گیا ہے۔ گزشتہ روز نواب کاظم علی عرف نوید میاں نے باقاعدہ خاص باغ پیلس میں صحافیوں کو مدعو کرکے رامپور شہر اسمبلی حلقہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کے معتبر قریبی ذرائع سے موصولہ خبر کے مطابق اگر سماجوادی پارٹی سے اعظم خاں یا پھر ان کے اہل خانہ میدان میں اترتے ہیں تو نوید میاں کا فیصلہ تبدیل ہو سکتا ہے۔
غور طلب ہے کہ شہر اسمبلی حلقہ سے اعظم خاں 9 بار منتخب ہوئے ہیں اور اعظم خاں کے رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد اسمبلی سے استعفیٰ کے سبب ہوئے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کر ان کی اہلیہ ڈاکٹر تزئین فاطمہ موجودہ رکن اسمبلی ہیں۔ رامپور کی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔










