اردو
हिन्दी
مئی 6, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اسلام کے نام پر —–

11 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
123
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

فکرو نظر:مفتی محمد اطہر شمسی
گزشتہ دنوں پہلگام میں دہشت گردانہ حملہ کے جواب میں ہندوستان نے پاکستان میں واقع متعدد مسلح تنظیموں کےٹھکانوں پر حملہ کیا ۔ہندوستان نے اس حملہ کا نام آپریشن سندور رکھا ۔ یہ لفظ ہندوستانی تہذیب سے مستعار ہے ۔اس کے برعکس پاکستان نے ہندوستانی افواج اور شہریوں کے خلاف کاروائی کا نام بنیان مرصوص رکھا جو کہ خالص قرآنی اصطلاح ہے ۔( الصف 61:04 ) بنیان مرصوص کے معنیٰ ہیں سیسہ پلائی ہوئی دیوار۔ قرآن میں بنیان مرصوص انسانیت کے دشمنوں سے لڑنے پر مجبور ان اہل ایمان کو کہا گیا ہے جن کی طاقت و اتحاد نا قابل شکست ہو ۔
سیاسی مقاصد کے لیے اسلامی اصطلاحات کا استعمال نہایت غیر صحت مند مزاج ہے۔پاکستان اپنے قیام کے رزو اول سے ہی  اسلامی اصطلاحات کا سیاسی اور فوجی استعمال کرتا رہا ہے ۔1947 میں پاکستان کا قیام اسلام اور مسلمانوں کے نام پر عمل میں آیا ۔تحریک پاکستان کے دوران نعرے لگائے گئے ” پاکستان کا مطلب کیا ، لا الہ الا اللہ ۔7 مارچ 1949 کو پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں پاس ہوئی قرار داد مقاصد میں کہا گیا کہ اقتدار اعلیٰ محض اللہ کے لیے ہے ۔1956 کے آئین میں پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا۔ 1971 میں اپنے ہی بنگالی مسلمان شہریوں کا قتل عام کیاگیا ۔ اس موقع پر لاکھوں بنگالی مسلم خواتین کی عصمت  دری کی گئی اور  حیرت ہے کہ الشمس جیسے گروپ اس لڑائی کوجہادبتاتےاورافواج پاکستان کےشانہ بہ بشانہ لڑتےرہے۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں جہاد ، مجاہد ، شہید جیسے قرآنی الفاظ کا سیاسی استعمال عام ہو گیا ۔ اسلامی اصطلاحات کی  سیاسی تشریح کس طرح  پاکستان کے نصاب میں شامل کی گئی ، اس کی تفصیل معروف پاکستانی مؤرخ کے کے عزیز کی کتاب Murder of History میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ان نصابی کتابوں کے ذریعہ پاکستان میں ہندوستان کے خلاف نفرت  کو نارملائز کیا گیا۔ 1999 میں کارگل جنگ کو بھی جہاد کہا گیا۔
اُمت اور ملت کو پاکستانی نیشنل ازم کے ہم معنی قرار دیا گیا ۔جبکہ قرآن کے مطابق اُمت وہ بین الاقوامی ادارہ ہے جو بلا تفریق مذہب تمام انسانیت کا خیر خواہ ہو۔ ( آل عمران 3:110) اسی طرح ملت صراط مستقیم پر چلنے کا نام ہے جو ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ ہے ۔(  الانعام 6:161)۔ان اصطلاحات کا کوئی تعلق موجودہ سیاسی مقاصد سے نہیں ہے ۔
ہندوستان میں  بے قصور شہریوں پر ہونے والے حملوں کو بھی پاکستان میں جہاد سمجھا جاتا ہے ۔جبکہ قرآن کے مطابق مسلح جہاد ایک خالص دفاعی لڑائی کا نام ہے جس کی اجازت انہیں لوگوں کو دی گئی ہے جن کے خلاف جنگ چھیڑ دی گئی ہو ۔ ( الحج 22:39) جہاد کا کوئی تعلق سرحدوں کی توسیع یا سیاسی عزائم کی تکمیل کے  لیے لڑی جانے والی جنگ سے نہیں ہے ۔پاکستان میں جو مسلح افراد ہندوستانی افواج کے ہاتھوں مارے جائیں انہیں بلا جھجھک شہید قرار دیا جاتا ہے ۔جبکہ قرآن میں شہید ان اہل ایمان کو کہا گیا ہے جو اپنے  کردار کے ذریعہ ہمیشہ حق اور انصاف کی گواہی دیں ( البقرۃ 2:143) . قرآن میں خود اللہ کو بھی شہید کہا گیا ہے کیونکہ وہ گواہ ہے ( الانعام 6:19 ) .کوئی ملک جب اپنے فوجیوں کو شہید کہتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے اس ریاست کا شہید۔ لیکن پاکستان کا کوئی فوجی یا شہری جب ہندوستانی افواج سے لڑتے ہوئے مارا جائے تو اسے ایک مذہبی اور اسلامی شہید بھی تصور کیا جاتا ہے ۔
سوال یہ بھی ہے کہ آپریشن بنیان مرصوص اگر قرآنِ کے الفاظ میں واقعی سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھی تو وہ ہندوستانی افواج کے سامنے اتنی جلدی منہدم کیوں ہو گئی؟ فوجی کارروائی روکنے کے لیے پاکستان کو ہندوستان سے اپیل کیوں کرنی پڑی ؟آپ کا ایئر ڈیفنس سسٹم ہندستانی فضائیہ کے مقابلہ میں کیوں نا کام ہو گیا ؟ یہ کیسی” بنیان مرصوص” تھی جسے خود اپنے بچاؤ کے لیے عام شہری پروازوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا پڑا ؟ یہ کون سی ” بنیان مرصوص ” تھی جو کشمیر میں نہتے مسلمانوں پر ہی گولہ باری کر کے انہیں قتل کر رہی تھی  ؟۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور اسلامی اصطلاحات پاکستان کے لیے محض اپنے سیاسی مفادات کے حصول کا ذریعہ ہیں ۔حیرت اور افسوس کا مقام تو  یہ ہے کہ بعض استثناء کو چھوڑ کر علماء پاکستان عام طور پر ریاست پاکستان کے اس جرم پر یا تو خاموش رہتے ہیں یا پھر جرم میں شریک ہوتے ہیں ۔ علماء پاکستان کا یہی وہ رویہ ہے جسے سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے اپنی کتاب Pakistan: Between Millitary and Mosque میں نہایت تفصیل سے بیان کیا ہے۔
پاکستان کے ذریعہ اسلامی اصطلاحات کے غلط استعمال کا نتیجہ براہ راست طور پر ہندوستانی مسلمانوں کو بھگتنا پڑتا ہے ۔پاکستان اسلامی اصطلاحات کا استعمال اپنے سیاسی اور فوجی مقاصد کے لیے کرتا ہے ۔اصطلاحات ایک ہونے کی وجہ سے ہندوستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ یہاں کے مسلمانوں کو بھی پاکستان کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے لگتا ہے ۔بسا اوقات ہندوستانی مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے.اُن میں ایک قسم کا احساس کمتری جڑیں پکڑ رہا ہے ۔ خود کو غلط سمجھ لیے جانے کا ڈر ہندوستانی مسلمانوں کے ذہن کا حصہ بن چکا ہے ۔جس کی وجہ سے وہ ملک کی ترقی میں بھرپور اور مطلوب کنٹری بیوشن نہیں دے پا رہے ہیں۔ Stuart Hall کے الفاظ میں ہندوستانی مسلمانوں کو ان آئیڈیالوجی اور اعمال کے لیے جواب ده ہونا پڑتا ہے جن کی انہوں نے کبھی حمایت نہیں کی ۔
ہندوستانی مسلمانوں کی اس ذہنی و فکری پسپائی کے لیے سب سے زیادہ ذمہ دار ریاست پاکستان ہے ۔وقت آ گیا ہے کہ ہائی جیک کی گئی اسلامی اصطلاحات کو  اب پاکستان کے اثرات سے آزاد کرایا جائے ۔دنیا کو بتایا جائے کہ پاکستان اور اسلام ایک نہیں ہیں ۔پاکستان اور اسلام کو ایک سمجھ لیے جانے کی غلطی عرب دنیا اور اسلامی دنیا سے ہمارے تعلقات کو کمزور کر سکتی ہے ۔یہ غلطی ملک کی دو بڑی کمیونیٹی کے درمیان تعلقات کو بھی متاثر کر سکتی ہے ۔ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اسلام وہ ہے جو قرآن میں ہے نہ کہ وہ جو پاکستان میں ہے ۔ریاست پاکستان کو بھی یہ بات بخوبی طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ اگر اسے ہندوستان سے لڑائی جاری رکھنی ہے تو وہ اپنے دم پر ایسا کرے ۔اپنی جنگ اسلام کے کاندھوں پر ڈالنا ایک اخلاقی بزدلی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔اسلام اور ہندوستانی مسلمان آپ کی اس جنگ سے پوری طرح بری ہیں ۔(مضمون نگار القرآن اکیڈمی کیرانہ کے ڈائریکٹر ہیں)

ٹیگ: islam ke nam oet

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN