نئی دہلی : (ایجنسی)
چیف آف ڈیفنس اسٹاف ( سی ڈی ایس ) جنرل بپن راوت کے مطابق طالبان نے جس تیز رفتار ی سے افغانستان پر قبضہ کیا اس سے بھارت بھی حیران ہے۔ بدھ کوایک پروگرام کے دوران جنرل راوت نے اعتراف کیاکہ بھارت کو بھی یہ خدشہ تھا کہ طالبان ایک دن افغانستان پر قابض ہوجائے گا، لیکن یہ سب اتنی تیزی سے ہو جائے گا ،یہ نہیں سوچا تھا۔ ان کے مطابق 20 سال بعد بھی طالبان بالکل نہیں بدلا ہے ۔
بھارت سختی سے نمٹے گا
دہلی میں آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن ( او آر ایف ) کے پروگرام میں جنرل راوت کے ساتھ یو ایس انڈو – پیسیفک کمانڈ کے ایڈمرل جان اکیلینو بھی شامل ہوئے ۔ دونوں افسران نے افغانستان اور ریجنل سکیورٹی سے جڑے اہم سوالات کے جواب دئے۔ افغانستا پر طالبان کے قبضے اور اس کے بھارت پر ممکنہ اثر کا ذکر کرتے ہوئے جنرل راوت نے کہا کہ اگر طالبان کے کنٹرول والے افغانستان سے بھارت کی طرف کسی بھی طرح کی دہشت گردانہ سرگرمیاں ہوئیں تو ہم تیزی اور سختی سے کارروائی کریں گے ۔ کواڈ ممالک کو بھی عالمی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہوگا ۔
بتادیں کہ کواڈ چار ممالک کی تنظیم ہے۔ اس میں بھارت ، امریکہ ، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ چین اسے بحر ہند میں اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ اور فوجی چیلنجمانتا آیا ہے ۔
ایڈمرل اکیلینو نے چین کا نام لیے بغیر تسلیم کیا کہ بھارت لائن آف ایکچول کنٹرول پر چیلنج کا سامنا کررہا ہے اور جنوبی چین سمندر میں بھی کئی چیلنجز ہیں۔ انہوں نے فری نیوی گیشن پر زور دیا۔ ایڈمرل جان نے ہانگ کانگ میں چین کے رویے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
وہیں جنرل راوت نے کہاکہ بھارت اس خطے کو دہشت گردی سے پاک بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو خدشہ ہے کہ افغانستان کی صورتحال کا ہمارے ملک پر بھی اثر پڑ سکتا ہے اور بھارت اس سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کر رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں راوت نے کہا کہ طالبان 20 سال بعد بھی بالکل نہیں بدلا ہے۔ ان کے پارٹنر ضرور بدل دئے ہیں ۔ یہ وہی طالبان ہے جو 20 سال پہلے تھا ۔اب نئے اتحادیوں کے ساتھ سامنے آیا ہے ۔ راوت کا اشارہ ان رپورٹس کی تصدیق سمجھا جاسکتا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی دہشت گرد تنظیمیں لشکرطیبہ اور جیش محمد افغانستان میں طالبان کی مدد کررہے ہیں ۔








