اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ‘بچوں اور مسلح تصادم‘ کے متعلق اپنی تازہ ترین رپورٹ پر پیر کے روز بحث کے دوران بھارت سے اپیل کی کہ جموں و کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران بچوں پر پیلٹ گن کا استعمال نہ کیا جائے۔
خبر رساں ایجنسی ڈی ڈبلیو کے جاوید اختر کی رپورٹ میں کہا گیاہےکہ بھارت سے یہ اپیل بھی کی گئی ہے کہ وہ بچوں کو کسی بھی طرح سے سیکورٹی فورسز سے منسلک نہ کرے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ بھارت بچوں کو کس طرح سے سیکورٹی فورسز کے ساتھ منسلک کر رہا ہے۔
اس رپورٹ میں بھارت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال جموں و کشمیر میں کل 39 بچے (33 لڑکے، 6 لڑکیاں) تشدد سے متاثر ہوئے، ان میں سے 9 ہلاک اور 30 معذور ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق پیلٹ گنوں سے کم از کم گیارہ بچے زخمی ہوئے۔ اس رپورٹ میں سیکورٹی فورسز اور نامعلوم مجرمان کی جانب سے تشدد، دھماکا خیز مواد سے ہونے والے زخمیوں، نامعلوم گروہوں اور بھارتی سیکورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ، نامعلوم مسلح گروپوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ اور دستی بم حملے اور سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری کا ذکر بھی شامل ہے۔
بھارت کا ردعمل

بھارت نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے ریمارکس پر اعتراض کیا ہے۔ بھارت کے خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرنگلا نے سلامتی کونسل میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ یہ ‘بچوں اور مسلح تصادم‘ کے ایجنڈے کو مخصوص سیاسی رنگ دینے کی کوشش ہے۔
شرنگلا کا کہنا تھا،”سلامتی کونسل کے واضح ہدایات کے باوجود ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ سکریٹری جنرل کی رپورٹ میں وہ الزامات شامل کیے گئے ہیں جو مسلح تصادم کے حالات سے یا بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کو لاحق خطرات سے متعلق نہیں ہیں۔‘‘
بھارتی خارجہ سکریٹری کا مزید کہنا تھا،”ہمیں ایجنڈے کو مخصوص سیاسی رنگ دینے کی کوشش سے گریز کرنا چاہیے۔ ہمیں بین الاقوامی امن اور سلامتی اور مسلح تصادم میں بچوں کو لاحق حقیقی خطرات کی طرف سے توجہ بھٹکانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔
اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان، شام اور کانگو جیسے جنگ زدہ علاقوں میں گزشتہ برس تقریباً انیس ہزار تین سو نو عمروں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا گیا۔










