اردو
हिन्दी
فروری 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

تجارتی دباؤ اور نظریاتی غلامی کے شکنجے میں جکڑا ہندستانی میڈیا: تجزیہ:افتخار گیلانی

8 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
75
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تقریبا تین دہائیوں تک ہندوستان کے مین اسٹریم میڈیا کا حصہ رہنے کے بعد اس کی تنزلی کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔حالیہ ہندوپاک کشیدگی کے دوران جھوٹی خبروں کی یلغار کرکے ہندوستانی میڈیا  نے ایسے منظرنامے کی تصویر کشی کی  جو تجارتی دباؤ، نظریاتی غلامی، اور نمائشی تماشے کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ دنیا کے کئی میڈیا اداروں نے حالیہ دنوں میں اندرونی ایڈوائزیز جاری کرکے اپنے صحافیوں کو ہندوستانی میڈیا کا حوالہ دےکر خبریں فائل کرتے وقت انتہائی محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔صحافی ہونے کے علاوہ میں ہندوستان میں میڈیا سے متعلق کئی اداروں سے بھی وابستہ رہا ہوں۔ پارلیامنٹ کی پریس ایڈوائزری کمیٹی کا ڈپٹی چیئرمین، سینٹرل پریس ایکریڈیٹیشن کمیٹی کا ممبر پریس کونسل کے ساتھ وابستگی کے علاوہ میں نے برکس میڈیا فورم میں ہندوستان کی نمائندگی بھی کی
اس کے علاوہ پریس کلب آف انڈیا، پریس ایسوسی ایشن اور دہلی یونین آف جرنلسٹس کا بھی عہدیدار رہا ہوں۔ان تجربات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ ہندوستان میں کبھی بھی میڈیا ایک آزاد اور خود مختار ادارہ نہیں تھا، مگر آزادی کی ایک ظاہری اور موہوم شکل موجود تھی۔
میڈیا کو  جمہوریت کا چوتھاستون تو کہا جاتا ہے، مگر اس کو چلانے والے صحافیوں یا نان-صحافیوں کے نان و نفقہ کا کوئی ڈھانچہ کبھی بھی کھڑا نہیں ہو پایا ہے۔ پہلے تین ستون یعنی پارلیامنٹ، ایگزیکٹو، عوامی ٹیکس کے دم پر ایک سسٹم کے تحت چلتے ہیں  ۔ مگر میڈیا جیسے اہم شعبہ کو اشتہاری اور تجارتی اجارہ داری کے مگرمچھ کے حوالے کردیا گیا ہے۔ہندوستان میں اس وقت ایک لاکھ پچاس ہزار کے قریب اخبارات شائع ہوتے ہیں، اس کے علاوہ ملک کے طول و عرض میں  850 سے زائد ٹی وی نیوز چینلز ہیں۔ہندوستان میں اشتہاری معیشت کا حجم نوسو بلین کے لگ بھگ ہے۔ یہ معیشت اس وسیع میڈیا کو سنبھال نہیں سکتی ہے۔ دیکھا جایے تو میڈیا کی آمدن کا کوئی پائیدار ماڈل موجود ہی نہیں ہے۔ اس پر طرہ کہ ٹی آر پی نظام  شفافیت سے مبرا ہے۔
ہندوستان کے ایک سابق وزیر اطلاعات و نشریات منیش تیواری کے بقول اس خامی سے ہی سنسنی خیزی کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے، جس کو مقابلہ جاتی غیرذمہ داری کا بھی نام دیا گیا ہے۔  جب پورا نظام ہی اشتہارات اور ٹی آر پی پر منحصر ہو، تو سچ کی ہی سب سے پہلے قربانی دی جائےگی۔اس کے علاوہ ہندوستان میں میڈیا ملکیت کا پیٹرن بھی اس کا ذمہ دارہے۔ جنوبی ہندوستان کے بنگلور میں دکن ہیرالڈ گروپ کے علاوہ باقی سبھی قومی میڈیا کے ادارے ایک مخصوص طبقہ یعنی بنیا یا ویشیہ کی ملکیت ہیں۔ ان کے دیگر کاروبار ہیں ۔
ہندوستان ٹائمز کے مالکان ہندوستان موٹرس اور کئی دیگر کمپنیاں چلاتے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کے مالکان دالمیا گروپ آف انڈسٹریز کے بھی مالکان ہیں۔ زی نیوز، ویان اور ڈی این اے کے مالک سھاش چندرا نامی گرامی بلڈر ہونے کے ناطے ایس ایل گروپ کے مالک ہونے کے علاوہ تیس سے زائد کمپنیوں کے مالک ہیں۔ ان کمپنیوں کے مقابلے میڈیا ادراوں سے ان کو نہایت ہی کم منافع حاصل ہوتا ہے، چند ادارے تو نقصان میں ہی چلائے جاتے ہیں۔ مگر وہ اس کو اپنی طاقت کے بطور استعمال کرکے دیگر بزنس اداروں کےلیے اکثر و بیشتر مراعات حاصل کرتے ہیں۔
میڈیا کے زوال کی تاریخ کا اگر جائزہ لیا جائے، تو پتہ چلتا ہے کہ قومی سلامتی کے حوالے سے ہندوستانی میڈیا میں ہمیشہ ہی حکومت کے ورژن کو ہی حرف آخر تصور کیا جاتا رہا ہے۔ مگر پھر بھی کسی وقت رگ صحافت پھڑک ہی جاتی تھی۔ کرگل جنگ کے وقت مجھے یاد ہے  کہ انڈیا ٹوڈے کی ہریندر باویجا نے وہاں ناگا بریگیڈ کے کیمپ کے گیٹ پر پاکستانی سپاہیوں کے سروں کو بطور وار ٹرافی لٹکانے کی واردات کو رپورٹ کیا تھا۔ اس کے بعد ایک عرصہ تک ان کو کرگل جانے سے منع کر دیا گیا تھا۔ مگر اس کےلیے انہوں نے اپنے صحافتی اقدار کا سودا نہیں کیا۔ جبکہ اس کو رپورٹ کرنے کی سختی سے ممانعت کی گئی تھی۔کم و بیش بڑی حد تک اس جنگ کی رپورٹنگ متوازن ہی تھی۔ لیکن 2014 کے بعد خوف، نظریاتی جبر، اور تجارتی دباؤ نے ادارتی آزادی کو نگل لیا ہے۔جس سے  آج کا میڈیا دراصل ‘پرفارمیٹو جرنلزم’بن گیا ہے ۔
یہاں تک کہ نیٹ فلکس جیسے عالمی پلیٹ فارم بھی اب ہندوستان میں خود کو سینسر کر رہے ہیں۔ کوئی نہیں کہتا، مگر خوف اندر تک بیٹھ گیا ہے۔ہر سانحہ، ہر خبر، جھوٹ کے سرکس میں کھو جاتی ہے۔ یہ صحافت نہیں، ایک تماشہ سا بن گیا ہے، جس سے ہم سب کی معتبریت مجروح ہو گئی ہے۔بین الاقوامی سطح پر ہندوستانی میڈیا کی ساکھ اس قدر متاثر ہو چکی ہے کہ  اس کا نقصان سب سے پہلے حکومت کو  ہی عالمی سطح پر اٹھانا پڑ رہا ہے۔ کل جماعتی وفد جو سفارتی مشن پر مختلف ممالک کے دورہ  پرہے، کو یہ ادراک ہو رہا ہے کہ میڈیا نے ملک کی کس قدر سبکی کی ہے۔
تیواری کے مطابق، دو ہزار سات  میں  کانگریس کی زیر قیادت یو پی اے حکومت نے میڈیا ریگولیشن کا بل لانے کی کوشش کی، مگر میڈیا ہاؤسز نے شدید مزاحمت کی۔ انہیں ریاستی کنٹرل سے نہیں بلکہ کسی بھی کنٹرول سے پرہیز تھا۔ انہوں نے سیلف ریگولیشن کی وکالت کی، جس کی آئے دن دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ جب تک  اشتہارات کے کیبل ایکٹ کی طرز پر اس سیلف ریگولیشن کو کسی قانونی دائرہ میں نہیں لایا جاتا ہے، تب تک اس کا وجود ہی بے معنی ہے۔ہندوستانی جمہوریت ایسے میڈیا ہاؤسز بنانے میں ناکام رہی ہے جو کاروباری مفادات سے آزاد ہوں۔ یہی ہندوستانی جمہوریت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
بنیے کا میڈیا آزاد معیشت اور ہندو تو نظریہ کو ضم کر چکا ہے۔ اب حکومت کو کچھ کرنے کی ضروت ہی باقی نہیں رہ گئی ہے۔  صحافت کو پیشہ ورانہ بنانے کی ہر کوشش کو میڈیا گروپس نے خود ناکام بنایا ہے، کیونکہ اب وہ خود ہی صحافتی اسکول بھی چلاتے ہیں اور معیار بڑھانے میں ان کو کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔
اگر ایک صحافی کی ضرورت ہے، تو اس کےلیے بیس کو ایڈمیشن دیتے ہیں، تاکہ مارکیٹ میں ان کی کثرت رہنے سے مسابقت رہے اور ان کو زیادہ تنخواہیں نہ دینا پڑیں۔
پاکستان کے ساتھ حالیہ جنگ میں بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی طرف سے باضابطہ کوئی ہدایات نہیں تھیں۔ فوج کے سربراہ کا بھی کہنا تھا کہ اس نازک وقت میں ان کا پندرہ فی صد وقت غلط خبروں سے نمٹنے میں صرف ہوا۔
پاکستانی شہر ہندوستانی فوج کے قبضے میں آ گئے، یا اعلیٰ افسران ملک چھوڑ گئے، یہ نہ تو سرکاری بیانات تھے، نہ ہی کسی معتبر ذرائع سے تصدیق شدہ۔ یہ دعوے خود میڈیا اداروں نے گھڑے تھے۔ اور یہ زیادہ خطرناک ہے۔
جنگی جنون اور حالیہ مس انفارمیشن ایک پیٹرن کا حصہ ہے ، جس میں ، اقلیتوں کے خلاف نفرت، اور سرکاری بیانیے کی اندھی تکرار اور اس سے بھی آگے جاکر شاہ کی وفاداری میں مسابقت کرنااب  ایک معمول ہے۔
چونکہ میڈیا کے حالیہ رویہ سے ملک اور حکومت کی سب سے زیادہ سبکی ہوگئی ہے اور بین الاقوامی طور پر ہندوستان کا بیانیہ کتنا ہی سچا کیوں نہ رہا ہو، پٹ گیا ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ میڈیا کے اصلاحات کا بیڑا اٹھایا جائے۔ ایک بڑی جمہوریت ہونے کے ناطے یہ خطہ نے دیگر ممالک کےلے بھی مشعل راہ ہوسکتے ہیں۔
نہ صرف میڈیا کی ملکیت کے حوالے سے شفافیت ہونی چاہیے بلکہ کراس ہولڈنگ پر بھی پابندی ہو۔ جو براڈکاسٹر ہے، وہ پروڈیوسر نہ ہو۔ ایک آزاد میڈیا کونسل کی بھی اشد ضرورت ہے، جو خود مختار اور سبھی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ادارہ ہو۔ اس میں کسی ایک پارٹی کا غلبہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ادارہ ہمہ وقت معیار، اشتہارات کی نگرانی کے علاوہ احتساب کا بھی کام کرے۔
کئی میڈیا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دو ہزار چودہ کے بعد میڈیا نے جس طرح کی مثال قائم کی ہے، اگر وزیر اعظم مودی کی حکومت اقتدار سے باہر بھی ہو جاتی ہے، توبھی آئندہ آنے والی حکومتوں  کےلیے بھی ایک نظیرقائم کی گئی ہے۔ وہ بھی میڈیا کی اسی طرح کی تابعداری کی توقع کریں گے اور اگر کوئی ادارہ اس سے انکار کرےگا تو اس کو اسی طرح بھگتنا پڑے گا۔
دی وائر کی ایڈیٹر سیما چشتی نے حال ہی میں معروف قانون دان کپل سبل کے ایک پروگرام میں کہا کہ سیاست دانوں نے سیکھ لیا ہے کہ میڈیا پر جتنا دباؤ ڈالو وہ اتنامطیع رہےگا۔  اب  کوئی بھی پاور میں آئےگا تو وہ جمہوریت کے اس چوتھے ستون کو غلام بنانے پر پورا زور صرف کرےگا۔
اندرا گاندھی کے ذریعے ایمر جنسی لگانے کے بعد 1977 میں جب ایل کے اڈوانی وزیر اطلاعات و نشریات مقرر ہوئے، تو انہوں نے ہندوستانی میڈیا پر طعنہ کستے ہوئے کہا کہ ان کو رکوع کرنے کےلیے کہا گیا  تھا مگر وہ پیٹ کے بل لیٹ گئے۔ موجودہ میڈیا کے حوالے سے اب کیا کہا جاسکتا ہے۔ وہ لیٹنے کے عمل کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔
سبل کے مطابق یہ صرف میڈیا کا نہیں، بلکہ جمہوریت کے وجود کا مسئلہ ہے۔ جب سچ کی جگہ جھوٹ، اور احتساب کی جگہ تماشا لے گا، توملک ایک ہیجان زدہ قوم کا مسکن بن جائےگا، جو پورے خطے کےلیے خطرناک اور پریشان کن صورتحال ہے۔
ہندوستان کا میڈیا ایک باخبر عوام کے بجائے قوم کو ایک ہیجان زدہ جنونیوں کے قالب میں ڈھالتا جا رہا ہے۔دنیا بھر کے ذی ہوش اور ذی حس افراد کو اس کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔

ٹیگ: Indian media،trapped،commercial pressure،ideological slavery،

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Power Decline Political Narrative
مضامین

اقتدار کا ڈھلتا سورج اور ٹوٹتا ہوا بیانیہ!

07 فروری
Muslims Shudra Category Campaign
مضامین

شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم،

02 فروری
AIMIM BJP Muslim Issues
مضامین

مجلس والے بی جے پی کو مسلمانوں کے خلاف نئے نئے ایشو تھمارہے ہیں!

31 جنوری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
World News Brief

عالمی خبریں: اختصار کے ساتھ

جنوری 28, 2026
Urdu Language and Unani Medicine NEP 2020

قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں اردو زبان اور یونانی طب

جنوری 28, 2026
Jamiat Ulema-e-Hind Freedom Role

جمعیتہ علمائے ہند کو آزادی کی تاریخ میں جگہ کیوں نہیں ملی؟

جنوری 31, 2026
AI Quran Tafsir Prohibited

مصنوعی ذہانت (AI) سے قرآن پاک کی تفسیر شرعاً ممنوع :مصری دارالافتاء

جنوری 28, 2026
Jamaat Allies Failure Analysis Bangladesh

شیخ حسینہ سرکار کو اکھاڑ پھینکنے والی جماعت اسلامی و اتحادی کہاں چوک گئے؟ ایک تجزیہ

Bangladesh Election BNP Majority Result

بنگلہ دیش انتخابات: بی این پی کو دو تہائی اکثریت ، جماعت اسلامی نتائج کے عمل سے غیر مطمئن

Madani Trust Land Probe Row

اتراکھنڈسیاسی کھیل: مولانا محمود مدنی کے ٹرسٹ اراضی معاملہ کی انکوائری شروع، یونیورسٹی کے لیے زمین لی پھر ٹکڑوں میں بیچ دی؟

Malik Muttasim Khan Resistance Statement

سرینڈر نہیں ائینی،قانونی اور جمہوری راستوں سے فکری وعملی مزاحمت دکھانی ہوگی: ملک معتصم خان

Jamaat Allies Failure Analysis Bangladesh

شیخ حسینہ سرکار کو اکھاڑ پھینکنے والی جماعت اسلامی و اتحادی کہاں چوک گئے؟ ایک تجزیہ

فروری 14, 2026
Bangladesh Election BNP Majority Result

بنگلہ دیش انتخابات: بی این پی کو دو تہائی اکثریت ، جماعت اسلامی نتائج کے عمل سے غیر مطمئن

فروری 13, 2026
Madani Trust Land Probe Row

اتراکھنڈسیاسی کھیل: مولانا محمود مدنی کے ٹرسٹ اراضی معاملہ کی انکوائری شروع، یونیورسٹی کے لیے زمین لی پھر ٹکڑوں میں بیچ دی؟

فروری 13, 2026
Malik Muttasim Khan Resistance Statement

سرینڈر نہیں ائینی،قانونی اور جمہوری راستوں سے فکری وعملی مزاحمت دکھانی ہوگی: ملک معتصم خان

فروری 13, 2026

حالیہ خبریں

Jamaat Allies Failure Analysis Bangladesh

شیخ حسینہ سرکار کو اکھاڑ پھینکنے والی جماعت اسلامی و اتحادی کہاں چوک گئے؟ ایک تجزیہ

فروری 14, 2026
Bangladesh Election BNP Majority Result

بنگلہ دیش انتخابات: بی این پی کو دو تہائی اکثریت ، جماعت اسلامی نتائج کے عمل سے غیر مطمئن

فروری 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN