اردو
हिन्दी
مارچ 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

افراط زر اور آر بی آئی کی مانیٹری پالیسی

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
افراط زر اور آر بی آئی کی مانیٹری پالیسی
31
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

سراج الدین فلاحی
2016 میں ملک کے سینٹرل بینک RBI نے مالیاتی امور کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیٹی وضع کی جس کا نام مونیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) ہے۔یہ کمیٹی ہر دو ماہ کے بعد مالیاتی کارکردگیوں کا جائزہ لے کر اپنی رپوٹ پیش کرتی ہے اور معاشی پالیسی بناتی ہے۔ کمیٹی کے مطابق ملک کے اندر افراط زر یعنی مہنگائی (Inflation) دو سے چھ فیصد کے درمیان ہونی چاہیے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ مہنگائی اگر دو فیصد سے کم رہتی ہے تو یہ صورت حال انڈیا جیسے کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لئے بھیانک تصور کی جاتی ہے کیونکہ اس سے GDP کا گروتھ رک جاتا ہے۔ اور جب یہ چھ فیصد سے زیادہ ہو جاتی ہے تو کرنسی کی ویلیو کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے زیادہ پیسے دے کر کم سامان ملتے ہیں نتیجتا ایکسپورٹ گر جاتا ہے اور اس کے بعد فارن ایکسچینج کا مسئلہ پیدا ہونے لگتا ہے۔ چنانچہ یہ بھی معیشت کے لئے کسی وبال جان سے کم نہیں ہے۔ معیشت سے متعلق خبروں پر نظر رکھنے والے لوگ جانتے ہوں گے کہ حال ہی میں منسٹری آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے Inflation یعنی مہنگائی کا آنکڑا جاری کیا ہےجس کے مطابق مارچ 2021 میں مہنگائی در 7.39 فیصد ہو گئی ہے۔ یعنی گذشتہ سال جس سامان کو آپ 100 روپیہ میں خریدتے تھے اب وہ آپ کو 107.39 روپیہ میں مل رہا ہے۔ یہ گذشتہ آٹھ سالوں میں مہنگائی کی سب سے اونچی سطح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مہنگائی مونیٹری پالیسی کی بیش ترین سطح سے بھی زیادہ ہے۔ مہنگائی کی اس بلند ترین شرح میں خوراک اورتوانائی کی مہنگائی کا بنیادی کردار ہے۔ اس مہنگائی نے عام لوگوں کی زندگیوں پر بہت برا اثر ڈالا ہے۔ملک کی GDP کے ریکارڈ سطح تک گرنے کے بعد اب مستقبل قریب کے تعلق سے ماہرین معاشیات طرح طرح کے خدشے ظاہر کر رہے ہیں۔ سی لئے کووڈ وبا کی موجودہ ہنگامی صورت حال میں جب مستقبل قریب میں گروتھ کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آتاحکومت کو اشیاء ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں اور معاشی چیلینجز سے نمٹنا کسی بڑے امتحان سے کم نہیں ہے۔ موجودہ مالیاتی سال 2021-22 میں مونیٹری پالیسی کمیٹی کی پہلی رپوٹ آ چکی ہے۔ مہنگائی کے مدنظر امید کی جارہی تھی کہ کمیٹی ریپو (Repo Rate) اور ریورس ریپو ریٹ(Reverse Repo Rate) بڑھائے گی جو پہلے ہی بالترتیب 4 فیصد اور 3.35 فیصد تھا۔ تاہم ایسا نہیں ہوا۔4 فیصد ریپو ریٹ اور 3.35 فیصد ریورس ریپو ریٹ بہت کم مانا جاتا ہے۔ قبل اس کے کہ ہم مہنگائی کا ریپو ریٹ اور ریورس ریپو ریٹ سے تعلق بیان کریں پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ بہت زیادہ دباؤ کے باوجود RBI نے ریپو ریٹ نہیں بڑھایا۔ RBI کا کہنا ہے کہ جب تک ہماری معیشت جو مندی کا شکار تھی اس سے نکل نہیں جاتی اس وقت تک ہم اسے نہیں بڑھائیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ لون سستا ہو گا تو لوگ لون لے کر انویسٹ کریں گے اور معیشت مندی سے نکل جائے گی۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ریپو اور ریورس ریپو ریٹ کا مہنگائی سے کیا تعلق ہے۔ ریپو ریٹ وہ شرح سود ہے جس پر RBI کمرشیل بینکوں کو مختصر مدتی لون دیتا ہے۔ یا کمرشیل بینک اپنے Liquidity Status کو درست کرنے کے لئے RBI سے لون لیتے ہیں۔ جب معیشت میں افراط زر (Inflation) کی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو RBI ریپو ریٹ بڑھا دیتا ہے جس کی وجہ سے لون لینا مہنگا ہو جاتا ہے۔ مہنگے لون کی وجہ سے اس کی ڈیمانڈ کم ہو جاتی ہے لہذا معیشت میں منی سپلائی کم ہو جاتی ہے۔ منی سپلائی کم ہونے کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید (Purchasing Power) کم ہو جاتی ہے اور جب قوت خرید کم ہوتی ہے تو اشیاء اور خدمات کے لئے ڈیمانڈ بھی کم ہو جاتی ہے نتیجتا افراط زر کنٹرول میں آ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب معیشت میں قلت زر (Deflation) کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو RBI ریپو ریٹ کم کر دیتا ہے جس کی وجہ سے لون سستا ہو جاتا ہے۔ سستا لون منی کی ڈٖیمانڈ میں اضافہ کا سبب بن جاتا ہے۔ جب معیشت میں منی کا فلو بڑھتا ہے تو قوت خرید بڑھتی ہے لہذا اشیاء اور خدمات کی ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے اور قلت زر کا مسئلہ کم ہو جاتا ہے۔ ریورس ریپو ریٹ اس شرح سود کو کہتے ہیں جس پر RBI کمرشیل بینکوں سے لون لیتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اسے ایسے سمجھیں کہ جب کمرشیل بینکوں کے پاس لون دینے کے بعد پیسہ بچ جاتا ہے تو وہ اسےRBI کے پاس رکھ دیتے ہیں اور سود لیتے ہیں۔ معیشت میں منی سپلائی یا افراط زر (Inflation) کو کم کرنے کے لئے RBI ریورس ریپو ریٹ کو بڑھا دیتا ہے چنانچہ کمرشیل بینک زیادہ سود کی لالچ میں مرکزی بینک کے پاس زیادہ فنڈ رکھنے لگتے ہیں۔ یہ عمل کمرشیل بینکوں کے لون دینے کی قوت کو گھٹا دیتا ہے نتیجتا وہ عوام کو لون نہیں دے پاتے۔ اس طرح معیشت میں پیسے کا فلو کم ہو جاتا ہے۔ قلت زر (Deflation) کی حالت میں RBI ریورس ریپو ریٹ کم کر دیتا ہے۔ کمرشیل بینک اپنا فنڈ RBI کے پاس نہ رکھ کر عوام کو دیتے ہیں۔ منی سپلائی بڑھ جاتی ہے اور قلت زر کی صورت حال ختم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ موجودہ صورت حال میں اگر حکومت ریپو ریٹ بڑھاتی ہے تو منی کا فلو کم ہو جائے گا جس کی وجہ سے GDP گروتھ پر منفی اثر پڑے گا۔ اس کے برعکس اگر ریپو ریٹ کم کرتی ہے تو معیشت میں پیسے کا فلو بڑھ جائے گا جس کی وجہ سے مہنگائی بڑھ جائے گی۔ یعنی سرکار کے آگے کنواں اور پیچھے کھائی والا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ دھیان رہے کہ اگر مہنگائی زیادہ ہوتی ہے توشرح سود منفی ہو جاتا ہے۔مطلب اگر آپ اپنا پیسہ بینک میں جمع کر رہے ہیں اور وہاں شرح سود 4 فیصد ہے اور اگر معیشت میں مہنگائی 7 فیصد ہے تو آپ کو 3 فیصد کا براہ راست نقصان ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں نوے فیصد ورکرس (Workforce) غیر رسمی شعبے میں ہیں جس میں دیہاڑی مزدور، بے زمین کسان، سبزی اور پھل فروش وغیرہ شامل ہیں۔ یہ روزانہ کنواں کھودتے ہیں اور پانی پیتے ہیں۔ یہ بینک سے لون نہیں لیتے چاہے لون سستا ہو یا مہنگا۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے ان کی آمدنی پر خوراک کے اخراجات کا بڑھتا بوجھ ہے۔ موجودہ حالات میں تو ان کی مکمل آمدنی خوراک جیسی بنیادی ضرورت کو بھی پورا کرنے سے قاصر ہے۔ اس لئے غذائی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لئے حکومت کو متعدد اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بطور خاص ان کے ایکسپورٹ پر پابندی لگائے، پیاز، دال وغیرہ پر ذخیرہ اندوزی کی ایک حد مقرر کرئے۔ اس کے لئے حکومت کو اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو اپنے ہاتھ میں لے لینا چاہیے۔ کیونکہ فوڈ آیئٹم کی قیمتوں میں اضافہ غربت کے اضافے میں بنیادی عنصر کے طور پر کام کرتا ہے۔ ان کے علاوہ چونکہ بازاروں میں سناٹا چھایا ہوا ہے اس لئے نہ صرف چھوٹے کاروباری جمود کا شکار ہیں بلکہ گھریلو صنعتوں کا بھی برا حال ہے وہ تقریبا بند پڑی ہیں۔ حکومت کا حال یہ ہے کہ اس نے اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کی پردہ پوشی کے لئے نہایت ہی چالاکی سے موجودہ معاشی بحران کی ذمہ داری کووڈ پر ڈال کر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے حالانکہ ہماری معیشت کو جتنا نقصان اس وبا سے نہیں پہنچا اس سے کہیں زیادہ حکومت کی غلط پالیسیوں سے ہوا ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
Bhagwat Commentary Critical Analysis
مضامین

ملاحظات: بھاگوت بھٹکاؤ کی راہ پر

23 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

Mojtaba Khamenei Supreme Leader News

"مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب؟”

Iran Survival War Statement

یہ ایران کی بقا کی جنگ ہے، نشانہ گلف ممالک نہیں وہاں موجود امریکی اڈے ہیں: ڈاکٹر عبد المجید حکیم الہی

Iran Strategy Analysis News

ٹاپ لیڈرشپ ختم پھر بھی ہے دم ، ایران کی اسٹریٹجی سمجھنا ہے تو یہ اسٹوری ضرور پڑھیں

Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

مارچ 4, 2026
Mojtaba Khamenei Supreme Leader News

"مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب؟”

مارچ 4, 2026
Iran Survival War Statement

یہ ایران کی بقا کی جنگ ہے، نشانہ گلف ممالک نہیں وہاں موجود امریکی اڈے ہیں: ڈاکٹر عبد المجید حکیم الہی

مارچ 4, 2026
Iran Strategy Analysis News

ٹاپ لیڈرشپ ختم پھر بھی ہے دم ، ایران کی اسٹریٹجی سمجھنا ہے تو یہ اسٹوری ضرور پڑھیں

مارچ 3, 2026

حالیہ خبریں

Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

مارچ 4, 2026
Mojtaba Khamenei Supreme Leader News

"مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب؟”

مارچ 4, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN