اردو
हिन्दी
مئی 2, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

افراط زر اور آر بی آئی کی مانیٹری پالیسی

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
افراط زر اور آر بی آئی کی مانیٹری پالیسی
32
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

سراج الدین فلاحی
2016 میں ملک کے سینٹرل بینک RBI نے مالیاتی امور کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیٹی وضع کی جس کا نام مونیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) ہے۔یہ کمیٹی ہر دو ماہ کے بعد مالیاتی کارکردگیوں کا جائزہ لے کر اپنی رپوٹ پیش کرتی ہے اور معاشی پالیسی بناتی ہے۔ کمیٹی کے مطابق ملک کے اندر افراط زر یعنی مہنگائی (Inflation) دو سے چھ فیصد کے درمیان ہونی چاہیے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ مہنگائی اگر دو فیصد سے کم رہتی ہے تو یہ صورت حال انڈیا جیسے کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لئے بھیانک تصور کی جاتی ہے کیونکہ اس سے GDP کا گروتھ رک جاتا ہے۔ اور جب یہ چھ فیصد سے زیادہ ہو جاتی ہے تو کرنسی کی ویلیو کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے زیادہ پیسے دے کر کم سامان ملتے ہیں نتیجتا ایکسپورٹ گر جاتا ہے اور اس کے بعد فارن ایکسچینج کا مسئلہ پیدا ہونے لگتا ہے۔ چنانچہ یہ بھی معیشت کے لئے کسی وبال جان سے کم نہیں ہے۔ معیشت سے متعلق خبروں پر نظر رکھنے والے لوگ جانتے ہوں گے کہ حال ہی میں منسٹری آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے Inflation یعنی مہنگائی کا آنکڑا جاری کیا ہےجس کے مطابق مارچ 2021 میں مہنگائی در 7.39 فیصد ہو گئی ہے۔ یعنی گذشتہ سال جس سامان کو آپ 100 روپیہ میں خریدتے تھے اب وہ آپ کو 107.39 روپیہ میں مل رہا ہے۔ یہ گذشتہ آٹھ سالوں میں مہنگائی کی سب سے اونچی سطح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مہنگائی مونیٹری پالیسی کی بیش ترین سطح سے بھی زیادہ ہے۔ مہنگائی کی اس بلند ترین شرح میں خوراک اورتوانائی کی مہنگائی کا بنیادی کردار ہے۔ اس مہنگائی نے عام لوگوں کی زندگیوں پر بہت برا اثر ڈالا ہے۔ملک کی GDP کے ریکارڈ سطح تک گرنے کے بعد اب مستقبل قریب کے تعلق سے ماہرین معاشیات طرح طرح کے خدشے ظاہر کر رہے ہیں۔ سی لئے کووڈ وبا کی موجودہ ہنگامی صورت حال میں جب مستقبل قریب میں گروتھ کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آتاحکومت کو اشیاء ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں اور معاشی چیلینجز سے نمٹنا کسی بڑے امتحان سے کم نہیں ہے۔ موجودہ مالیاتی سال 2021-22 میں مونیٹری پالیسی کمیٹی کی پہلی رپوٹ آ چکی ہے۔ مہنگائی کے مدنظر امید کی جارہی تھی کہ کمیٹی ریپو (Repo Rate) اور ریورس ریپو ریٹ(Reverse Repo Rate) بڑھائے گی جو پہلے ہی بالترتیب 4 فیصد اور 3.35 فیصد تھا۔ تاہم ایسا نہیں ہوا۔4 فیصد ریپو ریٹ اور 3.35 فیصد ریورس ریپو ریٹ بہت کم مانا جاتا ہے۔ قبل اس کے کہ ہم مہنگائی کا ریپو ریٹ اور ریورس ریپو ریٹ سے تعلق بیان کریں پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ بہت زیادہ دباؤ کے باوجود RBI نے ریپو ریٹ نہیں بڑھایا۔ RBI کا کہنا ہے کہ جب تک ہماری معیشت جو مندی کا شکار تھی اس سے نکل نہیں جاتی اس وقت تک ہم اسے نہیں بڑھائیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ لون سستا ہو گا تو لوگ لون لے کر انویسٹ کریں گے اور معیشت مندی سے نکل جائے گی۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ریپو اور ریورس ریپو ریٹ کا مہنگائی سے کیا تعلق ہے۔ ریپو ریٹ وہ شرح سود ہے جس پر RBI کمرشیل بینکوں کو مختصر مدتی لون دیتا ہے۔ یا کمرشیل بینک اپنے Liquidity Status کو درست کرنے کے لئے RBI سے لون لیتے ہیں۔ جب معیشت میں افراط زر (Inflation) کی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو RBI ریپو ریٹ بڑھا دیتا ہے جس کی وجہ سے لون لینا مہنگا ہو جاتا ہے۔ مہنگے لون کی وجہ سے اس کی ڈیمانڈ کم ہو جاتی ہے لہذا معیشت میں منی سپلائی کم ہو جاتی ہے۔ منی سپلائی کم ہونے کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید (Purchasing Power) کم ہو جاتی ہے اور جب قوت خرید کم ہوتی ہے تو اشیاء اور خدمات کے لئے ڈیمانڈ بھی کم ہو جاتی ہے نتیجتا افراط زر کنٹرول میں آ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب معیشت میں قلت زر (Deflation) کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو RBI ریپو ریٹ کم کر دیتا ہے جس کی وجہ سے لون سستا ہو جاتا ہے۔ سستا لون منی کی ڈٖیمانڈ میں اضافہ کا سبب بن جاتا ہے۔ جب معیشت میں منی کا فلو بڑھتا ہے تو قوت خرید بڑھتی ہے لہذا اشیاء اور خدمات کی ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے اور قلت زر کا مسئلہ کم ہو جاتا ہے۔ ریورس ریپو ریٹ اس شرح سود کو کہتے ہیں جس پر RBI کمرشیل بینکوں سے لون لیتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اسے ایسے سمجھیں کہ جب کمرشیل بینکوں کے پاس لون دینے کے بعد پیسہ بچ جاتا ہے تو وہ اسےRBI کے پاس رکھ دیتے ہیں اور سود لیتے ہیں۔ معیشت میں منی سپلائی یا افراط زر (Inflation) کو کم کرنے کے لئے RBI ریورس ریپو ریٹ کو بڑھا دیتا ہے چنانچہ کمرشیل بینک زیادہ سود کی لالچ میں مرکزی بینک کے پاس زیادہ فنڈ رکھنے لگتے ہیں۔ یہ عمل کمرشیل بینکوں کے لون دینے کی قوت کو گھٹا دیتا ہے نتیجتا وہ عوام کو لون نہیں دے پاتے۔ اس طرح معیشت میں پیسے کا فلو کم ہو جاتا ہے۔ قلت زر (Deflation) کی حالت میں RBI ریورس ریپو ریٹ کم کر دیتا ہے۔ کمرشیل بینک اپنا فنڈ RBI کے پاس نہ رکھ کر عوام کو دیتے ہیں۔ منی سپلائی بڑھ جاتی ہے اور قلت زر کی صورت حال ختم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ موجودہ صورت حال میں اگر حکومت ریپو ریٹ بڑھاتی ہے تو منی کا فلو کم ہو جائے گا جس کی وجہ سے GDP گروتھ پر منفی اثر پڑے گا۔ اس کے برعکس اگر ریپو ریٹ کم کرتی ہے تو معیشت میں پیسے کا فلو بڑھ جائے گا جس کی وجہ سے مہنگائی بڑھ جائے گی۔ یعنی سرکار کے آگے کنواں اور پیچھے کھائی والا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ دھیان رہے کہ اگر مہنگائی زیادہ ہوتی ہے توشرح سود منفی ہو جاتا ہے۔مطلب اگر آپ اپنا پیسہ بینک میں جمع کر رہے ہیں اور وہاں شرح سود 4 فیصد ہے اور اگر معیشت میں مہنگائی 7 فیصد ہے تو آپ کو 3 فیصد کا براہ راست نقصان ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں نوے فیصد ورکرس (Workforce) غیر رسمی شعبے میں ہیں جس میں دیہاڑی مزدور، بے زمین کسان، سبزی اور پھل فروش وغیرہ شامل ہیں۔ یہ روزانہ کنواں کھودتے ہیں اور پانی پیتے ہیں۔ یہ بینک سے لون نہیں لیتے چاہے لون سستا ہو یا مہنگا۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے ان کی آمدنی پر خوراک کے اخراجات کا بڑھتا بوجھ ہے۔ موجودہ حالات میں تو ان کی مکمل آمدنی خوراک جیسی بنیادی ضرورت کو بھی پورا کرنے سے قاصر ہے۔ اس لئے غذائی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لئے حکومت کو متعدد اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بطور خاص ان کے ایکسپورٹ پر پابندی لگائے، پیاز، دال وغیرہ پر ذخیرہ اندوزی کی ایک حد مقرر کرئے۔ اس کے لئے حکومت کو اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو اپنے ہاتھ میں لے لینا چاہیے۔ کیونکہ فوڈ آیئٹم کی قیمتوں میں اضافہ غربت کے اضافے میں بنیادی عنصر کے طور پر کام کرتا ہے۔ ان کے علاوہ چونکہ بازاروں میں سناٹا چھایا ہوا ہے اس لئے نہ صرف چھوٹے کاروباری جمود کا شکار ہیں بلکہ گھریلو صنعتوں کا بھی برا حال ہے وہ تقریبا بند پڑی ہیں۔ حکومت کا حال یہ ہے کہ اس نے اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کی پردہ پوشی کے لئے نہایت ہی چالاکی سے موجودہ معاشی بحران کی ذمہ داری کووڈ پر ڈال کر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے حالانکہ ہماری معیشت کو جتنا نقصان اس وبا سے نہیں پہنچا اس سے کہیں زیادہ حکومت کی غلط پالیسیوں سے ہوا ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN