مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ توانائی کے عالمی بحران کو مزید گہرا کرتی جا رہی ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے اثرات بھارت میں واضح طور پر نظر آرہے ہیں جہاں تیل اور گیس کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ادھر ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را) کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دولت نے اہم بیان دیا ہے۔ اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ایران کے ساتھ دیرینہ اور مضبوط تعلقات ہیں۔
امرجیت سنگھ دولت نے کہا کہ ہم ہمیشہ ایران کے ساتھ رہے ہیں اور ہمارے تعلقات بہت پیچھے چلے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حالات میں ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع میں فاتح بن کر ابھر سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس ساری پیش رفت کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ تشویشناک ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے حملوں سے تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ ہے جس سے بھارت سمیت کئی ممالک متاثر ہو سکتے ہیں۔
ہندوستان ایران تعلقات
ہندوستان کی آزادی کے بعد ہندوستان اور ایران کے تعلقات آہستہ آہستہ مضبوط ہوتے گئے۔ دونوں ممالک نے باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے اور وقت کے ساتھ ساتھ تعاون میں اضافہ کیا۔ 1950 سے 1970 کی دہائی تک ایران کا جھکاؤ امریکہ کی طرف تھا۔ اس کے باوجود ایران نے ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان توازن اور افہام و تفہیم کا مشاہدہ کیا گیا۔ 1979 میں ایران میں اسلامی انقلاب نے ایران کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کی۔ اس کے بعد بھی بھارت نے متوازن پالیسی اپنائی۔ جہاں بھارت نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے وہیں مغربی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات برقرار رکھے۔ جدید دور میں، ہندوستان اور ایران کے تعلقات کئی اہم شعبوں میں مضبوط ہوئے ہیں۔ توانائی کے شعبے میں ایران ہندوستان کو تیل فراہم کرنے والا بڑا ملک رہا ہے۔ ہندوستان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایران سے تیل درآمد کر رہا ہے۔اے بی ہی کے ان پٹ کے ساتھ








