لکھنؤ :(ایجنسی)
یوپی میں مودی میوزک اور چانکیہ امت شاہ کی ساری ترکیبیں اور تدبیریں ناکام ہوئی ہیں۔ اومیکرون توچاروں طرف پھیل رہا ہے ۔الہ آباد ہائی کورٹ کے ریمارکس کے بعد جو پیش رفت ہو رہی ہے، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی بنیادی طور پر یوپی میں اسمبلی انتخابات کا سامنا نہیں کرنا چاہتی۔کچھ حقائق ایسے ہیں، جن سے اس صورتحال کو سمجھا جا سکتا ہے۔2024 کا عام انتخابات جیتنے کے لیے یوپی اسمبلی انتخابات کا جیتنا پہلے والے کو آسان بناتا ہے۔ گزشتہ یوپی اسمبلی انتخابات 2017 میں ہوئے تھے، جس میں بی جے پی زبردست اکثریت (304 سیٹوں) سے اقتدار میں آئی تھی۔ دو سال میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ تمام تنازع میں پھنس گئے۔ جس میں برہمنوں کو ناراض کرنے کی مبینہ کہانی بھی شامل ہے ۔
ہائی کورٹ کا تبصرہ دمدار ہے
الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شیکھر کمار یادو نے ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور وزیر اعظم سے انتخابات کو کچھ دنوں کے لیے ملتوی کرنے کی اپیل کرڈالی کہ جلسے جلوسوں پر پابندی لگنی چاہیے، جج کے اس ریمارکس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس کے باوجود عدالت کا وقار سب سے زیادہ ہے۔ اس لیے ان کے تبصرے پر کوئی تبصرہ نہیں۔ لیکن اس ریمارک سے حکومت کو انتخابات ملتوی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔لیکن یہاں جسٹس شیکھر کمار یادو کے ایک اور ریمارک کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ جس کا تعلق موجودہ واقعات سے ہےبھی اور نہیں بھی۔
یکم ستمبر 2021 کو ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے انہی جسٹس یادو نے کہا تھا کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے۔ اس میںہندو کا آستھا ہے۔کسی کواسے مارنے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔ گائے بوڑھی بھی ہوجاتی ہے تو بھی تمام اس کےگوبرکااستعمال کرتے ہیں۔ جج صاحب کا ریماکس بہت طویل ہے۔ 23 دسمبر کوپی ایم مودی نے وارانسی میںگائے پرایک طویل لیکچر دیا۔ کل ہی ہائی کورٹ کے جج صاحب نےاسمبلی انتخابات ٹالنے اور ریلیوں پر روک لگانےکی مانگ کردی۔
2019 میں لوک سبھا انتخابات ہوئے تو بی جے پی نے یوپی میں کافی سیٹیں جیتی تھیں، لیکن 2017 کے یوپی اسمبلی انتخابات سے موازانہ کریں تو اسےکم ہی اسمبلی حلقوں میں کامیابی ملی۔ پھر کورونا آگیا۔ قبرستان سے لے کر ندیوں میںلوگوں کی لاشیں تیرتی ملیں۔ یوپی سرکار پر الزام لگاتھا کہ اسپتالوںمیں آکسیجن اور بیڈنہ ملنے کی وجہ سے موتیں ہوئی تھیں۔ یوگی سرکار نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی تھی۔ لیکن اس معاملے میں مرکز سے لے کر ریاستی حکومت کافی فضیحت ہوئی۔ ابھی تک کورونا سے مرنے والے کسی پریوار کو معاوضہ نہیں ملا۔ یوپی اسمبلی الیکشن 2022 میں اب مشکل ڈیڑھ مہینہ باقی ہے۔ الیکشن کمیشن جلد ہی تاریخ اعلان کرنےوالا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سےلےکر تمام مرکزی وزیر اورلیڈر یوپی کی طرف دوڑ پڑے۔ لیکن اپنے پروگراموں میں متوقع بھیڑ جمع نہیں کرپائے۔ سرکار ہونے کی وجہ سےپروگرام گرانڈ تو بنائے جاتے ہیں لیکن عوام تک نہیں پہنچ پاتے۔ جی ہاں، غریب کارکن وہاں محنت سے جاتے ہیں۔بی جے پی کے لیے یوپی کا الیکشن کتنا اہم ہے کہ پی ایم مودی اب تک وہاں 10 بار جا چکے ہیں۔ پچھلے دس دنوں میں تووہ وارانسی ہی دو بار گئے۔
لیکن سرکاری پروگراموں سے عوام نے دوری بنا لی ہے۔ معروف سینئر صحافی شیتل پی سنگھ نے ستیہ ہندی کےلائیو پروگرام میں دکھایا اور بتایا کہ یوپی میں زمینی حقیقت کیا ہے۔ شیتل پی سنگھ کے علاوہ سینئر صحافی اجیت انجم بھی گراؤنڈ رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ جب مودی خواتین کے لیے وقف پروگرام کے لیے پریاگ راج گئے تھے تو مودی کے لوک سبھا حلقہ وارانسی سے خواتین کو لگژری بسوں میں لے جایا گیا، ایسا نہیں ہے کہ صرف یہ دو صحافی ہی حقیقت دکھا رہے ہیں۔ ان کے علاوہ کئی چھوٹے یوٹیوبرز بھی زمین سے بی جے پی کے لیے ناگفتہ بہ حالات بتا رہے ہیں۔دوسری طرف ایس پی صدر اکھلیش یادو اور کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، راہل گاندھی نے کئی کامیاب ریلیاں منعقدکیں۔ ابھی کل ہی ایس پی اور آر ایل ڈی کی ریلی اگلاس (علی گڑھ) میںہوئی۔ سابق وزیر اعظم آنجہانی چودھری چرن سنگھ کی کی جینتی پر منعقد اس پروگرام میںاتنی بھیڑ جمع ہوئی کہ چار گھنٹے تک علی گڑھ- دہلی قومی شاہراہ متاثرہ رہا۔ اگلاس میں پولیس بھیڑ کوسنبھال نہیںسکی۔










