اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کیا ’لکشد یپ جنوبی بھارت کا کشمیر‘ بننے والا ہے؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
کیا ’لکشد یپ جنوبی بھارت کا کشمیر‘ بننے والا ہے؟
71
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

جاوید اختر

ہندو قوم پرست جماعت آر ایس ایس سے قریبی تعلق رکھنے والے اور گجرات کے سابق وزیر داخلہ پرفل کھوڑا پٹیل نے بھارتی جزائر لکشدیپ کے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر بعض ایسے متنازعہ فیصلے کیے ہیں، جن سے خود بی جے پی کے بعض رہنما بھی ناراض ہیں اور انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اس کی شکایت بھی کی ہے۔

پرفل پٹیل کے فیصلوں کی مخالفت کرنے والے حلقے ان اقدامات کو غیر آئینی، ظالمانہ، یکطرفہ اور غیر اخلاقی قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی ان کی آڑ میں جنوبی بھارت کے 96 فیصد مسلم آبادی والے اس علاقے میں کشمیر جیسے حالات پیدا کرنا چاہتی ہے۔

’جنوبی بھارت کا کشمیر‘ بنانے کی کوشش

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے سیکرٹری ڈاکٹر تسلیم رحمانی کہتے ہیں کہ بی جے پی لکشدیپ کو ‘جنوبی بھارت کے کشمیر‘ میں تبدیل کر دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح آئین کی شق 370 کو منسوخ کر کے کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کی جا رہی ہے، مود ی حکومت وہی کام اب لکشدیپ میں بھی کرنا چاہتی ہے۔

کانگریس کے رہنما وی ٹی بلرام کا بھی کہنا ہے کہ مودی کے قریبی پٹیل کے فیصلوں کا لکشدیپ کی ترقی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ”یہ اس پرامن مجموعہ جزائر کو دوسرے کشمیر میں تبدیل کر دینے کے سنگھ پریوار (آر ایس ایس) کے مشن کا حصہ ہے۔”

تنازعہ ہے کیا؟

پرفل پٹیل نے لکشدیپ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ریگولیشن (ایل ڈی اے آر) کے نام سے ایک مسودہ قانون جاری کیا، جس سے مقامی لوگوں میں خوف پھیل گیا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ جرائم سے تقریباً پاک یہ پرسکون مجموعہ جزائر بدامنی کا شکار ہو سکتا ہے۔

اس مسودہ قانون میں گائے کے گوشت کی خرید و فروخت اور کہیں لانے لے جانے پر پابندی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت ترین سزائیں، دو سے زائد بچوں کے والدین کے پنچایت الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی، شراب کی دکانیں کھولنے کی اجازت، غنڈہ ایکٹ کا نفا ذ اور ترقی کے نام پر کسی کی بھی زمین حاصل کر لینے سے متعلق ضوابط شامل ہیں۔ بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے منظوری مل جانے کے بعد یہ مسودہ قانونی شکل اختیار کر لے گا۔

لکشدیپ کے رکن پارلیمان محمد فیصل کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ قانون میں مقامی نمائندوں کوکسی بھی معاملے میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہو گا بلکہ سارے اختیارات صرف ایک شخص کے ہاتھ میں چلے جائیں گے۔ ایڈمنسٹریٹر کے فیصلوں کی کوئی مخالفت نا ہو، اس کے لیے عام لوگوں کو گرفتار کر لینے کے ایک نئے سخت قانون کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے تحت کسی بھی شخص کو اس کے خلاف عدالتی سماعت کے بغیر ایک برس تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔

محمد فیصل کہتے ہیں کہ ایسی جگہ جہاں خود حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جرائم برائے نام ہیں، وہاں ایسے سخت قانون کی کیا ضرورت ہے؟ اور گائے کا گوشت یہاں کے مسلمانوں کی اہم خوراک ہے۔ لہٰذا اس پر پابندی عائد کرنے کا مطلب کیا ہے اور پھر خود بی جے پی کی حکومت والی ریاست آسام میں تو گائے کے گوشت پر پابندی عائد نہیں ہے۔

پرفل پٹیل کی دلیل ہے کہ حالیہ دنوں میں چند ایسے مجرمانہ واقعات پیش آئے ہیں، جن کی وجہ سے اس نئے قانون کی ضرورت پڑی۔ اس سلسلے میں وہ دو ماہ قبل بھارتی کوسٹ گارڈ کے ذریعے لکشدیپ کے نزدیک منشیات کی بڑی کھیپ پکڑے جانے کے واقعے کی مثال دیتے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت

اپوزیشن جماعتوں نے پرفل پٹیل کے اقدامات کی سخت مخالفت کرتے ہوئے بھارتی صدر سے انہیں فوراً واپس بلا لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

آئین کے مطابق بھارتی صدر ہی مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ایڈمنسٹریٹر اور ریاستوں کے گورنروں کی تقرری کرتے ہیں لیکن یہ نمائندے بالعموم مرکزی حکومت کی اجازت کے بغیر کوئی فیصلے نہیں کر پاتے۔

کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے، ”لکشدیپ سمندر میں بھارت کے سرکا تاج ہے۔ اقتدار میں بیٹھے ناسمجھ لوگ اسے تباہ کر رہے ہیں۔” کانگریس کی جنرل سیکرٹری پریانکا گاندھی نے بھی اپنی ایک ٹویٹ میں کہا، ”میں لکشدیپ کے عوام کے ساتھ ہوں۔ میں آپ کی وراثت کے تحفظ کی جنگ میں ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑی رہوں گی۔ لکشدیپ ایک قومی خزانہ ہے اور ہم سب کو اس پر ناز ہے۔”

سابق مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے بھی بھارتی صدر کو خط لکھ کر پرفل پٹیل کو فوراً واپس بلا لینے کا مطالبہ کیا ہے۔کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجیئن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”اس صورت حال نے لکشدیپ کے باشندوں کی زندگی اور ثقافت کے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ میں ان مقامی باشندوں کے ساتھ ہوں۔”

Eight members of BJP's Youth wing (Bharatiya YuvaMorcha) in #Lakshadweep resign their positions in protest against the undemocratic actions of Centrally-appointed Administrator @prafulkpatel. They warn he is destroying peace& tranquillity on the territory. The crisis intensifies. pic.twitter.com/l6LfU4OMM2

— Shashi Tharoor (@ShashiTharoor) May 26, 2021

بی جے پی کے رہنما بھی ناراض

لکشدیپ میں بی جے پی کے متعدد رہنماؤں نے بھی ایڈمنسٹریٹر پٹیل کے اقدامات پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ بی جے پی لکشدیپ یونٹ کے جنرل سیکرٹری محمد قاسم نے وزیر اعظم مودی کو ایک خط لکھ کر کہا ہے کہ پرفل پٹیل کے اقدامات نے پارٹی کے لیے پریشانیاں پیدا کر دی ہیں۔

بی جے پی کے یوتھ ونگ کے آٹھ اراکین نے پرفل پٹیل کے ‘غیر جمہوری اقدامات‘ کے خلاف بطور احتجاج استعفے دے دیے ہیں۔ ان سابقہ اراکین کا کہنا ہے کہ پرفل پٹیل لکشدیپ میں امن اور خیر سگالی کے ماحول کو تباہ کر رہے ہیں۔

مجموعہ جزائر لکشدیپ ہے کہاں؟

لکشدیپ جنوبی بھارتی صوبے کیرالا سے 400 کلومیٹر دور 36 جزائر پر مشتمل بھارت کے خوبصورت ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ اس کے 36 میں سے دس جزائر آباد ہیں اور صرف پانچ میں سیاحوں کو جانے کی اجازت ہے۔ یہ جزیرے مرجان کی چٹانوں کے لیے مشہور ہیں۔ ستر ہزار کی آبادی والے لکشدیپ میں مسلمانوں کا تناسب 96 فیصد ہے۔

یہ علاقہ ٹیپو سلطان کی مملکت میں شامل تھا اور ان کی موت کے بعد برطانیہ کے قبضے میں آ گیا تھا۔ بھارت کے آزاد ہونے کے بعد 1947 میں یہ بھات کا حصہ بن گیا اور 1956 میں مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرار دے دیا گیا۔ وہاں ہمیشہ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کے کسی افسر کو ہی ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جاتا رہا تھا تاہم پہلی مرتبہ دسمبر 2020 میں ایک سیاسی شخصیت کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا گیا۔ نریندر مودی کی گجرات میں وزارت اعلیٰ کے دور میں پرفل پٹیل وزیر داخلہ تھے۔ ان کا سیاسی کیریئر متنازعہ رہا ہے۔ ایک رکن پارلیمان کی حال ہی میں خودکشی کے بعد ان کے بیٹے نے پٹیل پر اپنے والدکو ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔

لکشدیپ پارلیمانی حلقہ روایتی طورپر کانگریس پارٹی کے پاس رہا ہے تاہم 2014 اور 2019 میں وہاں سے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے محمد فیصل کامیاب ہوئے تھے۔ بی جے پی سیاسی لحاظ سے وہاں اب تک کوئی مقام حاصل نہیں کر سکی۔ بی جے پی کو 2014 اور 2019 کے عام انتخابات میں وہاں سے بالترتیب صرف 187 اور 125 ووٹ ملے تھے۔

(بشکریہ: ڈی ڈبلیو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN