گوہاٹی : (ایجنسی)
آل آسام مائنارٹی اسٹوڈنٹس یونین نے درنگ میں 23 ستمبر کو ہوئے پولیس تشدد کی جانچ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج سے کرانے کے ریاستی سرکار کی تجویز کو خارج کردیاہے ۔ یونین نے کہا ہے کہ ریٹائرڈ جج کو سیاسی سے متاثر ہو سکتے ہے ، اس لیے انکوائری گوہاٹی ہائی کورٹ کے موجودہ جج سے کرائی جانی چاہئے اور چیف جسٹس کو اس کی نگرانی کریں ۔
ستیہ ہندی ڈاٹ کام کے مطابق جمعرات کو ضلع درنگ کے سپہا جھار میں تجاوزات ہٹانے گئی پولیس کے ساتھ مقامی لوگوں کی جھڑپ ہوگئی ، جس میں تین لوگ مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک 12 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ شیخ فرید مقامی پوسٹ آفس سے اپنا آدھار کارڈ لے کر لوٹ رہا تھا اور پولیس فائرنگ میں مارا گیا ۔
ضلع درنگ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سشانت بسوا سرما نے اس دن کے تشدد اور تین لوگوں کی ہلاکت کی ذمہ داری مقامی لوگوں پر ڈال دی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے پولیس پر پتھراؤ کیاتھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر لوگوں نے پتھر اؤ کیا بھی تھا تو پولیس نے ان کے پیروں کو نشانہ بنانے کے بجائے سینہ پر گولی کیوں ماری؟ سوشل میڈیا پر وائرل تصویروں میں صاف نظر آرہا ہے کہ مارے گئے لوگوں کے سینے پر گولی کے نشانے ہیں۔
سپہاجھار میں 23 ستمبر کو کیا ہوا تھا اور کیسےتشدد ہوا،یہ آل آسام مائنارٹی اسٹوڈنٹس یونین رضاء اللہ سرکار کی باتوں سے صاف ہوتا ہے ۔ سرکار نے ’ دی وائر ‘ سے کہاکہ 20 ستمبر کو تجاوزات ہٹاؤ مہم بہت ہی پرامن طریقہ سے نمٹ گئی تھی کیونکہ لوگوں نے خود اپنے گھروں سے سامان وغیرہ نکال لئے اور گھر گرا دئے تھے۔حکومت نے انہیں متبادل جگہ دینے کی بات کہی تھی ۔ اس جگہ پر پینے کے پانی اور ٹوائلٹ کی پریشانی تھی،لیکن ضلع انتظامیہ نے کہا تھا کہ انتظام کیا جائے گا اور معاملہ طے ہو گیا تھا ۔
لیکن 23 ستمبر کو تشدد اس لئے بھڑکا کہ پولیس نے ہی زور زبردستی سے معاملہ کو حل کرنا چاہا۔ اس دن صرف تقریباً 200 لوگوں کو وہاں سے نکالا جانا تھا۔ سرکار نے ’ دی وائر‘ سے کہاکہ پولیس نے 23 ستمبر کی رات کو لوگوں کو علاقہ خالی کرنے کا نوٹس دیا ۔ ان لوگوں نے بچوں کو گھر کے باہر سلایا اور خود اپنے گھر گرانے لگے۔ صبح چھ بجے تک تقریباً 80 فیصد لوگوں نے گھر خالی کردئے تھے، بمشکل 40-50گھر باقی تھے ۔
لیکن کچھ لوگوں نے کہا کہ انہیں متبادل جگہ کے بارے میں بتایا جائے، پھر وہ اپنا گھر خالی کردیں گے۔ آمسو ، کرشک مکتی سنگھرش سمیتی اورسنکھیالگھوسنگرام پریشد نے اس کے خلاف دھال پور میں ایک جلسہ کا انعقاد کیا تھا۔ متاثرہ لوگوں نے یہ بھی کہاکہ وہ غریب ہیں، نئے گھر کے لیے ٹین شیڈ وغیرہ کے انتظامات نہیں کر سکتے۔ مگر پولیس نے ان کے ساتھ زور زبردستی کی۔
جب پولیس نے ان کی تمام باتوں کو مسترد کرتے ہوئے جے سی بی چلانا شروع کردیا اور لوگوں کے گھر گرانے لگے تو کچھ لوگوں نے پتھراؤ کیا۔ یہیں سے معاملہ بگڑ گیا اور جھڑپ میں بدل گیا۔
آخر اس پورے معاملے کے پیچھے اصل وجہ کیا ہے؟
آسام کے مصنف اور دانشور ہیرن گوہائی اس کے لیے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ 2016 میں دانشوروں، صحافیوں اور سماج کے دوسرے طبقے کے لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے آر ایس ایس و بی جے پی کو پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔ مگر آر ایس ایس مسلمانوں کو نشانے پر لے رہا ہے اور یہ ان کے خلاف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے کارپوریٹ، زمین مافیا ، حکمراں جماعت پارٹی اور ان سے جڑی دوسری طاقتیں بھی ہیں ۔ ان کی نظر آسام کے اس زرخیز زمین پر ہے ، جس سے وہ اپنے قبضے میں لے کر بیچنا چاہتے ہیں ۔
اس کے ساتھ کئی دوسری باتیں بھی ہیں ۔ مہاجرین کے خلاف بنی تنظیم پرباجن ورودھی منچ یعنی پی وی ایم کا کہنا ہے کہ معاملہ کچھ اور بھی ہے اور اسے صرف ہندو- مسلمان معاملہ سمجھنا غلط ہوگا۔
اس سے اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ 8 ستمبر کو گرو کھوٹی ، سانوا ،گنیش کواری اور باجناپاتھر پنچایتوں کے لوگوں نے ضلع انتظامیہ کو ایک میمورینڈم دیا ، جس میں 77,420 بیگھہ زمین کو خالی کرا کر اصل باشندوں کے درمیان تقسیم کرنے کی مانگ کی گئی تھی ۔
پی وی ایم کے اپمانیو ہزاریکا نے’دی وائر‘ کو بتایا کہ آسام کے ذیلی قوم پرستی کو باقی ہندوستان کے فرقہ وارانہ زاویے سے دیکھنےسے بات سمجھ میں نہیں آئے گی، اسے یہاں کے نسلی معاملے کے لحاظ سے دیکھنا ہوگا ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ آسام کے مقامی مسلمان اس معاملے میں مقامی لوگوں اوراصل باشندوں کے ساتھ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ منگلدوئی کی نچلی عدالت نے تجاوزات ہٹانے کا میمورینڈم کوباد علی نامی مسلمان نے دیا تھا ۔ وہ زور دے کر کہتے ہیں کہ یہ معاملہ آسامی شناخت کا ہے اور اس معاملے میں مقامی باشندہ مسلمان مقامی ہندوؤں کے ساتھ ہیں۔ لیکن یہ سوال تو پھر بھی بچ ہی جاتا ہے لاٹھی لے کر مخالفت کررہے مظاہرین کے سینہ پر گولی مارنا کیسے مناسب ہے اور کس راشٹرواد کا تعارف ہے ؟










