غزہ میں فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی کی امید کھو رہے ہیں جب بدھ کے روز اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی سب سے مہلک خلاف ورزی میں غزہ میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔ عام خیال ہے کہ قیدیوں کی رہائی کے بعد اسرائیل گھناؤنی حرکتوں پر اتر آیا ہے اور لگاتار جنگبندی کی خلاف ورزیاں کررہا ہے جس میں بمباری اور فائرنگ جیسے واقعات شامل ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی اب بھی مضبوط ہے جب کہ ثالث قطر نے مایوسی کا اظہار کیا تاہم کہا کہ ثالث جنگ بندی کے اگلے مرحلے کے منتظر ہیں۔
دریں اثنا اسرائیلی جنگی طیاروں نے آج جمعرات کی صبح جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مشرقی علاقوں پر خوفناک فضائی بمباری کی، جب کہ غزہ شہر میں فلسطینی گھروں کو دھماکوں سے اڑانے کی کارروائیاں بھی کی گئیں۔ یہ حملے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کا تسلسل ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مطابق قابض اسرائیلی طیاروں نے خانیونس کے مشرقی حصے پر متعدد فضائی حملے کیے جن سے پورا علاقہ دھماکوں سے گونج اٹھا۔ دس سے زائد زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جنہوں نے رات کی خاموشی کو لرزا دیا۔
قابض فوج نے خانیونس کے جنوبی علاقوں معن، الشیخ ناصر اور جوره اللوت میں بھی مشین گنوں سے اندھا دھند فائرنگ کی، جس سے عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔اسی دوران آج صبح مشرقی غزہ میں زوردار دھماکے سنے گئے جو قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے گھروں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کے نتیجے میں ہوئے۔اس سے قبل منگل اور بدھ کی درمیانی شب قابض اسرائیلی فوج نے پورے غزہ کی پٹی میں وحشیانہ بمباری کی جس میں درجنوں فلسطینی شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ یہ حملے بھی جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی تھے۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ رات سے اب تک غزہ کے مختلف ہسپتالوں میں 110 فلسطینی شہید اور 253 زخمی ہسپتالوں میں لائے گئے۔ شہداء میں 46 بچے اور 20 خواتین شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 78 بچے اور متعدد خواتین شامل ہیں۔وزارت صحت نے مزید بتایا کہ 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے نتیجے میں شہداء کی مجموعی تعداد 217 تک پہنچ گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 597 ہو چکی ہے۔ ملبے تلے سے نکالے گئے شہداء کی مجموعی تعداد 482 بتائی گئی ہے۔










