نئی دہلی:
ایک اسرائیلی اخبار’ ہاریٹز ‘ کے ٹیکنیکل ایڈیٹر عمر بنجاکوب نے کہاہے کہ جولائی 2017 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کا دورہ کرنے کے بعد ہی پیگاسس اسپائس ویئر کی فہرست میں مشتبہ طور سے شامل ہندوستانی اہداف کے نام شامل ہوئے تھے۔ اسرائیل اس سائبر سیکورٹی فرم این ایس او گروپ کا ہوم کنٹری ہے ، جس نے وہ اسپائی ویئر تیار کیا ہے جو مبینہ طور پر سرکاری جاسوسی پر مرکوز ایک عالمی اسکنڈل کا مرکز سمجھاجا تا ہے۔
بنجاکوب نے ’دی پرنٹ‘ کے سینئر کنسلٹنگ ایڈیٹر جیوتی ملہوترا سے اتوار کو پیگاسس معاملے میں ہوئے انکشاف پر گفتگو کے دروان بتایاکہ اگر ہم اس سارے معاملے کی ٹائمنگ لائن دیکھیں تو ہم پہلی بار اس لیک میں شامل ہوئے بھارت سے متعلق اہداف کانام ٹھیک اسی مہینے دیکھتے ہیں ، جب مودی 2017 میں اسرائیل دورے پر آئے تھے۔ اسرائیل کے خفیہ معاملے کے تجزیہ کار یوسی میلمین بھی اس بحث کا حصہ تھے ۔
پیگاسس اسپائی ویئر مبینہ طور پر دنیا بھرمیں کئی سیاسی لیڈروں ، سماجی کارکنوں اور صحافیوں کی جاسوسی کرنے کی کوشش کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔اس بات کا انکشاف گزشتہ مہینے پیگاسس پروجیکٹ کے ذریعہ کیا گیا تھا جو 17 میڈیا تنظیموں کاایک بین الاقوامی کنسورشیم ہے۔ اس انکشاف کااہم بنیاد جاسوسی کے ممکنہ اہداف والے 50,000فون نمبر کی ایک فہرست ہے جن سے متعلق آلات پر پیگاسس کا ممکنہ طور سے متاثرہوسکتا ہے ۔
این ایس او گروپ جس نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے ، کا دعویٰ ہے کہ وہ سافٹ وئیر کو صرف سرکاروں کے ذریعہ تصدیق شدہ قانون کی پاسداری کرنے والی ایجنسیوں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ہی اس سافٹ ویئر کا لائسنس دیتا ہے۔
بنجاکوب نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ مبینہ طور پر پیگاس فہرست میں شامل مشتبہ ہنگری اہداف بھی جولائی 2018 میںسابق اسرائیلی پی ایم بنجامن نتین یاہو کے ذریعہ اس ملک کا دورہ کرنے کے کچھ مہینوں بعد ہی دکھائی دئے۔انہوں نے الزام لگایا کہ نیتن یاہو این ایس او کی ٹیکنالوجی کاکھولے عام مظاہرہ کررہےتھے اور انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان دوروں اور پیگاسس کے ممکنہ اہداف کے درمیان ایک طرح کا باہمی ربط ہے ۔
پیگاسس پروجیکٹ نے یہ انکشاف کیا ہے کہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سمیت 14 غیر ملکی رہنماؤں کے فون نمبر بھی فہرست میں شامل تھے۔ بھارت میں جاسوسی کی اس کوشش کے مشتبہ اہداف میں موجودہ مرکزی وزراء ، اہم اپوزیشن لیڈر اور 40 سے زائد سینئر صحافی اور سماجی کارکن شامل تھے۔
حالانکہ فرانس اور ہنگری جیسے ممالک نے ان تمام انکشافات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے ، لیکن بھارتی حکومت نے ابھی تک اسے ایک مسئلہ نہیں سمجھا۔










