اردو
हिन्दी
مئی 7, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ادے پور قتل کے بہانے سماج کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے والوں سے ہوشیار رہنا ضروری ہے

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
ادے پور قتل کے بہانے سماج کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے والوں سے ہوشیار رہنا ضروری ہے
84
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:اپووروانند

ادے پور کے کنہیا لال کے قاتلوں کو راجستھان پولیس نے راجسمند میں گرفتار کر لیا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے اور جس طرح سے قتل کیا گیا ہے وہ تصور سے باہر ہے۔ یہ افسوسناک ہے اور یہ سارا واقعہ تشویشناک ہے۔اس کو لے کرلوگوں میں غصہ ہوگا،یہ بھی فطری ہے۔ لیکن اسٹیٹ اس تشدد کے معاملے میں انصاف کرے گا اور ان دونوں پرتیزی سے مقدمہ چلاکر انہیں سزا دی جائے گی۔

کنہیا لال کے قاتل مسلمان ہیں۔ جس طرح گلا کاٹ کر قتل کیا گیا، وہ دہشت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس قتل میں ایک دھوکہ بھی ہے کہ درزی جس کا ناپ لے رہا ہو، وہ اس کا گلا کاٹ دے گا، کیا یہ وہ سوچ سکتا تھا؟

اس کے بعد کیا دکاندار اور گراہک کے تعلقات میں شکوک وشبہات پیدا ہوں گے۔ سب ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ یہ قتل ایک شخص کا ہے، لیکن یہ کسی ذاتی جھگڑے،تنازعے، غصے میں نہیں کیا گیا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان راہ و رسم پہلے سے زیادہ مشکل ہو جائیں گے۔

ایک قتل محض ایک واقعہ نہیں ہوتا اور یہ ایک لمحے تک محدود نہیں رہتا۔ کچھ قتل ایسے ہوتے ہیں جن کا اثر اس شخص کے خاندان سے زیادہ قوم پر پڑتا ہے۔ چیف منسٹر کی تشویش ان کی ریاست میں سماج کے رشتوں پر پڑنے والے اثرات کو لے کر بھی ہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلقات پر بھی۔ اسی لیے وہ سب سے غم و غصے کے باوجود صبرو تحمل اور امن و امان کی اپیل کر رہے ہیں۔

جب ریاست انصاف کے لیے فوری اقدام کرے تو اس کا مطالبہ کرتے ہوئےکسی مظاہرے کی ضرورت نہیں۔ جب معاشرے کے کسی بھی حصے میں اس قتل کی حمایت ہو تو اس پر ناراض ہونا فطری ہے۔ لیکن جب ہر طبقہ اس سے حیران ہو،صدمے میں ہو اور اس کو قبول نہ کرے تو ایک مشترکہ ردعمل ہی ہو سکتا ہے۔ صرف ہندو ردعمل یا مسلمان ردعمل نہیں۔اس قتل کے بعد مسلمانوں کی تمام تنظیموں، ان کے مذہبی رہنماؤں نے ایک آواز میں اس قتل کی مذمت کی ہے اور قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تمام مسلم دانشوروں اور سماجی کارکنوں، صحافیوں نے ایک آواز میں اس قتل پر اپنے صدمے اور غصے کا اظہار کیا ہے۔

مسلمانوں میں سے کسی نے بھی قاتلوں کی اس دلیل کو قبول نہیں کیا کہ پیغمبر کی بے حرمتی کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کی رہنما کی حمایت کرنے پر انہوں نے کنہیا لال کو قتل کیا ہے۔

بائیں بازو، کانگریس سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے اس بہیمانہ قتل کی مذمت کی ہے۔ آخر کوئی اس کی حمایت بھی کیسے کر سکتا ہے؟ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو چاہتے ہیں کہ اس قتل کی حمایت کرنے والے بھی ہوں۔ بالخصوص مسلمانوں میں۔ ایسا ہوا نہیں ہے۔ مسلمانوں میں سے کسی بھی گروہ یا کسی بھی فرد نے اس کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی اس کا کوئی جواز پیش کیا ہے۔یہ درست ہے کہ پیغمبر اسلام کی توہین کرنے والے ریمارکس کے لیے بی جے پی لیڈروں کے خلاف قانونی کارروائی کی مانگ کی جارہی تھی۔ لیکن کبھی کسی نے خود انہیں سزا دینے کی بات نہیں کی۔یہ الگ بات ہے کہ بہت سے لوگ اس توہین کو بی جے پی لیڈروں کی اظہار رائے کی آزادی سمجھ کر ان لیڈروں کے حق میں مہم چلا رہے تھے۔ راجستھان میں ہی ان لیڈروں کے حق میں میٹنگ ہو رہی تھی۔ مسلمانوں کی جانب سے ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ انصاف کریں۔

بہت سے لوگوں کو یہ بات عجیب لگ رہی ہے کہ مسلمان اس وحشیانہ قتل کی حمایت نہیں کر رہے ہیں۔ آخر اس راجسمند میں جہاں یہ قاتل پکڑے گئے ہیں، شمبھولال ریگر نامی ہندو نے افرازل نامی مسلمان کو بھی اسی طرح قتل کیا تھا۔ اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ماراتھا، اس کی فلم بنائی تھی اور اسے وسیع تر ہندو سماج میں ان کے لطف اندوز ہونے کے لیے مشتہر کیا تھا۔اس قتل نے پورے ملک میں سنسنی پھیلا دی تھی۔ مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ لیکن اس وقت اور آج تک اس قاتل کے لیے ایک بڑی حمایت ہندو گروہوں میں تھی اور ہے۔ قاتل کا مجسمہ بنایا گیا، اس کے حق میں ہندوؤں کی ایک بھیڑ عدالت پہنچ گئی اور اس نے عدالت پر بھگوا پرچم لہرا دیا۔ قاتل کی وکالت کے لیے چندہ کیا گیا۔ آج تک افرازل کے قاتل کے حق میں حمایت جاری ہے۔چوں کہ اس وقت اس قسم کا ردعمل ہوا تھاتو آج یہ تصور کیا جا رہا ہے کہ مسلمان بھی قاتلوں کے حق میں کھڑے ہوں گے۔ مسلمان قاتل کے حق میں نہیں، بلکہ اس کے خلاف ہیں۔ وہ اس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ایسا نہ ہوتا دیکھ کر یہ کہا جائے گا کہ جو افسوس یا مذمت کر رہے ہیں، وہ سچ نہیں بول رہے ہیں۔ وہ دل سے قاتل کے ساتھ ہیں۔ اس طرح سماج کو تقسیم کرنے کی سازش ہوتی رہی ہے اور اب بھی ہوتی رہے گی۔

راجستھان حکومت نے بلا تاخیر کارروائی کی۔ فوراً گرفتار کر لیا۔ خصوصی عدالت میں مقدمے کی سماعت تیزی سے کی جائے گی۔ ان سب کے باوجود بی جے پی لیڈر اس قتل کے بعد کانگریس حکومت پر اپیزمنٹ کا الزام لگا رہے ہیں۔ وہ وزیر اعلیٰ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس کے لیےانہیں ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔

یہ وہی لوگ ہیں جن کا کہنا ہے کہ 2000 میں گجرات میں تقریباً 2000 ہلاکتوں اور لاکھوں لوگوں (عام طور پر مسلمانوں) کے بے گھر ہونے کے لیے کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، بلکہ جو ایسا کہتا ہے، وہی مجرم ہے جیسا ابھی تیستا اور سری کمارکی گرفتاری پر خوشی کی لہر سے ظاہر ہوتا ہے۔

اس قتل کے بہانے محمد زبیر کی گرفتاری کو جائز ٹھہرایا جا رہا ہے۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اور بھی لوگوں کو گرفتار کیا جائے جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والے بی جے پی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے مہم چلائی ہے۔

اس مطالبے میں جو بے ایمانی ہے وہ ان لوگوں کو بھی معلوم ہے جو یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم یہ مان لیں کہ یہ قتل بی جے پی لیڈروں کے نفرت انگیز پروپیگنڈے کے خلاف مہم کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس لیے جہاں مسلمان اس قتل سے صدمے میں ہیں، وہیں بی جے پی لیڈروں میں ایک نیا جوش ہے۔ وہ اکثریت خطرے میں ہے، کا نعرہ بلند کرتے ہوئے سڑکوں پر لوگوں کو لانے میں مصروف ہیں۔

اس قتل کی سفاکیت کے باوجود اس پروپیگنڈے کو قبول نہیں کیا جا سکتا کہ ہندو خطرے میں ہیں۔ اس قتل کے بہانے جو لوگ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں، وہی قتل و غارت گری اور تشدد کے پیروکار ہیں۔

ہم سب کو یہ سمجھنا ہو گا کہ ایک منصوبہ بند سازش چلائی جا رہی ہے کہ کسی ایک واقعہ پر ہندو مسلمان ایک آواز میں نہ بول پائیں۔ ہمیں اس مشترک، مشترکہ ہندوستانی سرزمین کو تلاش کرنا ہوگا جو انسانی سرزمین ہے۔

(بشکریہ: دی وائر :یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN