جمشید پور : (ایجنسی)
’’ ہم دونوں کو تھانے میں ٹارچر کرنے کےبعد آرزو کو منشی کے کمرے میں زمین پر لیٹنے کے لیے کہا گیا اور مجھے اس کی پینٹ اتارنے کا حکم دیا۔ میں نے سوچا کہ وہ اس کی چوٹیں دکھانا چاہتے ہیں ، جب میں نے اس کی پینٹ نیچےکھینچی تو پولیس والوں نے مجھے آرزو کے ساتھ بد فعلی کے لیے کہا، میںنے رونا شروع کردیا اور کہاکہ وہ بھلے ہی مجھے مارڈالیں لیکن گناہ کرنے پر مجبور نہ کریں۔ مجھ سے کہا گیا کہ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو وہ تمہارے ساتھ ایسا کرے گا۔ ‘‘
یہ خوفناک رونگٹے کھڑے کردینے والی کہانی افغانستان کی نہیں بلکہ بھارت کی ریاست جھارکھنڈ کے جمشید پور کے دو مسلم نوجوانوں کی ہے، جن کے ساتھ ایک پولیس اسٹیشن میںنہ صرف ٹارچر کیا گیا بلکہ مذہب کی بنیاد پر بھدی اور ناقابل ذکر گالیاں دی گئیں۔ یہاں بی جے پی کی نہیں بلکہ یوپی اے کی حکومت ہے ۔
عبدالخالد عرف آرزو (25) اور محمد اورنگ زیب (30) کو 26 اگست کو جمشید پور کے کدما تھانے میں اپنی زندگی کاخوفناک تجربہ ہوا۔یہ شاستری نگر بلاک نمبر 2 میں رہتے ہیں ۔ یہ سب ایس ایچ او منوج ٹھاکر کی موجودگی میں تھانے کے منشی کے کمرے میں ہوا۔ دونوں کاالزام ہے کہ سب انسپکٹر برش وردھن اور تیش ٹھاکر سمیت سات دیگر پولیس اہلکار ملوث تھے ۔ ایس ایچ او یہ بات قبول کرتے ہیں کہ انہیں ایک کیس کی تفتیش میں بلایا گیا تھا لیکن تشدد کی تردید کرتے ہوئے دونوں کو جھوٹا بتاتے ہیں ۔

اورنگ زیب عرف مسٹر نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان سے نام بتانے کو کہا اور جب ’محمد اورنگ زیب‘ بتایا تو پولیس والوں نے کہا تم جانتے ہو یہ دونوں مرچکے ہیں۔ ہمارے مذہب کے خلاف نازیبا اور قابل اعتراض الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا ’’ تم اس ملک کو طالبان جیسا بناؤ گے ، تم نے افغانستا ن کی حالت دیکھی ہے، وہیں بھیج دیں گے ۔ اورنگ زیب نے کہا جسمانی اذیت سے زیادہ ذہنی ہراسانی اور ہندو مسلم گالیاں ہیں ۔ جنہوں نے روح کو زخمی کردیا۔ اس واقعہ کے بعد ٹھیک سے سو نہیں پا رہے ہیں ۔ دونوں زخموں کا علاج کرارہے ہیں کیونکہ ان کو لاٹھیوں اور کرکٹ کی وکٹوں سے مارا گیا ۔
واضح رہے کہ ان دونوں کو ایک ہندو لڑکی کے ساتھ مسلم لڑکے کے بھاگنے کے سلسلے میں بلایا گیا تھا۔ وحشیانہ تشدد اور حراست کے دوران ایک دوسرے کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کیا گیا ۔ آرزو کو 24 اگست کی رات کو اٹھایا اور اورنگ زیب کو 26 اگست کی صبح بلایا گیا ۔ بہرحال دونوں نے جمشید پور کے ایس ایس پی کو ایک شکایت دی ہے جس میں تمام تفصیلات کا تذکرہ کیاہے ۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق یہ شکایت 27 اگست کو فائل کی گئی جبکہ میڈیکل رپورٹ 2 بجے رات کو کرائی گئی۔ اورنگ زیب کے دماغ کا سی ٹی اسکین کرانے کی رائے دی گئی ۔ انڈین ایکسپریس کا کہنا تھا کئی اعلیٰ افسران کو حقیقت جاننے سے متعلق فوج کیامگر انہوںنے کال اور مسیج پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔









