تحریر: وجے ترویدی
دہلی میں ایف ایم ریڈیو پر کجریوال حکومت کا اشتہار آرہا ہے جس میں وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال دارالحکومت کے دو کروڑ لوگوں سے ان کے ساتھ دیوالی منانے کی اپیل کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ بھگوان رام دہلی پر کرپا کریں گے ۔ آخر میں کیجریوال کہتے ہیں :’ جے شری رام‘۔ یوں،مجھے تو اس میں سے کسی بات میں کوئی پریشانی یا دقت نہیں ہے ، لیکن حیرانی ضرورہورہی ہے ۔
کیا یہ وہی اروند کیجریوال ہیں جو ہندوستان کی سیاست کو بدلنے آئے تھے۔ نئی سمت دینے کا وعدہ کرکے اور کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کی بات مانیں تو وہ مسلمانوں کی خوشامد کی سیاست کے ساتھ چلنے کےحق میں رہے تھے اور رام کا نام لینے سے پرہیرز کرتے تھے ۔ پھر اب وہ ایودھیا بھی ہوآئے۔ درشن بھی کئے اور سریو کی آرتی بھی ۔ اس سے پہلے منیش سسودیا صاحب بھی ایودھیا کی یاترا کرکے آگئےہیں ۔
کیجریوال نے یوپی میں تو وعدہ کیا ہی کہ اگر وہاں عام آدمی پارٹی کی سرکار بنتی ہے تو بزرگوںکو ایودھیا کی یاترا مفت کروائیں گے لیکن من شاید اتنے سے نہیں بھرا تو پھر دہلی آکر اب وہ خود کو شرون کمار بتارہے ہیں ۔ کیجریوال سرکار نے فیصلہ کیاہے کہ دہلی کے بزرگوں کو بھی ایودھیا تیرتھ کی یاترا کرائی جائے گی۔










