نئی دہلی : (ایجنسی)
حکومتوںکو ہارنا پسند نہیں۔ ہم لوگوں نے انہیں اپنا’مائی باپ‘ جو بنایاہو اہے ۔ جو ہمارے مفاد کے بارے میں سب سےاچھی طرح جانتے ہیں۔ جمہوریت میں اقتدار کی یہ برتری منظور نہیں، لیکن ہندوستانی عوام کو ہے ۔ نتیجہ وہی ہے، جو ہم اترپردیش کے لکھیم پور اور پورے ملک میں دیکھ رہے ہیں ۔ جہاں ریاست کی مشینری اپنے ہی ملک کے شہریوں کے خلاف لڑرہی ہے ۔
حکومتوں کا ماننا ہے کہ جب وہ احتجاج کو دبانے کے لیے طاقت اور تشدد کا استعمال کرتے ہیں تو انہیں ووٹروں کی حمایت حاصل ہوتی ہے ۔ ووٹروں کو میڈیا نے اندھا بنا رکھا ہے ، جو یہ یقینی بناتے ہیں کہ صرف سرکاری پروپیگنڈہ ہی ناظرین وقاری تک پہنچے۔
نئی دہلی کے انسٹی ٹیوٹ آف پرسیپشن اسٹڈیز کے تحت واچ ڈاگ ، ریٹ دی ڈبیٹ ( آر ٹی ڈی) گزشتہ 10 مہینوں سے کسان تحریک پر میڈیا کوریج کی اسٹڈی کررہی ہے ۔ لکھیم پور کھیری میں 3 اکتوبر کو ہوئی اموات کے بعد، آر ٹی ڈی نے 4 اکتوبر کو صبح 11:30 بجے کے درمیان 19,800سکینڈ کے فوٹیج کا سیمپل لے کر میڈیا کوریج کو اسٹڈی کی۔ 11 چینلوں کے نتیجے کچھ اس طرح ہیں:
’آج تک‘ نے ڈبیٹ میں لکھیم پور تشدد اور اس مدعے پر بحث کی کہ اس وقت سیاست دانوں کو لکھیم پور کا دورہ کرنا چاہئے یا نہیں۔
’انڈیا ٹوڈے‘ نے لکھیم پور تشدد ، اپوزیشن لیڈروں کی حراست پر فوکس کیا، ساتھ ہی نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے ذریعہ آرین خان کی گرفتاری کو بھی کور کیا۔
’این ڈی ٹی وی 24X7 ‘نے لکھیم پور تشدد اور اترپردیش پولیس کی طرف سے اپوزیشن لیڈروں کو روکنے؍حراست میں لینے کے پہلوؤں کا احاطہ کیا۔
’نیوز 24 ‘ نے لکھیم پور واقعے میں شامل تمام فریقین ، ملزمان اور متاثرین ، کارروائی سے متعلق متوازن سوالات پوچھے۔
’زی نیوز‘ نے اپوزیشن لیڈروں کی نظر بندی کو دکھایا اور اس پر بحث کی کہ کیا اپوزیشن پارٹیاں انتخابی ریاست میں صرف سیاسی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔
’ریپبلک ورلڈ ‘نے لکھیم پور تشدد کے جواب میں لکھنؤ میں جلائی گئی پولیس جیپ پر فوکس کیا ہے اور اسے کسانوں کے احتجاج سے جوڑا ۔
’سی این این- نیوز 18 ‘کی کوریج دہلی -یوپی بارڈر کو بندکرنے سے متعلق تھی، جس سے مسافروں کو پریشانی ہوئی اور کسانوں کے احتجاج پر دباؤ ڈالا۔
’نیوز 18 ہندی‘نے سی این این نیوز 18کے عام کوریج کے علاوہ اکھلیش یادو اور کانگریس کے احتجاج کو کوریج کیا اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا اور ان کے بیٹے آشیش مشرا کا انٹرویو کیا۔
’این ڈی ٹی وی انڈیا‘ نے گراؤنڈ رپورٹ کی اور اپوزیشن لیڈروں کی نظربندی کو کور کیا۔
’اے بی پی نیوز‘ نے ان کے انتخابی شو – شیکھر سمیلن پر توجہ مرکوز کیا، جس میں پنجاب سرکارکے مدعوں پر پنجاب سرکار کے ایک موجودہ وزیر کے ساتھ بحث کی جارہی تھی۔
’ریپبلک بھارت ‘نے مبینہ تشدد کے ویڈیو دکھا کر پوچھا کہ کیا لکھیم پور کے کسان کی شکل میں غنڈے ہیں ، لیکن انہوںنے لکھیم پور میں مارے گئے کسانوں کا کوئی ذکر نہیں کیا یا کوئی ویڈیو نہیں دکھایا ۔










