لکھیم پور کھیری ( ایجنسی)
کل تک پریس کانفرنس کر کے خود کو جائے وقوع پر نہ ہونے کی دلیل دینے والے آشیش مشرا کو آخر کار پولیس نے تکونیہ واقعہ کے وقت جائے وقوع پر ہی موجود رہنے کی تصدیق کرتے ہوئے ہفتہ کو جیل بھیج دیا۔ گرفتاری سے پہلے کرائم برانچ دفتر میں اس سے 12 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ اس دوران آشیش مشرا نے بنویر پور میں ہی رہنے کی دلیلیں ، حلف نامہ اور ویڈیو بھی جانچ ٹیم کو دستیاب کرائے تھے۔ جمعہ کو گھر پر نوٹس چسپاں ہونے کے باوجود حاضر نہ ہونے کے بعد سے آشیش کی نگیٹیو مارکنگ شروع ہوگئی تھی۔ ہفتہ کو بارہ گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد سپرویزن کمیٹی اس فیصلے پر پہنچی کہ اسے گرفتار کرلیا جائے۔ جمعہ کو پوچھ گچھ کے لیے نہ آنے کی وجہ میں متضاد باتیں سامنے آئیں۔ کبھی جانکاری نہ ہونے تو کبھی طبیعت خراب ہونے کی دلیل دی گئی۔ سپرویزن کمیٹی واقعہ کے وقت آشیش کی موجودگی پر ہی توجہ مرکوز کرتی دکھی تو وہیں آشیش ساتھ لے جائے گئے حلف نامے کو ہی پکے ثبوت کے طور پیش کرتا رہا۔

حلف نامے میں گاؤں والوں نےواقعہ کےوقت آشیش کے بنویر پور میں ہی ہونے کی تصدیق کی ہوئی تھی۔ وہیں بنویر پور میں چل رہے دنگل پروگرام کے اختتام کا وقت دو بجے سے ڈھائی بجے تک تھا۔ واردات کے آدھے گھنٹے بعد بند ہوچکے دنگل کو دوبارہ شروع کراکر ساڑھے تین بجے ختم کیا گیا ۔
اسے سپرویزن کمیٹی نے نگیٹیو مارکنگ دی۔ تاہم آشیش نے خود بھی اعتراف کیا کہ وہ دنگل پروگرام کے دوران دو بجے کے قریب پنڈال سےچلا گیا تھا، بعد میں دوبارہ پہنچا تھا۔
دنگل چھوڑنے کی وجہ بتاتے ہوئے آشیش نے کہا تھا کہ وہ ڈپٹی سی ایم کی آمد کے دوران پیش کیے جانے والے کھانے کے معیار کو جانچ گیاتھا، جبکہ پروٹوکول کے مطابق یہ کام ان کا نہیں تھا۔ اس لئے آشیش کی دلیل کو سپرویزن کمیٹی نے تسلیم نہیں کیا ۔ وہیں رہی سہی کسر سوالوں کے جواب دینے کے طریقے نے پیدا کردی۔ کبھی سوالات کے الجھے ہوئے جواب تو کبھی خاموش رہتے ہوئے تو زیادہ ٹال مٹول کرنے والے جوابات نے تفتیشی ٹیم کے صبر کاامتحان شروع کردیا تھا ۔
سوال کے جواب جب دوسرے نکات سے ملائے جانے پرمتضاد باتیں ملیں۔ جن لوگوں کی جانب سے حلف نامہ دیتے ہوئے آشیش مشرا کے گاؤں میں رہنے کی بات کہی جا رہی تھی وہ بھی سپرویزن کمیٹی کی کسوٹی پر کھرے نہیں اترے۔

اس کے علاوہ رہی سہی کسر بنویر پورمیں ہی لگی ایک سی سی ٹی وی کی ویڈیو کلپ نے پوری کردی، جس میں تھار گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اور جاتے ہوئے آشیش مشرا مونو کی فوٹیج دکھ رہی تھی ۔ ڈی وی آر میں دیکھنے کے بعد سپرویزن کمیٹی نے حقیت سے پردہ ہٹانا شروع کردیا تو آشیش مشرا جواب نہیں دے پایا ۔
تقریباً 12 گھنٹے چلی پوچھ گچھ کے بعد حراست میں لینے اور گرفتار کرکے جیل بھیجنے کی تیاریوں کے درمیان آشیش مشرا کی نگیٹیو مارکنگ نے جانچ ٹیم کو اچھے اشارے دے دیئے۔
ان پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ،تفتیشی ٹیم اور کرائم برانچ انسپکٹر ودیا رام دیواکر نے پولیس کسٹڈی ریمانڈ کی عرضی دیتے ہوئے عدالت سے اپیل کی کہ 12 گھنٹے تک چلی پوچھ گچھ کے دوران سوالات کے ٹال مٹول کرنے والے جواب اور سوالات کے جواب دینے کے مقام پر بار بار خاموش ہو جانا و اس کے علاوہ غلط اور الجھادینے والی جانکاری دے کر بچنے کی کوشش کرنے کے ساتھ گمراہ کن باتیں کہتے ہوئے جانچ ٹیم کو بھٹکانے کی وجہ سے تفتیش پوری نہیں ہو پارہی ہے ۔
تفتیشی ٹیم کے کام میں عدم تعاون کی وجہ سے پوچھ گچھ کیا جانا ضروری ہے ، جس کے لیے 14 دنوں کی پولیس کسٹڈی کی مانگ کی۔ جانچ ٹیم نے دلیل دی کہ تھار گاڑی میں اور کون کون سوار تھا۔ کس کا کیا رول ہے۔ سازش وغیرہ سے جڑی باتیں سامنے آسکیںاس کے لیے تفصیلی تفتیش کی جانی ضروری ہے ۔
سی او سنجے ناتھ تیواری نے بھی کرائم برانچ کے انچارج اور تفتیشی افسر ودیا رام دیواکر کی عرضی سے مطمئن ہونے کے بعد خود عدالت سے اپیل کرتے ہوئے تفتیش کار کی درخواست کو آگے بڑھایا کہ ملزم آشیش سے پورے واقعہ کے کئی پہلوؤں کو کھلنے کی امید ہیں۔ لیکن وہ پولیس جانچ میں تعاون نہیں کررہای ہے ۔ جواب گول مول دے رہاہے ۔ صحیح بات نہیں بتا رہاہے ، جس سے طویل باریکی پوچھ گچھ اور ان کےتصدیق کراس چیکنگ کی ضرورت ہے ۔ اس کے لئے 14دنوں کی کسٹڈی پولیس کو ملنی چاہئے ۔

نوٹس دینے کے باوجود اگلے دن آنا، سوالوں کا صحیح طرح سے جواب نہ دینا، پولیس کے سوالات پر بار بار خاموش رہنا وغیرہ باتوں کو نشان زد کرتے ہوئے تفتیش کار کی جانب سے 14 دنوں کی کسٹڈی ریمانڈ عرضی دی گئی تھی، جس سے آگے بڑھاتے ہوئے عدالت میں داخل کیا گیا ہے ۔ اس پر عدالت نے پولیس کی کسٹڈی ریمانڈ عرضی پر جواب داخل کرنے کا وقت دیتے ہوئے عرصی پر فیصلہ لینے کے لیے آج کی تاریخ مقرر کی تھی ۔










