لکھیم پور کھیری: (ایجنسی)
لکھیم پور کھیری میں بی جے پی لیڈروں کے ساتھ تصادم کے بعد شروع ہونے والا ہنگامہ جلد ختم ہونے کا امکان نہیں ہے۔ لکھیم پور کھیری ایک نیا میدان جنگ بننے جا رہا ہے۔ راکیش ٹکیت بھی کسانوں کی ایک جتھہ کے ساتھ دہلی بارڈر سے لکھیم پور کھیری کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔ راکیش ٹکیت نے کہا کہ کسانوں پر حملہ کیا گیا۔ ان پر فائرنگ کی گئی ہے۔
بھارتیہ کسان یونین نے اپنے آفیشیلٹوئٹر ہینڈل سے راکیش ٹکیت کی روانگی کے بارے میں معلومات دینے کے ساتھ ہی بھارتیہ کسان یونین نے کہا کہ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کے بیٹے کی کار سے تین کسانوں کی موت ہو گئی ہے۔ کسان لیڈر تجیندر سنگھ ورک زخمی ہیں،حالانکہ ابھی تک دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔
بھارتیہ کسان یونین کے قومی ترجمان راکیش ٹکیت سیکڑوں حامیوں کے ساتھ اتوار کی شام 5.15 بجے غازی پور بارڈر سے کھیری کے لیے نکل گئے ہیں۔ سنیکت کسان مورچہ نے ملک بھر کے کسانوں سے الٹ موڈ پر رہنے کی ہدایت بھی دی ہے ۔
کھیری کے لیے روانہ ہونے سے پہلے صحافیوں سے بات چیت میں راکیش ٹکیت نے کہاکہ وہاں کسان واپس لوٹ رہے تھے ۔ ان پر گاڑیوں سے حملہ کیاگیا۔ فائرنگ کی گئی۔ اس میں کئی کسانوں کی موت کی خبر ہے ۔ ہم یہاں سے لکھیم پور کھیری کے لیے نکل رہے ہیں ۔ رات 12-1بجے تک ہم کھیری پہنچ سکتے ہیں ۔ وہاں متاثرین کسانوں کے درمیان جائیں گے اور ان کی بات کو سب کے سامنے رکھیں گے ۔
اس سے پہلے راکیش ٹکیت اتوار کی سہ پہر حیدرآباد میں ایک پروگرام کرنے کے بعد غازی پور بارڈر پہنچے۔ اس دوران انہیں کھیری میں پرتشدد احتجاج کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اس نے فوراً ایک ہنگامی اجلاس بلایاہے ۔ اپنے خیمے میں راکیش ٹکیت نے سینئر کسان رہنماؤں یودھویر سنگھ ، راج ویر سنگھ جادون وغیرہ سے بات چیت کی۔ اس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ راکیش ٹکیت فوری طور پر کھیری کے کسانوں کی حمایت میں وہاں کا سفر کریں گے۔کسانوں سے کہا گیا کہ وہ غازی پور بارڈر پر پہنچ جائیں۔ جب غازی پور بارڈر پر ماحول گرم ہوا تو کئی تھانوں کی پولیس بھی پہنچ گئی۔ بھارتیہ کسان یونین کے ایک سینئر لیڈر گڈو پردھان نے کہا کہ لکھیم پور کھیری میں کسانوں کی موت کے بعد ملک بھر کے کسانوں میں غصہ ہے۔ جلد ہی ایک بڑی تحریک کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔
غازی پور بارڈر سے کسان کے ترجمان جگتار سنگھ باجوہ نے بتایا کہ وزیر کے بیٹے نے کسانوں کو روند ڈالا۔ اس میں کچھ کسان شہید ہوئے ہیں۔ یہ ہندوستان کی تاریخ میں اس آمرانہ حکومت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ جمہوری طریقے سے کسی کو احتجاج کرنے کا حق بھی اس حکومت میں نہیں ہے۔ تمام کسان اپنے اپنے علاقوں میں الرٹ رہیں۔ صبر وتحمل بنائے رکھیں ۔ ایس کے ایم کی جو کال آئے گی اس پر عمل کیا جائے گا۔










