اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

لکشدیپ۔ سازشوں کا شکار

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
لکشدیپ۔ سازشوں کا شکار
39
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

لکشدیپ عرب ساگر میں واقع ایک خوبصورت جزیرہ ہے جو اپنی خاص تہذیب و تمدن کے لئے اپنی نمایاں حیثیت کا حامل ہے، جہاں خواتین کی شرح خواندگی بھی تقریبا 96 فیصد ہے، قدرتی مناظر اور امن و امان کا گہوارہ اس وقت سازشوں کا شکار ہونے کی وجہ سے خبروں کا مرکز بنا ہوا ہے، ملک کا سب سے پرامن علاقہ جہاں پر جرائم کی شرح پورے ملک کے مقابلے میں سب سے کم ہے، لیکن وہاں غنڈہ ایکٹ جیسا اسپیشل قانون بنا کر سب کو موجودہ حکومت نے تشویش میں ڈال دیا ہے۔

آج سے تقریبا سو سال پہلے جب ہمارا ملک بھارت انگلینڈ کے تسلط میں تھا، اس وقت فروری 1919 میں بھارت کے لئے انگلینڈ حکومت کی امپیریل قانون ساز کونسل نے روولٹ ایکٹ پاس کیا تھا جس کے تحت ہندوستان میں انگریز حکومت کسی کو بھی شک کی بنیاد پر بغیر کوئی مقدمہ چلائے پولیس کے ذریعے گرفتار کرکے قید میں رکھ سکتی تھی، لیکن آخر کیا وجوہات ہیں جو آزادی حاصل کرنے کے تقریبا 75 برس گزرنے کے بعد لکشدیپ میں ایسے ہی ایک کالے قانون غنڈہ ایکٹ کو نافذ کرنے کی ضرورت آن پڑی ہے۔ آج لکشدیپ میں غنڈہ ایکٹ کے تحت پولیس کسی کو بھی بغیر عدالت میں مقدمہ چلائے، مروجہ فوجداری قوانین اور کرمنل جسٹس سسٹم کو بالائے طاق رکھ کر ایک سال تک قید میں رکھ سکتی ہے، بلا شبہہ یہ قانون جمہوری اصولوں اور انصاف کے قدرتی ضابطوں کے برخلاف ہے۔

اس قانون کے پیچھے کارفرما عوامل پر غور کرنا ضروری محسوس ہوتا ہے، لکشدیپ مرکزی حکومت کے ماتحت ایک ایسا علاقہ ہے جو 35 جزائر پر محیط ہے جس کی 97 فیصد آبادی مسلم ہے، ان جزائر کے مجموعے کو ہم لکشدیپ جزائر کے نام سے جانتے ہیں، لکشدیپ جزائر کی کل آبادی 2011 کی مردم شماری کے مطابق 64473 تھی، جس کا کل رقبہ تقریبا 13 مربع میل یعنی 32.62 کلومیٹر کا ہے۔ لکشدیپ جزائر کی نہ تو کوئی قانون ساز اسمبلی ہے اور نہ ہی کوئی وزیر اعلی ہوتا ہے، حکومتی ڈھانچہ تین اہم ستون پر منحصر ہوتا ہے، لکشدیپ جزائر کا ایک ممبر آف پارلیمنٹ ہوتا ہے جو وہاں کی عوام الیکشن کے ذریعے منتخب کرکے لکشدیپ کی نمائندگی کے لئے پارلیمنٹ میں بھیجتی ہے، وہاں کی علاقائی گورننس  یا حکومتی نظم و نسق کے لئے پنچایتی نظام ہوتا ہے نیز تیسرا اور سب سے اہم انتظامی ذمہ دار صدر جمہوریہ کا نامزد کردہ منتظم (ایڈمنسٹریٹر) ہوتا ہے، اس وقت لکشدیپ جزائر کے ایڈمنسٹریٹر گجرات کے سابق وزیر داخلہ پرفل کھوڑا پٹیل ہیں جن کو سابق ایڈمنسٹریٹر دنیش شرما کے انتقال کے بعد 5 دسمبر 2020 میں صدر جمہوریہ نے نامزد کیا تھا۔ 21 اگست 2010  میں جب سی بی آئی نے گجرات کے وزیرداخلہ امت شاہ کو سہراب الدین قتل کیس میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا تو پرفل کھوڑا پٹیل کو گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی نے امت شاہ کی جگہ گجرات کا وزیرداخلہ نامزد کیا تھا۔ 2014 میں جب نریندر مودی ملک کے وزیراعظم بن گئے تو پرفل پٹیل کو 2014 میں ہی دمن اور دیو جزائر کا ایڈمنسٹریٹر نامزد کردیا گیا، 2016 میں پھر پرفل پٹیل دادر اور نگرحویلی جزائر کے بھی ایڈمنسٹریٹر بنادیے گئے، دسمبر 2019 میں مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کے ذریعے ایک بل پاس کرکے فیصلہ کیا کہ 26 جنوری 2020 سے دمن ، دیو ، دادر اور نگر حویلی کو ایک متحدہ مرکزی ماتحت علاقہ بنایا جائے گا، اس متحدہ مرکزی ماتحت علاقے کا پہلا ایڈمنسٹریٹر پرفل کھوڑا پٹیل کو ہی نامزد کیا گیا۔

آخر وہ کون سے عوامل کارفرما تھے جن کے تحت آرایس ایس سے تعلق رکھنے والے گجرات کے ایک بی جے پی نیتا کو یکے بعد دیگرے متعدد جزائر کا صدر جمہوریہ ایڈمنسٹریٹر نامزد کرتے چلے گئے، اور پرفل پٹیل نے ان جزائر میں ایک خاص نقطہ نظر سے اپنی پالیسیوں کو روبہ عمل لانے کی کوشش کی جن کی وجہ سے ان جزائر میں بدامنی پھیلتی چلی گئی، لکشدیپ میں آج جو بے چینی پائی جارہی ہے اس سے پہلے 2019 میں دمن میں بھی بے چینی کا ماحول بنا تھا جب پرفل پٹیل نے دمن کے ساحلی علاقوں پر واقع مقامی لوگوں کے تقریبا 90 مکانات کو منہدم کرکے ترقیاتی پروجیکٹ کو شروع کرنے کی کوشش کی تھی، عوام کے احتجاجات ہونے پر دفعہ 144 کا نفاذ کرتے ہوئے دو سرکاری اسکولوں کو عارضی جیل میں تبدیل کردیا تھا۔

23 فروری 2021 کو ممبئی کے ایک ہوٹل سے دادر و نگر حویلی جزائر کے ساتویں بار منتخب ممبر آف پارلیمنٹ موہن دولکر کی لاش برآمد ہوئی تھی، خودکشی کے بعد 15 صفحات کا ایک سوسائڈ نوٹ بھی برآمد ہوا تھا جس میں وہاں کے ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل کے ذریعے ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا، یہ الزام لگایا گیا کہ ان کو 25 کروڑ روپے دینے کے لئے مجبور کیا جارہا تھا جس کے نہ دینے پر جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکی دی جارہی تھی، اصولی طور پر پرفل پٹیل کو مستعفی ہوکر عدالت میں حاضر کرنا چاہیے تھا تاہم موجودہ حکومت نے لکشدیپ کا بھی ایڈمنسٹریٹر نامزد کردیا۔

لکشدیپ کے ایڈمنسٹریٹر بننے کے بعد پرفل پٹیل نے وہاں بھی کچھ اہم انتظامی امور میں بڑی تبدیلیاں کیں، سب سے اہم پنچایتی نظام کے اختیارات میں سیندھ لگاتے ہوئے پنچایت کے پانچ اہم شعبوں کے اختیارات چھین لئے جن میں تعلیم، ہیلتھ کیئر، زراعت، پشو پالن اور مچھلی پالن کے شعبہ جات شامل تھے۔ پرفل پٹیل نے لکشدیپ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا شعبہ قائم کیا۔ مجوزہ ضابطہ مرکزی حکومت کے ذریعے نامزد منتظم اور اس کے واسطے سے مرکزی حکومت کو بے دریغ طاقت عطا کرتا ہے۔جس کے تحت لکشدیپ میں موجود زمین کی ملکیت اور اس کے استعمال کے حق کو براہ راست حکومت اور اس کے ادارے کو اپنی ملکیت میں لینے اور اس میں براہ راست مداخلت کرنے کا اختیار مل جاتا ہے۔اس مسودے کی دفعہ 29 حکومت کو ’ترقیاتی‘ سرگرمیوں کے لیے کسی بھی اراضی کو حکومت کی نظر میں موزوں محسوس ہونے پر استعمال کرنے کا اختیار دیتی ہے۔

پرفل پٹیل نے لکشدیپ جزائر میں ایک اسمارٹ سٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ پورے ملک میں ایک بھی اسمارٹ سٹی بنانے میں یہ حکومت کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ اس اسمارٹ سٹی اور سیاحت کے فروغ کے لئے لکشدیپ میں شراب کی خریدوفروخت سے پابندی ہٹادی گئی ہے جو کہ لکشدیپ میں ممنوع تھی، یہاں یہ ذکر کرنا اہم ہے کہ پرفل پٹیل گجرات میں شراب پر پابندی کے حق میں اہم آواز ہوا کرتے تھے۔ لکشدیپ میں بیف پر پابندی لگادی گئی ہے، مڈڈے میل سے گوشت کو ہٹادیا گیا ہے، اب لکشدیپ میں گائے کاٹنے یا اس کا گوشت رکھنے پر عمر قید تک کی سزا کے ساتھ ساتھ 5 لاکھ تک کا جرمانہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔ تعجب ہے کہ جو حکومت گوا اور نارتھ ایسٹ میں گائے کا گوشت دینے کا وعدہ کرتی ہے، دنیا میں تقریباسب سے زیادہ بیف گوشت کی سپلائی کرتی ہے وہی حکومت لکشدیپ میں پابندی لگاتی ہے۔

لکشدیپ جزائر میں بے چینی کی ایک بڑی وجہ وہاں ایک ایسے قانون کا تعارف ہے جس کے تحت اگر کسی شخص کے دو سے زیادہ بچے ہوں گے تو وہ الیکشن نہیں لڑ سکے گا، جب کہ پورے ملک میں کسی بھی جگہ ایسا کوئی قانون نافذ نہیں ہے، حتی کی حکمراں جماعت بی جے پی کے 303 ممبر آف پارلیمنٹ میں سے 96 ایم پی کے تین یا تین سے زائد بچے ہیں۔

آج لکشدیپ جزائر کو جو کہ اپنی خوبصورت قدرتی مناظر اور امن و امان کے لئے جانا جاتا تھا وہاں پر حکومت باہر سے مخصوص سیاسی و معاشی پالیسی کے تحت ایسے ایڈمنسٹریٹر کو مسلط کررہی ہے جو کہ ان کو انگریز کولونی ہونے کا احساس دلارہے ہیں، ترقیاتی پروجیکٹ کی آڑ میں وہاں پر بڑے بڑے ہوٹل قائم کرنا چاہتے ہیں، وہاں کی زمینوں کو بڑے صنعتی گھرانوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں اور ان عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف اٹھنے والی عوامی آواز کو دبانے کے لئے غنڈہ ایکٹ جیسے قانون کا نفاذ عمل میں لایا جارہا ہے جو کہ ایک جمہوری ملک کے لئے خطرے کی گھنٹی ہیں۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN