تحریر: شیلجا باجپئی
ش….ش… ،ٹیلی ویژن کی خبروں کا گہرا راز جاننا چاہتے ہیں؟ تو اندازہ لگائیں کہ کیا، عام طور پر دنیا الٹا نظر آتی ہے یا یوں کہہ لیں جیسے ’تارک مہتا‘ اپنے ’الٹا چشمہ‘ سے دیکھتا ہے۔ سبسونی پر سب سے زیادہ چلنے والے ہندوستانی شو ’تارک مہتا کا الٹا چشمہ‘ میں۔ 2021 آنکھوں کے لیے دلچسپ تھا، لیکن ہمیشہ یقین کرنے جیسا نہیںتھا۔
ہم نے واقعات کو الٹے پلٹے چشمے سے دیکھا – معنی واقعات یاہم دیٹرومین شو میں داخل ہوں، جہاں چیزیں ویسی نہیںہیں جیسی نظر آتی ہیں۔
کسان آندولن کو ٹی وی خبروں میں ’ آندولن جیوی‘ ، ’خالصتانی‘( زی نیوز)، 26 جنوری کی ٹریکٹر ریلی کے دوران ’ ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے والے‘ (ٹائمس ناؤ) کہہ کر بدنام کرتے نظر آئے ، سی این این نیوز 18 تو غصے میں چیخ پڑا،’بھارت یوم جمہوریہ پر شرمندہ ہوا ۔‘
فروری اور مئی کے درمیان مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابی مہم کی ہلچل کو یاد رکیجئے، بی جے پی کو فاتح قرار دیا گیا تھا۔
اپریل میں جب کورونا وائرس کی تباہی اپنے عروج پر تھی، ٹی وی کوریج بنگال میں وزیر اعظم اور بی جے پی کی انتخابی ریلیوں میں’ بھگوا سیلاب‘ (اے بی پی نیوز)، ‘لاکھوں، جشن اور جوش سے بھرپور… ‘،بتا رہا تھا ،بغیر یہ دکھائے کہ یہ کووڈ کے لیے سپر یڈر کاکام کررہے ہیں۔ پھر جب مرنے والوںکی تعداد بڑھنے لگی ،اسپتالوںکےباہر سڑکیں مریضوں سے پٹنے لگیں،اسپتالوں میں بستر، آکسیجن اور دوایوں کی قلت جان لیوا ہونےلگی تو نیوز چینلوں نےاسے تفصیل سے دکھایاضرور، مگر سیاسی بد انتظامی پر کوئی سوال نہیں اٹھایا۔
نیوز چینلز کی لکھیم پور کھیری واقعے کی رپورٹنگ کے بارے میں کیا خیال ہے جس میں آٹھ لوگ مارے گئے تھے۔ رپورٹنگ میں ‘’منصوبہ بند سازش‘ کے کلیدیملزم آشیش مشرا کو شک کا فائدہ دینے کی کوشش دکھی۔ جب کہ مظاہرین سے ‘’ پیٹ کر مار ڈالنے والوں‘ کے جواب مانگے گئے جس میں بی جے پی کے دو نام نہاد کارکن مارے گئے؟
آخر میں،یہ دیکھئے کہ اگلے سال ہونے والے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کو یوگی آدتیہ ناتھ کی غیر مشروط جیت کے طور پر ہمارے ہاتھ کیسے بیچا گیا۔
ان میں ہر معاملے میں تصویر ہمیں الٹی پلٹی دیکھی۔ دہلی کےٹکری ،سنگھو اورغازپور بارڈروں پر پرامن طریقے سے بیٹھےکسانوںکو نیوز چینلوںنے ناجانے کیا کیا نام دیےاوران پر اپوزیشن کامہرہ بنانےکا الزام لگایا۔’ لیفٹ – کانگریس کی جگل بندی‘ (انڈیا ٹی وی )، سی این این نیوز 18 نے تو ’ باہری ایجنسیوں کاہاتھ‘ تلاش لیا اور آپ کو فروری میں دیشاروی’ٹول کٹ ‘ تنازع کی یادہے ، جس میں روی کےساتھ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ ‘کو ’گلوبل ری پبلک ڈے سازش …‘ ( سی این این نیوز 18)کا؟ سازش کرنےوالا بتایا بیا؟روی نے مبینہ طور پر کسانوںکے مظاہرے کےلیے معصومانہ ’ٹول کٹ‘ میں کچھ لائنیں بدلدی تھیں، جس سے ری پبلک ٹی وی نے …. ’ سرکار کو غیرمستحکم کرنے اور ہندوستان کو بد نام کرنےکی بڑی بین الاقوامی سازش‘ کاحصہ بتایا۔ کیاواقعی؟
سال بھر کے دوران ان مظاہروں کو چینلز پر کافی کوریج ملا، بھارتیہ کسان یونین کے راکیش ٹکیت سال کے غیر متوقع ٹی وی اسٹار کے طور پر ابھرے لیکن بہت سے چینلز نے کسانوں کی کردار کشی کا رخ اپنایا ۔ زرعی قوانین یا حالات سے نمٹنے کےمودی سرکارکے طور طریقوں کی بات کرنے کے بدلےکسانوں کےاحتجاج سے آنے جانے والوں اور مقامی لوگوںکو ہونے والی تکلیف کو بتایا۔ (جو کچھ حد تک درست بھی تھا)۔
جب نومبر میں وزیر اعظم نے قوانین واپس لے لیے، ہم نے دیکھا کہ کسان احتجاج کے مقام پر وجےجلوسوں میں واپس جا رہے ہیں تو کسی نے انہیں، ’خالصتانی‘ یا اورکچھ نہیںکہا، نیوزچینلوںنے تو قطعی نہیں۔
بڑے پیمانے پر ناکامی
مغربی بنگال کے انتخابات کے دوران، ہر ہندی-انگریزی نیوز چینل نے بی جے پی کو جیت دکھانے کے لیے سب کچھ کیا۔ دسمبر 2020 سے تین بڑی شخصیات وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، بی جے پی صدر جے پی نڈا کی ‘’پریورتن‘ ریلیوں کا پورا لائیو کوریج کیا۔
ترنمول کانگریس سے بی جے پی میں آنے والے ہر دل بدل ،پارٹی کے ہر نئے آنے والے ہر نئے آےوالے اداکارمتھن چکرورتی اورآخر میں ’ یدھ کامورچہ نندی گرام‘ کو ٹیوی پر وی آئی پی ٹریٹمنٹ دیا گیا، جہاں ممتا بنرجی کو ان کے سابق ترنمول ساتھی شوبھندو ادھیکاری نے چیلنج کیا تھا۔ ایک چینل، پریا بندھو ٹی وی نے تو بی جے پی کو اچھی خاصی جیت دلائی دی تھی۔ جبکہ سی این این نیوز 18 نے ’ بی جے پی کی اکثریت‘ بتائی تو زی نیوزنے ’ ہوا میں بدلاؤ‘ کی بو سونگھی۔
ممتا بنرجی اور ترنمول نے انتخابات میں بی جے پی کا صفایا کردیا لیکن اگر آپ صرف ٹی وی نیوز کوریج پر رہتے تو یہ دیکھ کر آپ حیران رہ جاتے۔ یہ دوربین کے غلط پہلو سے چیزوں کو دیکھنے کی طرح ہے۔
کووڈ کی کوریج ہوئی لیکن زیادہ سوالات نہیں پوچھے گئے
کووڈ وبائی مرض اس کی خوفناک دوسری لہر کا ’ شیطانی ننگا ناچ‘ (انڈیا ٹوڈے) صاف صاف دیکھا گیا اورٹی وی نیوز میں تفصیل سے مگر کوئی شکایت نہیں۔ دہلی ، سورت، بھوپال، آگرہ ،لکھنؤ ،ممبئی سے لے کر چنی ،کوچی ،پٹنہ، رائے پور تک مایوسی اور موت کی داستانیں تھیں – ہر جگہ لاشیں، کاروں کی چھتوں پر (این ڈی ٹی وی 2437) تھری وہیلر میں (مرر ناؤ) ایمبولینس (نیوز ایکس)، شمشانوں میں (ری پبلک ٹی وی، آج تک)۔ چاروں طرف دکھ اور کرب تھا، آکسیجن کے لیے’ ‘اکھڑتی سانسیں‘ اور گنگا میں بہتی لاشوں کو بھی دیکھاگیا ۔ ٹائمس ناؤ پر آیا’’ زندگی دینے والی ندی اب مایوسی کا کارخانہ بن گئی ‘
اترپردیش میں بنگال دوہرایا جانا ہے
انتخابی پیشین گوئیاں بی جے پی کے لیے ایک آسان جیت کے بارے میں بتاتی ہیں اور نیوز چینلز اسےپارٹی، وزیر اعظم اور یوگی کی تعریفی کوریج کے ساتھ اسے مزید بلند کرتے ہیں۔ لیکن 2021 نے ہمیں کچھ سکھایا ہے تاکہ نیوز چینلز کے ذریعے ہماری آنکھوں کے سامنے پیش کیے گئے ’ثبوت‘ پر بالکل بھی یقین نہ کیا جائے۔ میڈیا کے پیغام کے سامنے اپنے آپ کو قابل رحم اور قبول کرنے کا احساس نہ کریں۔
نیا سال مبارک ہو سب کو
(بشکریہ: دی پرنٹ )










