کابل (ایجنسی)
حزب اسلامی کے سربراہ کہتے ہیں کہ افغانستان میں معاشی مسائل ہیں اور ملک بحران کی کیفیت سے گزر رہا ہے لیکن انھیں امید ہے کہ جب ملک میں ایک اچھی حکومت قائم ہوگی تو حالات بہتر ہوں گے۔ افغانستان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار نے کہا کہ ملکی حالات اچھے نہیں ہیں لیکن اگر تمام فریق مل جل کر کام کریں تو ہم حالات کو سنبھال سکتے ہیں اور کوئی ایک فریق اکیلے اس پورے مسئلے کو حل نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا ہی کچھ ہمیں طالبان کی جانب سے بھی سننے میں آ رہا ہے۔ تاہم انھوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ امریکہ افغانستان میں ایک مستحکم حکومت نہیں چاہتا اور شاید وہ اس وجہ سے یہاں کی حکومت کو کچھ عرصے تک تسلیم بھی نہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ چند ممالک نے مثبت اشارے دیے ہیں اور دباؤ ڈالنے کے بجائے وقت دینے کا کہا ہے۔
گلبدین حکمت یار نے پریس کانفرنس میں انڈیا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اخلاقی اور سیاسی ذمے داری یہ تھی کہ وہ دنیا کو اور افغانستان کو یقین دلائیں کہ وہ اب افغانستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے لیکن بجائے ایسا کرنے کے، انھوں نے تو ایک جنگجو گروپ کی حمایت کرنی شروع کر دی۔گلبدین حکمت یار نے کہا کہ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ایک سابق انڈین فوجی افسر کھلے عام احمد مسعود کے جنگجو گروہ کو مسلح کرنے کی باتیں کر رہا ہے اور وہ ایسا کرنے سے اجتناب برتیں۔ انھوں نے ناٹو افواج کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بھی اتنے فوجی یہاں تھے لیکن کچھ بھی نہیں ہوا اور ہمارا مشورہ یہ ہے کہ جنگ اور اس قسم کی حمایت کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار نے کہا کہ یہ ایک مسئلہ ضرور ہیں لیکن ناقابل حل مسئلہ نہیں ہیں اور غیر ملکی افواج کے جانے کے بعد پنجشیر کے مخالف جنگجو اور دولت اسلامیہ دونوں اس قابل نہیں رہیں گی کہ افغانستان کا امن خراب کریں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ یورپی ممالک اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لے کر آئیں گے اور افغانستان کی جانب خود مختار پالیسی اپنائیں گے بجائے صرف امریکی نقش قدم پر چلنے کے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایک پر امن افغانستان کے خواہشمند ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہاں کسی قسم کی کوئی بیرونی مداخلت نہ ہو اور افغان عوام خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں، لیکن سب سے پہلے اس کے لیے جنگ کا خاتمہ ضروری ہوگا تاکہ ایک عبوری حکومت کا قیام ہو اور آنے والے سو دنوں کی منصوبہ بندی کی جائے۔
افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد کی صورتحال کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار کہتے ہیں کہ افغان عوام ان تبدیلیوں سے خوش ہیں اور وہ اس کے خواہشمند تھے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ غیر ملکی قوتیں یہاں سے چلی جائیں اور یہ ہو گیا۔ ’اب شکر ہے کہ ایسا ہو گیا ہے اور سوائے پنج شیر کے پورے ملک میں امن ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ افغانستان پر جنگ باہر سے مسلط کی گئی تھی اور بیرونی قوتیں نہیں چاہتی تھیں کہ پر امن طریقے سے اقتدار کی منتقلی نہ ہو اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ جنگ ختم ہو لیکن اب ان کا ایجنڈا ناکام ہو گیا۔
گلبدین حکمت یار نے افغانستان سے باہر جانے والے شہریوں اور خواتین کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ باہر جانا چاہتے ہیں تو وہ ان کی اپنی مرضی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب بھی وہ غیر ملکیوں سے پوچھتے ہیں کہ انھوں نے خواتین کو کپڑوں کے علاوہ اور کیا دیا ہے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ گلبدین حکمت یار نے کہا کہ انھیں اس بات کا یقین ہے کہ طالبان خواتین کو نہ صرف ان کے حقوق دیں گے بلکہ ان کا تحفظ بھی کریں گے اور انھوں نے بھی طالبان کو مشورہ دیا تھا کہ خواتین کو شریعت کی رُو سے کام کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔ اسی حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم مغرب کے ’غیر اخلاقی تعلقات‘ کے خلاف ہیں اور اسلام نے مرد اور عورت کے لیے لباس اور ان کے حقوق کا تعین کیا ہوا ہے اور انھیں وہ حقوق پورے ملنے چاہئیں۔افغانستان میں حزب اسلامی کے رہنما اور ماضی میں روس کے خلاف جنگ لڑنے والے مجاہدین کی قیادت کرنے والے گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں ایسی حکومت ہونی چاہیے جو بین الاقوامی برادری کو منظور ہو۔ کابل میں ایک پریس کانفرنس سے بات چیت کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار نے کہا کہ غیر ملکی لوگ افغانستان میں اپنی مرضی کی حکومت لانا چاہتے ہیں اور اس لیے وہ طالبان پر پابندیاں لگانے کی دھمکی دے رہے ہیں اور کہہ رہے کہ ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایسا اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ ’اپنے لوگوں‘ کو حکومت میں لانا چاہتے ہیں۔ لیکن ہماری خواہش ہے کہ افغان عوام خود اپنی تقدیر کا فیصلہ کرے اور اس بات کو مد نظر رکھے کہ ان کے مذہبی اور قومی اقدار کیا ہیں۔
گلبدین حکمت یار نے کہا کہ ان کی جماعت طالبان کی حمایت کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ دیگر ممالک افغانستان پر پابندیاں عائد نہیں کریں گے۔انھوں نے کابل ایئرپورٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایئرپورٹ کی سکیورٹی کی ذمہ داری اس کے پاس ہونی چاہیے جو افغانستان کے بارے میں بری نیت نہ رکھتا ہو تاکہ ہم دنیا کے لیے کھلے رہیں اور اس طرح ہماری نقل و حرکت بند نہیں ہو گی۔











