تحریر: پرتیک گوئل
ممبئی کے بھائیکلا علاقہ کے مومن پورہ میں رہنے والے 61 سالہ محمد سلیم انصاری آج کل بسکٹ بیچنے کا کام کرتےہیں۔ گزشتہ ماہ اگست کی 26 تاریخ کو جب انہیںممبئی کرائم برانچ کی مقامی یونیٹ سے فون آیا تو ایک بار پھر سے ان کے دماغ میں ماضی کی وہ تمام کہانیاں تازہ ہوگئیں، جس کے سبب ان کی زندگی کے 22 سال برباد ہوگئے۔ دہشت گردی کے جھوٹے معاملے میں سپریم کورٹ سے باعزت بری ہونے کے پہلے انہیں 22 سال تک جیلوں میں گزارنا پڑا۔ جب انہیں کرائم برانچ سے فون آیا تو ان کے دماغ میں یہ بات آئی کہ کیا بے گناہ ہونے کے باوجود مرتے دم تک انہیں شک کی نگاہوں سے دیکھا جائے گا۔
سلیم انصاری پر کل نوبم دھماکوں کا الزام لگا تھا ۔ ممبئی کے مشہور مزگاؤں ڈاک پر وزارت دفاع کے لیے جہاز بنانے والی ایک یونٹ کے پلاننگ ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے والے سلیم کی گرفتاری 1994 میں ہوئی تھی اور 2016 تک وہ جیل میں رہے۔
سلیم نے اپنی آپ بیتی تفصیل سے بتاتےہیں :’ سات جنوری 1994 کی بات ہے، میں مومن پورہ کے مسجد سے مغرب کی نماز پڑھ کر باہر نکلا تھا، وہاں کچھ سادے کپڑوں میں پولیس والے لوگوں سے کچھ پوچھ گچھ کررہے تھے، میرےپاس بھی ایک آدمی آیا اور بولا ۔ صاحب آپ کو بلا رہے ہیں، میں ان کے پاس چلا گیا ، تب انہوں نے مجھے اپنی جیپ میں بٹھا لیا اور زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ مجھے پہلے معلوم نہیں تھاکہ وہ لوگ کون ہے، بعد میںجیپ میں بیٹھنے پر معلوم ہوا کہ وہ حیدر آباد پولیس کے لوگ تھے ۔ وہ مجھے سڑک کے راستے سیدھے ممبئی سے حیدر آباد لے گئے۔ وہاں جاکر ایک بنگلہ نما گھر میں مجھے رکھا گیا تھا۔ پہلے انہوں نے کہاکہ مجھ سے کچھ پوچھ گچھ کرکے چھوڑ دیں گے ۔ پھر وہ مجھ سے ڈاکٹر جلیس انصاری کے بارے میں تفتیش کرنے لگے۔ ‘
قابل ذکر ہے کہ جلیس انصاری ڈاکٹر بم کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کا گھر بھی مومن پورہ میں تھا۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد ملک میں ہوئے کئی بم دھماکوں کے لیے انہیں ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔
سلیم مزید کہتے ہیں:’ پھر مجھے مارا پیٹا جانے لگا، تکالیف دی جانے لگیں اور پھر حیدرآباد میں ہوئے چار دھماکوں ( ہمایوں نگر پولیس اسٹیشن، آبڈس ، مدینہ ایجوکیشن سینٹر اور گوپال پورم ریل ریزرویشن سینٹر) میں میرے خلاف معاملہ درج کرلیا گیا ۔‘
سلیم کہتے ہیں :’ مجھے 6-7دن تک اس بنگلہ میں رکھا گیا تھا۔ پھر عدالت میں پیش کرنے کے بعد دو مہینے پولیس کسٹڈی میں رکھا گیا ۔ اس دوران سی بی آئی کے افسران بھی پوچھ گچھ کرنے آتے تھے۔ حیدر آباد پولیس کی کسٹڈی ختم ہوئی تھی کہ سی بی آئی نے اپنی کسٹڈی میں لے لیا۔ وہ اس وقت 1193 میںہوئے دھماکوں کی جانچ کررہے تھے ۔ سی بی آئی نے پہلے مجھے آندھرا پردیش ایکسپریس میں ہوئے بم دھماکے میں ملزم بنایا پھر راجدھانی ایکسپریس گاڑیوں ،فلائنگ کوئین ایکسپریس اور بنگلو – کرلا والی ریل گاڑی میںہوئے بم دھماکوں میں بھی ملزم بنا دیا ۔ تمام ریل گاڑیوں میںہوئے بم دھماکوں کو ایک ہی کیس بنا دیا گیا اور تمام میں میرے خلاف مقدمہ دائر کردیا گیاتھا ۔‘
گرفتاری کے بعد سلیم کو 13 ماہ تک مشیر آباد جیل میں رکھا گیا تھا ،پھر اجمیر جیل اور مشیر آباد جیل کے درمیان 1996 تک 10-10مہینے میں ان کی بدلی ہوتی رہتی تھی۔ 1996 کے بعدسے 2014 تک انہیں اجمیر جیل میں رکھا گیا۔ 2014 سے 016 کے درمیان انہیں جے پور جیل بھیج دیاگیا ۔ وہیں سے ان کی رہائی بھی ہوئی۔‘
سلیم کا کہتے ہیں:’گرفتاری کے تقریباً5-6سال بعد تک وہ کیس کا ٹرائل ہی شروع نہیں ہوا تھا۔ پھر 2004 میں ٹرین دھماکوں کے الزام میں مجھے عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔ یہ سزاٹاڈا کورٹ نے سنائی تھی اس لئے اس کے خلاف عرضی صرف سپریم کورٹ میں داخل ہونی تھی۔ سپریم کورٹ میں وکیل تلاش کرنا بہت مہنگا کام ہے ۔ لیکن میرے پریوار والوں نے ہمت نہیں ہاری ،بدقسمتی سے سپریم کورٹ میں جو پہلا وکیل ملا اسے ہر قدم شکایت رہتی کہ ہم اسے پیسہ کم دے رہے ہیں ۔ انہیں کیس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ 12 سال تک مقدمات میں تاریخیں لگتی رہی یا وکیل حاضر ہی نہیں ہوتا تھا۔ پھر 2014 میں ہم نے وکیل بدلا اور 016 میں مجھے سپریم کورٹ نے ٹرین دھماکوں سے جڑے تمام مقدمات میں باعزت بری کردیا۔ حیدر آباد پولیس نے جو مجھ پر چار دھماکوں سے جڑے معاملے داخل کئے تھے اس میں مجھے 2007 میں ہی بری کردیا گیا تھا ۔‘
11 مئی 2016 کو سلیم عدالت سے بری ہوگئے۔ 2 سال بغیر کسی جرم کے انہیں جیل میں رہنا پڑا ۔ اس دوران ان کی ماں کاانتقال ہوگیا ۔ جب انہیں حیدر آباد پولیس اٹھا کر لے گئی تھی تب ان کی بیٹی صرف 15 مہینے کی تھی ۔ وہ بڑی ہوگئی ہے۔ اس دورا
ہی اس کی شادی بھی ہوگئی ۔ ان 22 سالوں میں سلیم صرف ایک بار جیل سے باہر آپائے تھے۔ 2012 میں انہیں اپنی بیٹی کی شادی میں شریک ہونے کا موقع ملا ،لیکن ماں کی آخری سفر میں وہ نہیں آپائے تھے ۔
سلیم کہتے ہیں:’ میں اپنی والدہ کی موت میں شرکت نہیں کر سکا ، اس بات کا مجھے تاعمر غم رہے گا۔ اس کے علاوہ یہ بات مجھے بہت تکلیف پہنچاتیہے کہ میں اپنی بچی کا بچپن نہیں دیکھ پایا ۔ اس کے لیے وہ سب نہیں کر پایا جو ایک والد اپنی بچی کے لیے کرتا ہے۔ میری بچی اب امریکہ میں رہتی ہے اور اسے بھی اس بات کاغم ہے کہ اس کے بچپن میں اسے اس کے ابا کا پیار نصیب نہیں ہوا۔‘
وہ مزید کہتے ہیں :’ جب میں گھر لوٹا تو دو- تین مہینے تک تو صرف آرام کرتا رہا۔ میں بری ہوچکا تھا تو کچھ لوگوں نے صلاح دی کہ میں اپنی پرانی نوکری میں واپس بحال ہونے کے لیے عرضی دوں۔ میں نے دو – تین بار عرضی بھیجی لیکن بس یہ جواب آیا کہ میری عرضی زیر غور ہے۔ اس کے بعد میں نے لیبر کورٹ میں بھی عرضی داخل کی لیکن ان کا جواب یہی تھا کہ ٹاڈا جیسے معاملے میں ملزم رہ چکے شخص کو پھر سے وزارت دفاع کے تحت آنے والے حساس کاموں میں بحال نہیں کرسکتے۔ انہوں نے مجھے واپس نوکری تونہیں دی، لیکن 2016 سے 2021 تک کا پانچ لاکھ کا ایکس گریشیا دے دی ۔ پانچ لاکھ سے کیا ہوتاہے ، جو لوگ میرے ساتھ نوکری کرتے تھے آج ان کی مہینے کی تنخواہ 70 ہزار روپے ہے،لیکن پھر میں نے واپس اس بات کو آگے نہیں بڑھایا کیونکہ میری تقریباً آدھی زندگی مقدمے لڑتے ہوئے ہی گزر گئی ہے ۔‘
سلیم بتاتے ہیں کہ ان کے ساتھ نوکری کرنے والے ان کے بہت دوست ان سے کترا نے لگے ہیں۔ واپس آنے کے بعد جب انہوں نے اپنے کچھ پرانے دوستوں کو فون کیا تو انہوں نے نام سننے کے بعد غلط نمبر کہہ کر فون کاٹ دیا۔ لیکن ایک دو اچھے دوست بھی ہیں جنہوں نے واپس آنے کے بعد ان کی مدد کی۔ سلیم بتاتےہیں کہ آس – پڑوس کے لوگ کارویہ کم وبیش ٹھیک ہے ۔
ایک تعلیم یافتہ پریوار میں بڑے ہوئے سلیم نے بتایا انہیں اور بھی کئی جگہ چھوٹی موٹی نوکری کی کوشش کی لیکن کوئی انہیں کام دینے کو تیار نہیں تھا۔ وہ کہتے ہیں ۔’ تھک ہار کر میں نے خود کا کام کرنے کا ارادہ کیا ۔ میں نے قرض لیا اور میری ہی طرح جیل سے بری ہوئے ایک دوست کی مدد سے حیدر آباد سے بسکٹ منگوا کر یہاں بیچتے ہیں ۔ میں خود ہی بیکریوں پر یا نجی آرڈر ملنے پر جاکر مال پہنچاتا ہوں، لیکن گزشتہ دو سال میں کووڈ کے سبب وہ کام بھی تقریباً بندہونے کی دہانے پر پہنچ گیا ہے ۔‘
سلیم کہتے ہیں ، ’ایک بار جب آپ پر دہشت گردی کا لیبل لگ جاتاہے تو زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ بھلے ہی آپ بے قصور ثابت ہو جائیں، عدالت سے بری ہوجائیں۔ آپ کو لوگ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، کام دینے سے ہچکچاتے ہیں ۔ بیرون ملک کی طرح ہندوستان میں کوئی قانون بھی نہیں ہے کہ جھوٹے الزامات میں پھنسائے گئے لوگوں کو کوئی معاوضہ ملے، کاش ایسا ہوتاتو میرے جیسے کئی بے گناہ لوگوںکو ایک سہارا ہوجاتا ۔‘
ابھی حال ہی میں کرائم برانچ سے آئے ٹیلی فون کے بعد سلیم وہاں گئے تھے، وہاں پولیس والوں نے ان سے روزمرہ کی زندگی کی بارے میں پوچھ گچھ کی۔ ان کے بھائی، بہنوں ،باقی رشتہ داروں کے نام،پتہ ،فون نمبر لکھوائے ۔ پولیس والے ان سے کہہ رہے تھے کہ انہیں معلوم نہیں تھاکہ وہ پانچ سال پہلے بری ہوکر آگئے ہیں ۔ سلیم کو اب خوف ہے کہ بے قصور ثابت ہونے کے باوجود بھی کہیں پھر سے تھانوں کی حاضری لگانے کا چکر پولیس نہ باندھ دے۔










