بھوپال :(ایجنسی)
مدھیہ پردیش کے دھار ضلع کے مناور میں ہندو تنظیموں کی جانب سے نکالی گئی شوریہ یاترا کےدوران ہوئے پتھراؤ کےبعدپولیس انتظامیہ کی کارروائی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ اس معاملے میں مقامی پولیس نے اس مکان کو مسمار کر دیا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ملزمان وہاں رہائش پذیر تھے۔ حالانکہ مالک مکان کا دعویٰ ہے کہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا تاہم ملزمان اس کے ساتھ کرایہ دار کی حیثیت سے رہ رہے تھے۔
بی بی سی ہند ی کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں درج ایف آئی آر میں صرف مسلمانوں کو ہی ملزم بنایا گیا ہے۔ اس پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
دراصل، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل جیسی ہندو تنظیموں نے 23 تاریخ کو مناور میں شوریہ یاترا نکالی تھی۔ یہ یاترا پولس کے مقرر کردہ علاقوں سے پرامن طریقے سے نکل رہی تھی، لیکن شہر کے گاندھی نگر علاقے میں پہنچتے ہی یاترا میں موجود لوگوں نے اس علاقے سے جانے کی بات کی جو مسلم اکثریتی علاقہ تھا۔
پولیس سے بحث کے بعد جب معاملہ حل نہ ہوا تو پولیس نے معمولی طاقت کا استعمال کیا جس سے بھگدڑ مچ گئی۔ اس کے بعد یہ افواہ پھیل گئی کہ شہر میں فساد ہو گیا ہے۔ یہ بات جائے واقعہ سے کچھ دور بالی پور پھاٹا علاقے تک پہنچی اور وہاں پتھراؤ شروع ہو گیا جو تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا۔
تمام ملزمان مسلمان
پتھراؤ کے اس واقعہ کے بعد پولس انتظامیہ نے مقدمہ درج کر لیا۔ دھار ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ آدتیہ پرتاپ سنگھ نے کہا کہ اس واقعہ میں تین الگ الگ مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں 25 لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے اور اب تک 15 لوگوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
تاہم درج مقدمے میں تمام ملزمان مسلمان ہیں اور یہی وجہ ہے کہ شہر کے اکثر مسلمان خوف کے مارے اب اس واقعہ پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ڈر ہے کہ پولیس انہیں بھی اس معاملے میں ملزم بناسکتی ہے۔
ساتھ ہی انتظامیہ نے جس گھر کو گرایا ہے وہ خلیل کھتری کا تھا۔ خلیل فیبرکیشن کا کام کرتےہیں اور یہ مکان انہوں نےکرایہ پر دے رکھاتھا۔ ان کا خودکامکان اس گھر سے کافی دور تھا۔ لیکن انتظامیہ نے اسے جمعہ کی رات نوٹس دیا اور ہفتہ کی صبح اس تین منزلہ مکان کو منہدم کر دیاگیا۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اس گھر کو بنانے میں 40 لاکھ روپے سے زیادہ خرچ ہوئے تھے۔ اس مکان کی رجسٹری بھی ان کے پاس ہے۔ تاہم انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان کے پاس ضروری اجازت نہ ہونے کی وجہ سے ان کا مکان مسمار کیا گیا ہے۔
لیکن پولیس کے بیان کے برعکس مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں سننے کاموقع بھی نہیں دیا گیا۔ خلیل کھتری کا گھر 17-18 گھنٹے کے اندر گرا دیاگیا ۔ خلیل کھتری نےبتایا ’ میرا اس معاملےسے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ وہ کرایہ دار تھے، اگرانہوں نے غلط کیاہےتوان کے خلاف کارروائی ہونی تھی ۔انہوں میری محنت کا بنا مکان چند گھنٹوں میں توڑ دیا۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے بیٹے کو پولیس نے دو دن سے رکھا ہوا ہے اور وہ اسے نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ جس جگہ خلیل کھتری کا گھر ہے وہاں مزید درجنوں گھر ہیں۔ خلیل کا الزام ہے کہ اسے جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے گھر کی طرح کالونی اور شہر میں سیکڑوں گھر ہیں جو بغیر اجازت کے بنائے گئے ہوں گے لیکن انتظامیہ نے ان کا ہی انتخاب کیا۔
وہیں دھار کے پولیس سپرنٹنڈنٹ آدتیہ پرتاپ سنگھ اس پوری کارروائی کو بالکل درست بتاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ان کے گھر میں رہتے تھے، ان کے پاس سے اسلحہ بھی ملا ہے، انہوں نے کرایہ داروں کی تصدیق بھی نہیں کرائی تھی، کیا انہیں سزا نہیں ملنی چاہیے؟
مکان مالک کے خلاف کارروائی
آدتیہ پرتاپ سنگھ سوال کرتے ہیں، ’اگر ان لوگوں کی وجہ سے شہر میں فسادات ہوتے تو کون ذمہ دار ہوتا؟‘ پولیس کے مطابق تلاشی کے دوران گھر سے چار پانچ تلواریں، قینچی، کلہاڑی سمیت متعدد ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔
واقعہ کے بارے میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیویندر پاٹیدار نے کہا، ’کرایہ داروں اور مکان میں رہنے والے لڑکوں نے اس واقعہ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مکان کے دستاویزات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اسے بغیر اجازت کے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ سے یہ کارروائی کی گئی۔ ناجائز تجاوزات کو توڑنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ دیویندر پاٹیدار نے مزید کہا کہ جو کوئی بھی شہر میں اس طرح غیر قانونی کام کرے گا اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔
دوسری جانب مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس ساری کارروائی کا مقصد لوگوں کے ذہنوں میں خوف پیدا کرنا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی کارروائی ملزمان پر ہونی چاہیے لیکن مالک مکان کے خلاف کارروائی کرنا غیر واجب ہے۔
مدھیہ پردیش کا نیا قانون
مدھیہ پردیش میں کارروائی کے نام پر مکانات کو مسمار کرنا اب عام ہو گیا ہے۔ مدھیہ پردیش اسمبلی نے اس ہفتے اسمبلی میں سرکاری یا پرائیویٹ املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف ایک قانون پاس کیا ہے، جس کے تحت املاک کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ان لوگوں سے کیا جائے گا جو اسے نقصان پہنچاتے ہیں۔
اسمبلی نے ‘مدھیہ پردیش پریوینشن آف ڈیمیج ٹو پبلک اینڈ پرائیویٹ پراپرٹی اینڈ ریکوری آف ڈیمیج بل 2021’ پاس کیا ہے۔ اس میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ دھرنے، جلوس، ہڑتال، بند، ہنگامہ آرائی یا پتھراؤ، آتش زنی یا توڑ پھوڑ کی وجہ سے سرکاری یا پرائیویٹ املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اب اس نقصان کی تلافی کی جائے گی۔ اگر کوئی مجرم ہرجانہ ادا نہیں کرتا تو قانون کے مطابق اس کی جائیداد بھی قرق کی جا سکے گی۔
تاہم یہ الگ بات ہے کہ ہندو تنظیم کے کارکنوں نےجو اس ماہ کے اوائل میں ریاست کے گنج بسودا میں ایک عیسائی مشنری اسکول میں تبدیلی مذہب کے الزامات کے بعد جمع ہوئے، انہوں نے اسکول پر پتھراؤ کرکے نہ صرف عمارت کو نقصان پہنچایا بلکہ وہاں کھڑی گاڑیوں کو بھی نہیں بخشا۔ لیکن ویڈیو کی موجودگی کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
مناور کے شہر قاضی جمیل صدیقی نے کہا ہے کہ جو بھی قصوروار ہے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی شہر کی اس حالت کا ذمہ دار ہے اسے بخشا نہیں جانا چاہیے لیکن بے گناہوں کو سزا نہیں ملنی چاہیے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شوریہ یاترا میں تقریباً 5000 ہزار لوگ موجود تھے، جس میں مناور سے زیادہ لوگ قریبی دیہات سے آئے تھے۔ اس سے پہلے بھی 2016 میں یہاں سے شوریہ یاترا نکالی گئی تھی۔ اس وقت شہر میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے جس کے بعد اس یاترا پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ پانچ سال بعد اس بار پھر یہ یاترا نکالی گئی۔ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد شوریہ یاترا نکالی جاتی ہے۔










