اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مدھیہ پردیش :مسلمانوں پر پولیس کارروائی کا نیا ٹرینڈ، رہیں الرٹ!

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
مدھیہ پردیش :مسلمانوں پر پولیس کارروائی کا نیا ٹرینڈ، رہیں الرٹ!
204
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

بھوپال :(ایجنسی)

مدھیہ پردیش کے دھار ضلع کے مناور میں ہندو تنظیموں کی جانب سے نکالی گئی شوریہ یاترا کےدوران ہوئے پتھراؤ کےبعدپولیس انتظامیہ کی کارروائی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ اس معاملے میں مقامی پولیس نے اس مکان کو مسمار کر دیا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ملزمان وہاں رہائش پذیر تھے۔ حالانکہ مالک مکان کا دعویٰ ہے کہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا تاہم ملزمان اس کے ساتھ کرایہ دار کی حیثیت سے رہ رہے تھے۔

بی بی سی ہند ی کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں درج ایف آئی آر میں صرف مسلمانوں کو ہی ملزم بنایا گیا ہے۔ اس پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

دراصل، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل جیسی ہندو تنظیموں نے 23 تاریخ کو مناور میں شوریہ یاترا نکالی تھی۔ یہ یاترا پولس کے مقرر کردہ علاقوں سے پرامن طریقے سے نکل رہی تھی، لیکن شہر کے گاندھی نگر علاقے میں پہنچتے ہی یاترا میں موجود لوگوں نے اس علاقے سے جانے کی بات کی جو مسلم اکثریتی علاقہ تھا۔

پولیس سے بحث کے بعد جب معاملہ حل نہ ہوا تو پولیس نے معمولی طاقت کا استعمال کیا جس سے بھگدڑ مچ گئی۔ اس کے بعد یہ افواہ پھیل گئی کہ شہر میں فساد ہو گیا ہے۔ یہ بات جائے واقعہ سے کچھ دور بالی پور پھاٹا علاقے تک پہنچی اور وہاں پتھراؤ شروع ہو گیا جو تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا۔

تمام ملزمان مسلمان

پتھراؤ کے اس واقعہ کے بعد پولس انتظامیہ نے مقدمہ درج کر لیا۔ دھار ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ آدتیہ پرتاپ سنگھ نے کہا کہ اس واقعہ میں تین الگ الگ مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں 25 لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے اور اب تک 15 لوگوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

تاہم درج مقدمے میں تمام ملزمان مسلمان ہیں اور یہی وجہ ہے کہ شہر کے اکثر مسلمان خوف کے مارے اب اس واقعہ پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ڈر ہے کہ پولیس انہیں بھی اس معاملے میں ملزم بناسکتی ہے۔

ساتھ ہی انتظامیہ نے جس گھر کو گرایا ہے وہ خلیل کھتری کا تھا۔ خلیل فیبرکیشن کا کام کرتےہیں اور یہ مکان انہوں نےکرایہ پر دے رکھاتھا۔ ان کا خودکامکان اس گھر سے کافی دور تھا۔ لیکن انتظامیہ نے اسے جمعہ کی رات نوٹس دیا اور ہفتہ کی صبح اس تین منزلہ مکان کو منہدم کر دیاگیا۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اس گھر کو بنانے میں 40 لاکھ روپے سے زیادہ خرچ ہوئے تھے۔ اس مکان کی رجسٹری بھی ان کے پاس ہے۔ تاہم انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان کے پاس ضروری اجازت نہ ہونے کی وجہ سے ان کا مکان مسمار کیا گیا ہے۔

لیکن پولیس کے بیان کے برعکس مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں سننے کاموقع بھی نہیں دیا گیا۔ خلیل کھتری کا گھر 17-18 گھنٹے کے اندر گرا دیاگیا ۔ خلیل کھتری نےبتایا ’ میرا اس معاملےسے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ وہ کرایہ دار تھے، اگرانہوں نے غلط کیاہےتوان کے خلاف کارروائی ہونی تھی ۔انہوں میری محنت کا بنا مکان چند گھنٹوں میں توڑ دیا۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے بیٹے کو پولیس نے دو دن سے رکھا ہوا ہے اور وہ اسے نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ جس جگہ خلیل کھتری کا گھر ہے وہاں مزید درجنوں گھر ہیں۔ خلیل کا الزام ہے کہ اسے جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے گھر کی طرح کالونی اور شہر میں سیکڑوں گھر ہیں جو بغیر اجازت کے بنائے گئے ہوں گے لیکن انتظامیہ نے ان کا ہی انتخاب کیا۔

وہیں دھار کے پولیس سپرنٹنڈنٹ آدتیہ پرتاپ سنگھ اس پوری کارروائی کو بالکل درست بتاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ان کے گھر میں رہتے تھے، ان کے پاس سے اسلحہ بھی ملا ہے، انہوں نے کرایہ داروں کی تصدیق بھی نہیں کرائی تھی، کیا انہیں سزا نہیں ملنی چاہیے؟

مکان مالک کے خلاف کارروائی

آدتیہ پرتاپ سنگھ سوال کرتے ہیں، ’اگر ان لوگوں کی وجہ سے شہر میں فسادات ہوتے تو کون ذمہ دار ہوتا؟‘ پولیس کے مطابق تلاشی کے دوران گھر سے چار پانچ تلواریں، قینچی، کلہاڑی سمیت متعدد ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔

واقعہ کے بارے میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیویندر پاٹیدار نے کہا، ’کرایہ داروں اور مکان میں رہنے والے لڑکوں نے اس واقعہ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مکان کے دستاویزات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اسے بغیر اجازت کے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ سے یہ کارروائی کی گئی۔ ناجائز تجاوزات کو توڑنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ دیویندر پاٹیدار نے مزید کہا کہ جو کوئی بھی شہر میں اس طرح غیر قانونی کام کرے گا اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

دوسری جانب مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس ساری کارروائی کا مقصد لوگوں کے ذہنوں میں خوف پیدا کرنا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی کارروائی ملزمان پر ہونی چاہیے لیکن مالک مکان کے خلاف کارروائی کرنا غیر واجب ہے۔

مدھیہ پردیش کا نیا قانون

مدھیہ پردیش میں کارروائی کے نام پر مکانات کو مسمار کرنا اب عام ہو گیا ہے۔ مدھیہ پردیش اسمبلی نے اس ہفتے اسمبلی میں سرکاری یا پرائیویٹ املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف ایک قانون پاس کیا ہے، جس کے تحت املاک کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ان لوگوں سے کیا جائے گا جو اسے نقصان پہنچاتے ہیں۔

اسمبلی نے ‘مدھیہ پردیش پریوینشن آف ڈیمیج ٹو پبلک اینڈ پرائیویٹ پراپرٹی اینڈ ریکوری آف ڈیمیج بل 2021’ پاس کیا ہے۔ اس میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ دھرنے، جلوس، ہڑتال، بند، ہنگامہ آرائی یا پتھراؤ، آتش زنی یا توڑ پھوڑ کی وجہ سے سرکاری یا پرائیویٹ املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اب اس نقصان کی تلافی کی جائے گی۔ اگر کوئی مجرم ہرجانہ ادا نہیں کرتا تو قانون کے مطابق اس کی جائیداد بھی قرق کی جا سکے گی۔

تاہم یہ الگ بات ہے کہ ہندو تنظیم کے کارکنوں نےجو اس ماہ کے اوائل میں ریاست کے گنج بسودا میں ایک عیسائی مشنری اسکول میں تبدیلی مذہب کے الزامات کے بعد جمع ہوئے، انہوں نے اسکول پر پتھراؤ کرکے نہ صرف عمارت کو نقصان پہنچایا بلکہ وہاں کھڑی گاڑیوں کو بھی نہیں بخشا۔ لیکن ویڈیو کی موجودگی کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

مناور کے شہر قاضی جمیل صدیقی نے کہا ہے کہ جو بھی قصوروار ہے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی شہر کی اس حالت کا ذمہ دار ہے اسے بخشا نہیں جانا چاہیے لیکن بے گناہوں کو سزا نہیں ملنی چاہیے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شوریہ یاترا میں تقریباً 5000 ہزار لوگ موجود تھے، جس میں مناور سے زیادہ لوگ قریبی دیہات سے آئے تھے۔ اس سے پہلے بھی 2016 میں یہاں سے شوریہ یاترا نکالی گئی تھی۔ اس وقت شہر میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے جس کے بعد اس یاترا پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ پانچ سال بعد اس بار پھر یہ یاترا نکالی گئی۔ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد شوریہ یاترا نکالی جاتی ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN