ممبئی :
مہاراشٹرکی سیاست میں ہلچل کے آثار ہیں، حالانکہ حکومت فی الحال مہا وکاس آگھاڑی کی ہے ، لیکن بی جے پی اور شیوسینا کے قریب آنے کی بحث جارہی ہے ۔اب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما دیویندر فڈنویس نے اتوار کے روز کہا کہ ان کی پارٹی اور سابق اتحادی شیوسینا ’’دشمن نہیں‘‘ ہیں، حالانکہ ان کےدرمیان کچھ ایشوز پر اختلافات ہیں اور کہاکہ سیاست میں کوئی ’ اگر -مگر ‘ نہیں ہوتا۔
یہ پوچھے جانےپر کہ کیا دو سابق اتحاد ساتھیوں کے پھر سے ایک ساتھ آنے کا امکان ہے ، فڈنویس نے کہاکہ صورت حال کی بنیاد پر ’’ مناسب فیصلہ‘‘ کیا جائے گا ۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ ان کی حالیہ میٹنگ اور بی جے پی – شیوسینا کے پھر سے ایک ساتھ آنے کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر فڈنویس نے کہا ’’ سیاست میں کوئی ’ اگر -مگر‘ ہیں ہوتاہے ۔ صورت حال کے مطابق فیصلے لئے جاتے ہیں۔‘‘ وہ مہاراشٹر مقننہ کے مانسون سیشن کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔
سابق وزیر اعلیٰ فڈنویس نے کہا ، ’بی جے پی اور شیوسینا دشمن نہیں ہیں ، حالانکہ اختلافات ہیں۔ صورتحال کے مطابق مناسب فیصلہ لیا جائے گا۔ ‘ فڈنویس نے کہا کہ ہمارے دوست (شیوسینا) نے ہمارے ساتھ 2019 کے اسمبلی انتخابات لڑا، لیکن انتخابات کے بعد انہوں (شیو سینا) انہی لوگوں (راشٹر وادی کانگریس پارٹی اور کانگریس) کے ساتھ ہاتھ ملالیا جن کے خلاف ہم نےلڑا تھا۔
فڈنویس نے کہا کہ مرکزی تفتیشی ایجنسیاں ہائی کورٹ کے حکم پر مہاراشٹر میں مختلف معاملوں کی جانچ کر رہی ہیں اور ان پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہے۔ فڈنویس کا یہ بیان شیوسینا کے صدر ادھو ٹھاکرے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی حال ہی میں ملاقات کے پس منظر میں آیا ہے۔ ٹھاکرے نے پچھلے مہینے دہلی کے دورے کے دوران وزیر اعظم سے الگ سے ملاقات کی تھی۔
اس سے قبل ہی شیوسینا کے ممبر پارلیمنٹ سنجے راوت نے ہفتے کے روز بی جے پی رہنما آشیش شیلر کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں ’ افواہ‘ کو خارج کرنے کی کوشش کی۔ شیوسینا کے ترجمان نے کہا کہ ہمارے درمیان سیاست اور نظریاتی اختلافات ہو سکتا ہے، لیکن اگر ہم عوامی تقاریب میں آمنے سامنے آتےہیں تو وہ استقبال ضرور کریں گے۔ میں شیلر کے ساتھ سب کے سامنے بھی کافی پیتا ہوں۔










