امپھال:گزشتہ کئی مہینوں سے تشدد کی لپیٹ میں رہنے والے منی پور کے حالات میں بہتری نظر نہیں آ رہی ہے۔ جمعرات (03 اگست) کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے، پولیس نے ریاست میں حالات کو کشیدہ قرار دیا۔ ریاست میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں فائرنگ اور بے قابو ہجوم کے تشدد کے اکادکاواقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق، بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے کوتروک، ہاروتیل اور سنجام چرانگ علاقوں میں کراس فائرنگ کے واقعات میں ایک سیکورٹی اہلکار ہلاک جبکہ دوسرا شخص زخمی ہوا۔ ریاست میں تازہ جھڑپیں شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل، منی پور کے ذات پات و نسلی تشدد میں مارے گئے کوکی-زومی لوگوں کی اجتماعی تدفین کے منصوبے کو روک دیا گیا تھا۔
دریں اثناسیکورٹی فورسز کو روکنے کے لیے لوگ سڑکوں پر نکل آئے
جمعرات کی صبح سے ریاست کے کئی علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔ خاص طور پر بشنو پور ضلع میں جہاں ہزاروں مقامی لوگ سیکورٹی فورسز کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 600 لوگوں کا ایک بے قابو ہجوم فوگاچاؤ اکھائی کے علاقے میں جمع ہوا، جب کہ افسران کو بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس فائر کرنا پڑی، جس سے 25 افراد زخمی ہوئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست بھر کے کئی اضلاع میں کل 129 چوکیاں قائم کی گئی ہیں، جبکہ پولیس نے ریاستی احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر تقریباً 1,047 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور انٹرنیٹ پر پھیلائی جانے والی جعلی ویڈیوز سے ہوشیار رہیں۔ بیان کے ذریعے حکام نے عوام سے لوٹا ہوا اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد پولیس کو واپس کرنے کی بھی اپیل کی۔ہل
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مشتعل ہجوم نے کئی علاقوں میں پولیس اسٹیشنوں پر بھی حملہ کیا اور اسلحہ اور گولہ بارود چھین لیا۔ حکام نے حساس علاقوں میں آپریشن کے لیے سکیورٹی فورسز کو تعینات کر دیا ہے۔ کوتروک ہل رینج میں مشترکہ سیکورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران سات غیر قانونی بنکر تباہ کر دیے گئے۔








