اردو
हिन्दी
اکتوبر 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مرض کچھ اور، علاج کچھ اور

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
168
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تجزیہ: محمد خالد*
ملک کے موجودہ حالات سیاسی، سماجی اور معاشی لحاظ سے تشویشناک بنے ہوئے ہیں. پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے اندر بھی جس قسم کی مہاز آرائی کی صورت بنی ہوئی ھے اسے مہذب معاشرے کے خلاف ہی مانا جانا چاہئے. اس سب کیفیت نے ملک کے حقیقی مسائل پر پردہ ڈال رکھا ھے. مہنگائی اور بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رھا ھے جس کی وجہ سے ملک پر مالیاتی اداروں کے قرض کا کیا ذکر کیا جائے، ملک کے بجٹ کا بیس فیصد حصہ صرف قرض کا سود ادا کرنے پر خرچ ہو رھا ھے. سرکاری دفاتر میں ملازمین کی تعداد ضرورت سے کافی کم ھے جس کی وجہ سے کسی بھی کام کا وقت پر ہونا ایک بڑا مسئلہ ھے. سپریم کورٹ سے لے کر نچلی عدالتوں تک میں پانچ کروڑ سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں جن میں تقریباً دو لاکھ ایسے مقدمات ہیں جو کہ تیس سال سے زائد عرصہ سے اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں. جیلوں میں قیدیوں کی تعداد تقریباً پونے چھ لاکھ ھے جن میں تقریباً پچھتر فیصد زیر تفتیش قیدی ہیں. اور زیادہ تر معاملات میں اس کی وجہ متعلقہ محکموں کی جانب سے وقت پر کارروائی کا نہ ہونا ھے.اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رھے ہیں.

یوں تو ملک آزاد ہونے کے بعد سے ہی مسلمانان ہند کے سامنے مختلف قسم کے مسائل پے در پے آتے رھے ہیں مگر اُن مسائل کو ہمیشہ اتفاقی طور پر وجود میں آنے والا مانا جاتا رھا ھے.اکیسویں صدی کے اوائل سے ہی مسلمانوں کے مسائل کو ایک خاص نقطہ نظر سے دیکھا جا رھا ھے اور ایک عام تاثر قائم ہو گیا ھے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے رہنما مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں اور ان کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف تسلسل سے مسائل پیدا کئے جا رھے ہیں.

اس تاثر کو غلط یا صحیح ثابت کرنے کے بجائے حالات کی حقیقی کیفیت کو سمجھنے کی ضرورت ھے.
مسلمانوں کے درمیان آر ایس ایس کی حیثیت ہمیشہ ایک منفی سوال ہی رہی ھے اور اس حوالے سے ہی مسلمان انتخابات میں آر ایس ایس کی سیاسی جماعت جن سنگھ کے مقابلے دیگر سیاسی جماعتوں کو پسند کرتے رھے تھے. پھر جنتا پارٹی کے دور حکومت میں جن سنگھ کا نام تو تبدیل ہو کر بھارتیہ جنتا پارٹی ہو گیا تھا مگر اس کے طرزِ عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی جس کی وجہ سے بی جے پی کے تئیں مسلمانوں کے موقف میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی. مگر 1988 میں جب مسلم تنظیموں اور شخصیات نے اعلانیہ طور پر یہ موقف اختیار کیا کہ مسلمان اس کو ووٹ دے گا جو بی جے پی کو ہرا رھا ہو تو پھر مسلمان اور بی جے پی کا ایک دوسرے کے مدمقابل بن جانے میں کسی طرح کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی.

یہ تلخ حقیقت ھے کہ مسلمانوں کے اس موقف کا بی جے پی کو بہت فائدہ ہوا اور اس نے حالات کی نبض کو ٹٹولتے ہوئے خود کو ہندو مذہب کو فروغ دینے والی سیاسی جماعت کی شناخت اختیار کر لی جس کے ذریعے اسے ہندوؤں کو متحد کرنے کا ایک آسان سا طریقہ حاصل ہو گیا. 1988 کے ارد گرد ہی بابری مسجد کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا اور اس کے نتیجے میں 1992 میں بابری مسجد کو شہید کر دیا گیا. جس کی وجہ سے ایک عام مسلمان بھی بی جے پی سے نالاں ہو گیا. اس صورت نے ایک ایسا ماحول بنا دیا کہ مسلمان اور بی جے پی نواز ہندوؤں کے درمیان فاصلہ نہ صرف پیدا ہوا بلکہ روز بروز اس میں اضافہ ہوتا گیا. سیاسی اعتبار سے جائزہ لیا جائے تو اس پوری کیفیت نے مسلمانوں کو سیاسی لحاظ سے ہاشیہ پر پہنچا دیا. افسوس کہ مسلمانوں کی کسی بھی تنظیم یا ادارے نے اس کیفیت کا جائزہ لینے اور اس کے نفع نقصان کو سمجھنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی. دوسری طرف مسلمانوں کی ماب لنچنگ سے لے کر مساجد کو نشانہ بنانے اور مختلف انداز میں مسلمانوں میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کے لئے لگاتار جو کچھ ہوتا جا رھا ھے اس کو سمجھنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ھے. گزشتہ چند ماہ سے ایک نیا سلسلہ مسجدوں میں مندر کی تلاش کی شکل میں شروع ہوا ھے جس پر ہندو اور مسلمان لیڈران ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رھے ہیں.

ان سب حالات کے باوجود اس ملک کے مزاج میں ابھی بھی ایک دوسرے سے تعلق رکھنا اور ایک دوسرے کے جذبات کا پاس و لحاظ رکھنا موجود ھے.
آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت گزشتہ دنوں میں دو بار بیان دے چکے ہیں کہ ہر مسجد کے نیچے مورتی یا مندر کو تلاش کرنے کی کوشش کرنا صحیح کام نہیں ھے. اپنے تازہ بیان میں تو انہوں نے بڑی وضاحت کے ساتھ بابری مسجد کے معاملے کا بھی ذکر کیا، گرچہ یہ ان کا استدلال ھے جس کو تسلیم کرنے کی گنجائش نہیں ھے. مگر کیا مسلمانوں کی جانب سے اس طرح کے مسائل کا حل تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ھے. ظاہر ھے کہ یہ صورت حال دو مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ھے تو جب تک دونوں جانب سے ایک دوسرے کی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور اچھا ماحول بنانے کی کوشش نہیں کی جاتی تب تک کسی مثبت نتیجے کی امید کر پانا ممکن نہیں ھے.

مسلمانان ہند نے مختلف قسم کے سماجی مسائل کا حل تلاش کرنے کی غرض سے 1964 میں مسلم مجلس مشاورت کے نام سے ایک وفاق بنایا تھا جس میں مسلم تنظیموں اور شخصیات کی بڑی تعداد شامل ہوئی تھی اور ماضی میں اس کے ذریعے بہت اہم کارہائے نمایاں انجام دئے گئے ہیں اس لئے ملک میں اس وقت کے پیچیدہ معاشرتی مسائل کو حل کرنے کے لئے مسلم مجلس مشاورت جیسے وفاق کو اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے کی کوشش شروع کرنا چاہئے. مسلمان اس ملک کے شہری ہونے کے ساتھ ہی دینی ذمہ داری کے تحت تمام انسانوں اور مخلوقات کے لئے بھی خیر خواہ ہیں. اس لئے ضروری ھے کہ رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو اختیار کرتے ہوئے معاشرتی مسائل کے حل کے لئے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ مختلف انداز کے معاہدوں کی کوشش شروع کی جائے. اسلامی تاریخ میں غیر مسلموں کے ساتھ معاشرتی معاہدوں کی تفصیلات موجود ہیں جن میں بڑی اکثریت ایسے معاہدوں کی ھے جن میں فریق مخالف سے نہ تو کوئی مذہبی ٹکراؤ تھا اور نہ ہی مفاہمت اور یہ بھی ایک قابل تقلید حقیقت ھے کہ معاہدہ اعظم "صلح حدیبیہ” اُن لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا جو کہ مسلمانوں اور اسلام کو مٹا دینے کا عزم رکھتے تھے.کیا ملت اسلامیہ ہند کے موجودہ قائدین اسوہ نبوی کو اختیار کرنے کی زحمت فرمائیں گے؟
**سکریٹری جنرل
انسٹیٹیوٹ فار سوشل ہارمونی اینڈ اپلفٹمنٹ (اشو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026
ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

SIR Fake Details FIR

رناٹک SIR میں نیا انکشاف، اونگیرے ضلع انتظامیہ پر تقریباً 3,000 نام ہٹانے کا دباؤ تھا

ریاض میں دھماکوں کی گونج، حوثیوں کا کنگ خالد ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

ریاض میں دھماکوں کی گونج، حوثیوں کا کنگ خالد ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

اکتوبر 9, 2026
SIR Fake Details FIR

رناٹک SIR میں نیا انکشاف، اونگیرے ضلع انتظامیہ پر تقریباً 3,000 نام ہٹانے کا دباؤ تھا

اکتوبر 8, 2026
ریاض میں دھماکوں کی گونج، حوثیوں کا کنگ خالد ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

ریاض میں دھماکوں کی گونج، حوثیوں کا کنگ خالد ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

اکتوبر 8, 2026

حالیہ خبریں

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

اکتوبر 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN