کوہیما : (ایجنسی)
ناگالینڈ میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں 14 شہریوں کی ہلاکت کے بعد شمال مشرق میں دوبارہ عسکریت پسندی کے کنٹرول میں آنے کا خدشہ ہے۔ شمال مشرق سے آرمڈ فورسز (خصوصی اختیارات) ایکٹ 1958 (AFSPA) کو واپس لینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ اس خطے میں سول سوسائٹی گروپس ،انسانی حقوق کے کارکنان اور ریاستی رہنما برسوں سے اس ’سخت‘ قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور اس ایکٹ کی آڑ میں سیکورٹی فورسز کی طرف سے زیادتیوں کا الزام لگا رہے ہیں۔AFSPA آسام کے اضلاع، ناگالینڈ، منی پور (سوائے امپھال میونسپل کونسل کے علاقے)، اروناچل پردیش کے چانگ لانگ، لونگنڈاگ اور تیرپ اضلاع کے آٹھ تھانوں کے علاقوں میں نافذ ہے جو آسام کی سرحد سے اروناچل پردیش کے اضلاع سے ملتے ہیں۔ تشدد اور افسپا کو ہٹانے کا مطالبہ – شمال مشرق میں شورش کی طویل تاریخ ہے۔
ناگالینڈ، منی پور، میزورم، میگھالیہ اور آسام کے مختلف علاقوں میں مختلف قبائلی برادریاں اپنی قبائلی اور علاقائی شناخت کے بارے میں حساس ہیں۔ زمینی حقیقت کو سمجھے بغیر کوئی بھی اقدام شمال مشرق میں تشدد کا ایک نیا باب شروع کرسکتا ہے۔ یکم دسمبر 1963 کو ناگالینڈ ہندوستان کی 16ویں ریاست بنا۔ اس کی سرحد مشرق میں میانمار، مغرب میں آسام، شمال میں اروناچل پردیش اور جنوب میں منی پور سے ملتی ہے۔ ناگالینڈ کا تنازعہ بہت پرانا ہے۔
نارتھ ایسٹ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (NESO)، ناگالینڈ میں طلبہ یونینوں کی ایک وفاقی تنظیم، نے کہا کہ اگر مرکز شمال مشرق کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے بارے میں فکر مند ہے تو اس قانون کو منسوخ کر دینا چاہیے۔ NESO کے چیئرمین سیموئیل بی زیرا کہتے ہیں، مسلح افواج شمال مشرق میں استثنیٰ کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور انہیں مسلح افواج خصوصی اختیارات ایکٹ، 1958 (AFSPA) کی شکل میں سخت قوانین کے نفاذ سے مزید تقویت ملی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ناگالینڈ میں مون کے واقعے نے ماضی کی ہولناک یادیں تازہ کر دیں جب سیکورٹی فورسز نے عسکریت پسندی سے لڑنے کے نام پر کئی مواقع پر ’’معصوم دیہاتیوں کو بڑے پیمانے پر تشدد کا نشانہ بنایا اور خواتین کی عصمت دری کی‘‘
جن ستہ آن لائن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ناگالینڈ کے مون ضلع میں فوج کی فائرنگ میں 14 لوگوں کی موت کے معاملے کے بعد سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ مقامی لوگ ناراض ہیں۔ اس نے ماضی کے زخم ہرے کردیے ہیں۔ ہندوستان کی آزادی کے وقت شمال مشرق کی کئی ریاستیں بھی علیحدگی کے لیے تیار تھیں۔ پھر سردار ولبھ بھائی پٹیل اور جواہر لال نہرو نے انہیں سمجھانے کیی کوششیں شروع کیں۔
ریاست کی تشکیل اور انتہا پسندی:
معاہدے کے بعد یکم دسمبر 1963 کو ناگالینڈ ہندوستان کی 16ویں ریاست بن گیا۔ لیکن عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کو روکا نہیں جا سکا۔ 1975 میں بہت سے انتہا پسند لیڈروں نے ہتھیار ڈال دیے لیکن یہ بھی کافی نہیں تھا۔1980 میں، کچھ عسکریت پسندوں نے مل کر نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ (NSCN) تشکیل دیا۔ جن عسکریت پسندوں کے شبہ میں سیکورٹی فورسز نے مون ضلع میں کارروائی کے لیے گھیرے میں لیا تھا، ان کا تعلق اسی تنظیم سے ہے،حالانکہ بعد میں پتہ چلا کہ وہ عام شہری تھے وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں اپنے بیانمیں کہا کہ وہغلط فہمی میں مارے گیے اور بھارت سرکار کو اس کا دکھ ہے۔










