میرٹھ : (ایجنسی)
اترپردیش کے میرٹھ میں سنسنی خیز قتل کو انجام دیا گیا ہے۔ میرٹھ میونسپل کارپوریشن کونسلر اور اے آئی ایم آئی ایم لیڈر زبیر انصاری کا گولی مار قتل کردیا گیا ہے ۔ واردات 28 اگست صبح 10 بجے دن دہاڑے میڈیکل تھانہ علاقہ میں انجام دی گئی ۔ بائک سوار دو شوٹر نے پولیس چوکی کے پاس کونسلر پر حملہ بولا اور تابڑ توڑ گولیاں برسا کر ان کاقتل کردیا۔
دی کوئنٹ کی رپورٹ کے مطابق نوچندی کے ڈھلائی نگر کے رہائشی رئیل اسٹیٹ بزنس مین اور اے آئی ایم آئی ایم لیڈر زبیر انصاری کا دوسرا گھر اور دفتر سنتوش اسپتال کے پاس ہے۔ گیراج میں کھڑی گاڑی باہر نکالنے کے بعد زبیر انصاری اس میں سوار ہونے ہی والے تھے تبھی بائک پر آئے دو بدمعاشوںنے ان کو ٹارگیٹ کرکے گولیاں چلانا شروع کردیں۔
گولی لگنے کے بعد زبیر اپنی جان بچانے کے لیے گلی کی طرف بھاگے، لیکن بدمعاش ان کےپیچھے آئے اور ان کو پھر سے گولیاں ماریں، کئی گولیاں لگنے سے زبیر گر گئے تو بدمعاشوں نے ان کے پاس آکر ان کی موت کی تصدیق کی اور پھر ہتھیار لہراتے ہاپوڑ روڈ کی جانب فرار ہوگئے۔ صبح ہوئی اس واردات سے پورے شہر میں سنسنی پھیل گئی ہے ۔
زبیر انصاری میونسپل کارپوریشن کے وارڈ نمبر 80 سے کونسلر تھے۔ یوپی کے علاوہ ان کا رئیل اسٹیٹ کا کاروبار اتراکھنڈ میں بھی پھیلا ہوا ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے ٹکٹ پر انہوں نے میونسپل کارپوریشن میں الیکشن لڑے اور جیتے بھی۔
میرٹھ ضلع میں انہوں نے پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے کام کیا۔ ان کے قتل کے بعد موقع پر بہت سے لوگ پہنچ گئے ۔ ایس ایس پی پربھاکر چودھری بھی پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے اور معاملے کی تفتیش شروع کی۔
موقع پر ثبوت جمع کرنے کے لیے فورنسک ٹیم اور ڈاگ اسکواڈ کو لگایا گیا ہے ۔ سرویلانس کے ذریعہ حملہ آوروں کا پتہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔پولیس ابتدائی طور پر اس قتل کے پیچھے کی وجہ نہیں بتا سکی۔ مانا جا رہاہے کہ قتل کے پیچھے کی رنجش رئیل اسٹیٹ کاروبار کی دشمنی ہو سکتی ہے ۔
واردات کے چشم دید کے مطابق بدمعاشوں نے اپنے چہرے ڈھک رکھے تھے اور ان کے ہاتھوں میں اچھے ہتھیار تھے۔ سوال پولیس کے طریقہ کار کو لے کر بھی ہے ۔ موقع وارادت شاستری نگر کے ایل بلاک کی پولیس چوکی سے محض 50میٹر دور ہے ، لیکن تابڑ توڑ گولیاں چلانے کی آواز وہاں بیٹھے پولیس والوں کو سنائی تک نہیں دی۔ سوال یہ بھی ہے کہ میرٹھ میں بدمعاش اتنے بے خوف ہوگئے ہیں کہ وارادت کو انجام دینے کے بعد وہ ہتھیار لہراتے ہوئے فرار ہوگئے۔








