نوٹ :’’سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران یوپی میں 22مسلم نوجوان مارے گئے تھے ۔متاثرین کا کہنا ہے یہ پولیس کی فائرنگ کا شکار ہونے اور کہیں کوئی ایف آئی آر تک نہیں ہوئی تو پھر انصاف کی امید کہاں سے ہو ،ایک مشترک بات ہے کہ زیادہ تر پریوار غریب ہیں، ظاہر ہے وہ سرخی نہیں بن سکتے،اس لیے کوئی پرسان حال نہیں۔‘‘
معروف نیوز پورٹل’’ دی کوئنٹ ہندی‘‘ کے شکریہ کے ساتھ یہ رپورٹ نذر قارئین ہے، آنکھیں کھول کر یہ رپوٹ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ (ایڈیٹر)
20 دسمبر 2019 کو میرٹھ میںسی اے اے ؍ این آر سی کے خلاف مظاہرے کے دوران ہونے والے تشدد میں 6 لوگ مارے گئے۔ مرنے والے تمام افراد کا تعلق اقلیتی برادری سے تھا۔ اس واقعے کو 2 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن متاثرین کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک انصاف تو دور ان کی تحریر پر ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔
دوسری جانب مقتولین کے لواحقین کا الزام ہے کہ ان کے اہل خانہ کی موت پولیس کی فائرنگ سے ہوئی تھی، مقتول آصف کے والد عید الحسن کا کہنا ہے کہ یہاں انصاف ملنا چاہیے جیسے ہم اپنا وقت کاٹ رہے ہیں ،جو ہماری زندگی پر گزر رہی ہے ، ان کو بھی معلوم ہونا چاہئے ۔ ان کاکہنا ہے کہ گولی پولیس والوں نے ہی چلائی تھی۔
ہم وہاں نہیں تھے لیکن اسے لے جانے والے نے یہ بھی کہا کہ پولیس نے ہی گولی ماری تھی۔ ایک 9 نمبر گلی کالڑکا مارا تھا،اس کے سر میں گولی لگی تھی۔ ایک لڑکے نے اس کے ہاتھ پکڑ کر ویڈیو بنائی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس والے نے کہاکہ جو لوگ مرے ہیں انکا نوٹس آئے گا ،لیکن ہمارے واپس نوٹس نہیں آیاالبتہ دوسروں کے لواحقین کے پاس آیا ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، مقامی پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے دوران پولیس کی فائرنگ سے موت کی تردید کی تھی۔ وہیں مقتول کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ تشدد کے دوران پولیس نے لوگوں کو نشانہ بنایا اور قتل کیا۔
انصاف کے لیے در- در بھٹکتےپریواراب کورٹ کی چوکھٹ پر پہنچے ہیں۔ مقتول علیم کے بھائی محمد صلاح الدین کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کمیشن، ہائی کورٹ، ڈی جی پی اور ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو درخواست کے ساتھ اس دن کا واقعہ بطور سی ڈی ثبوت کے طور پر بھیجا ہے۔ ہمارے بھائی کو صرف پولیس نے گولی ماری۔ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے مقدمہ درج کیا جائے۔
ابھی تک عدالت کے اندر کوئی سماعت نہیں ہوئی۔ مجبوری میں 156تین میں عدالت کے اندر جانا پڑا، لیکن 156 میں بھی دو سال ہو گئے، لیکن وہاں بھی صرف تاریخ پر تاریخ دی جا رہی ہے، انصاف کی زیادہ امید نہیںنظر آرہی ہے ۔
تشدد میں مرنے والوں کے لواحقین کے وکیل کا کہنا ہے کہ پولیس خود قاتل ہے، وہ ان لوگوں کو کہاں سے ڈھونڈ پائے گی۔ ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ 6 افراد مارے گئے ہیں، لیکن اب تک پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔ جبکہ قانون یہ ہے کہ اگر کوئی رپورٹ درج کرانے نہیں آتا تو پولیس کو خود ایف آئی آر درج کرنا ہوتی ہے۔ لیکن پولیس خود اس میں ملوث ہے۔










