اردو
हिन्दी
مئی 2, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ملیانہ قتل عام اور عدلیہ کی بے حسی

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
ملیانہ قتل عام اور عدلیہ کی بے حسی
138
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

الہ آباد ہائی کورٹ نے اترپردیش حکومت سے ملیانہ میں ہوئے مسلم قتل عام کے مقدمہ پر تیزرفتار سنوائی کو لے کر جواب طلب کیا ہے، حادثہ مئی 1987 کا ہے جب میرٹھ ضلع کے ملیانہ گاوں میں فرقہ وارانہ فسادات کے دوران 72 مسلم نوجوانوں کو پی اے سی کی 44 ویں بٹالین کے ذریعےحکومت کی سرپرستی میں قتل کردیا گیا تھا۔ آج 32 سال گزرجانے کے بعد بھی اس قتل عام کا مقدمہ جوں کا توں ضلعی عدالت کی فائلوں میں دبا ہوا ہے۔ قتل عام کی ایف آئی آر متعلقہ پولیس اسٹیشن کے ساتھ متعلقہ عدالت کے ریکارڈ فائلوں سے بھی غائب کی جاچکی ہے، اتنے اہم مقدمے کی ایف آئی آر کا عدالت و پولیس تھانے کی فائلوں سے غائب ہونا ملزمین اور حکومتی افسران کی سازباز کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ گزشتہ 32 سالوں میں استغاثہ یعنی سرکاری وکلا کے ذریعے سو سے زائد بار سنوائی کو موخر کرنے کی درخواستیںدی گئیں اور ہر درخواست پرفاضل جج کا بآسانی سنوائی کو موخر کرنا نظام انصاف کو یقینا ناکام کرنے کے مترادف ہے، اس مقدمہ میں کرمنل کیس ہونے کی بنیاد پرسرکاری وکیل کو متاثرین کے وکیل و معاون کی حیثیت حاصل ہے۔

ملیانہ قتل عام کی جوڈیشیل انکوائری کے لئے حکومت نے جسٹس شریواستو کمیشن کی تشکیل کی تھی لیکن آج تک اس کمیشن کی رپورٹ کو صوبائی حکومت نے عوام کے سامنے پیش نہیں کیا، کمیشن کی رپورٹ کو اس طرح دبائے رکھنے میں سابقہ تمام ہی اترپردیش کی صوبائی حکومتوں کی منشا یقینا ملزمین کی پشت پناہی ہی ہوسکتی ہے، اس دوران کانگریس پارٹی کے علاوہ سماجوادی پارٹی و بہوجن سماج پارٹی کی اترپردیش میں حکومت رہی ہیں ۔

اپریل 1987 میں اترپردیش کے ضلع میرٹھ میں ہندومسلم فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے،  جس کے بعد اترپردیش کانگریس حکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں، جس کے احتجاج میں مسلمان سڑکوں پر آگئے، ان احتجاجات کے خلاف صوبائی حکومت نے مئی کی19 سے 23 تاریخ تک پورے میرٹھ ضلع میں کرفیو نافذ کردیا تھا، 22 مئی کو پی اے سی نے میرٹھ کے ہاشم پورہ گاوں میں سیکڑوں مسلم نوجوانوں کو  گھروں سے نکال کر ہاتھ اوپر کرکے پریڈ کرائی اور پی اے سی کے ٹرکوں میں بھرکر لے گئے، پی اے سی نے کچھ کو تو پولیس اسٹیشن میں گرفتار کیا جب کہ کئی ٹرک گنگا ندی کے کنارے لے جائے گئے اور ان مسلمانوں کولائن سے کھڑا کرکے باری باری گولیاں مارکرقتل کرکے لاشوں کوگنگا ندی میں بہادیا گیا، کئی روز تک لاشیں برآمد ہوتی رہیں، ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق “حکومت کی ایک ایجنسی نے ایک مخصوص آبادی کو نشانہ بناکر چھاپہ مارا، مخصوص شہریوں کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر اکٹھا کیا، ان کو اپنی تحویل میں لیا، نیز اپنی تحویل میں ہی ان کا قتل عام کرکے ان کی لاشوں کو ندی میں بہا دیا گیا۔”

ہاشم پورہ قتل عام کے اگلے دن 23 مئی 1987 کو پی اے سی کے جوانوں نے میرٹھ ضلع کے  ہی ایک دوسرے گاوں ملیانہ کو گھیر لیا، پی اے سی کا کہنا تھا کہ میرٹھ کے دیگر قصبات کے مسلمانوں نے ملیانہ میں پناہ لی ہے، ملیانہ میں پی اے سی نے مسلم آبادی پر بنا کسی تفریق کے مرد عورت بچوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور کچھ زخمیوں کو تو انکے گھروں میں ہی جلا دیا گیا، رپورٹوں کے مطابق ملیانہ گاوں میں 80 لاشیں برآمد ہوئی تھیں جن کے قتل عام کا الزام پی اے سی کے اوپر تھا، لیکن ایف آئی آر میں پی اے سی کی جگہ ملزمین کی شناخت نامعلوم ہی لکھی گئی تھی۔

ملیانہ و ہاشم پورہ قتل عام میں کل اموات کا اعدادوشمار تو موجود نہیں ہے، سرکاری اعداوشمار کے مطابق مئی کی 19 سے 23 تاریخ کے درمیان تقریبا 117 افراد کی موت ہوئی تھی، 159 افراد زخمی ہوئے تھے، 623 مکانات، 344 دوکانیں اور 14 کارخانے لوٹے و نذر آتش کئے گئے تھے۔ جب کہ ایک دیگر رپورٹ کے مطابق 21 سے 25 مئی کے درمیان 295 مسلمانوں کا قتل ہوا تھا، نیز یہ قتل عام پولیس اور پی اے سی کے ذریعے یا ان کی سرپرستی میں ہوا تھا، جب کہ قتل کی وارداتوں کا سلسلہ 15 جون 1987 تک جاری رہا تھا۔

ہمارے لئے فرقہ وارانہ فسادات کی فہرست بہت لمبی ہے لیکن ان فسادات میں حکومت اور حکومت کی ایجنسیوں کا کیا رول رہا ہے اس پر غور کرنا ضروری ہے، ملیانہ اور ہاشم پورہ قتل عام کے بعد پہلے تو حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ کچھ لوگوں نے پولیس کی یونیفارم چوری کر کے یہ وارداتیں انجام دی ہیں۔ اترپردیش کے وزیراعلی وی بی سنگھ (کانگریس) نے پہلے تو دعوی کیا تھا کہ مسلمان ہی ان قتل عام کے ذمہ دار ہیں اور پی اے سی کی کاروائی کو برحق ٹھہرایا تھا، وی بی سنگھ نے پہلے تو پی اے سی کے کمانڈنٹ آر ڈی تریپاٹھی کو سسپنڈ کیا لیکن اگلے ہی روز کمانڈنٹ آر ڈی تریپاٹھی کو بحال کردیا گیا تھا۔ مرکزی وزیرداخلہ بوٹا سنگھ نے نیشنل انٹگریشن کاونسل سے کہا تھا کہ ملیانہ میں صرف 10 افراد کا قتل ہوا ہے۔ راجیوگاندھی جو کہ ملک کے ےوزیراعظم تھے انہوں نے میرٹھ ملیانہ کے متاثرین کو معاوضہ تو دیا لیکن سیکیورٹی فورسز کا قتل عام میں ملوث ہونے کا اعتراف نہیں کیا تھا۔

ملیانہ کے قتل عام کا حادثہ ہمارے عدالتی نظام کے سامنے سوالیہ نشان لگاتا ہے، 32 سال کا طویل عرصہ گزرجانے کے بعد بھی ضلع عدالت میں مقدمہ ابھی تک شروع نہیں ہوسکا، کسی بھی کرمنل مقدمے میں سب سے اہم کردار گواہوں کا ہوتا ہے، ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن میں ہائی کورٹ سے متاثرین نے گہار لگائی ہے کہ پولیس اور پی اے سی کے ذریعے گواہوں اور متاثرین کو ڈرانے دھمکانے کی مسلسل کوششیں کی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسی غیرانسانی واردات کے گواہوں کو عدالت نے کوئی تحفظ فراہم کیا؟ کیا اتنے طویل عرصے کے بعد ملزمین کو سزا دینا ممکن ہوگا؟ کیا سنوائی میں تاخیر متاثرین کے انصاف پانے کے حق کے خلاف نہیں ہے؟

ملیانہ قتل عام سے ایک دن پہلے ہاشم پورہ میں پی اے سی کی اسی ٹیم نے جو قتل عام کیا تھا اس مقدمہ میں ضلعی سیشن عدالت نے مارچ 2015 میں یہ کہتے ہوئے تمام ملزمین کو بری کردیا تھا  کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ 40-45 افراد کو پی اے سی کے پیلے رنگ کے ٹرک میں بھر کر لے جایا گیا تھا جو کہ پی اے سی کی 41 ویں بٹالین کا تھا۔ لیکن پھر دہلی ہائی کورٹ نے 2018 میں اپنا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے پی اے سی کے 16 جوانوں کو عمرقید کی سزا سنائی تھی جب کہ دیگر تین ملزمین کی موت ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف سزا نہیں ہوسکی تھی، دہلی ہائی کورٹ کے مطابق 22 مئی 1987 کو پی اے سی جوانوں نے ہاشم پورہ میں 40 مسلم بے گناہوں کو گرفتار کیا تھا اور بعد میں ان کا قتل عام کیا تھا۔

ہمارے ملک میں اقلیتی طبقات کے خلاف خاکی وردی کا غیر قانونی استعمال سیکولر کانگریس سرکاروں نے بھی خوب کیا ہے، ان خاطی پولیس افسران کو سیاسی سرپرستی بھی حاصل رہی ہے، موجودہ سرکاروں کے علاوہ انگریزوں کے بنائے قانون نے بھی خاکی وردی کو جو تحفظ فراہم کیا تھا وہ تحفظ آج کے آزاد ہندوستان میں بھی باقی رکھا گیا ہے۔ کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 197 کے تحت کسی بھی پولیس اہلکار کے خلاف قانونی پیش رفت کرنے سے پہلے حکومت کی اجازت حاصل کرنی ضروری ہے۔ ایک ایسا قتل عام جس میں ایک مخصوص مذہبی طبقے کو نشانہ بنایا گیا، اگر میرٹھ اور اس کے اطراف میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے ذمہ دار مسلمان تھے تو کیا جرم ثابت کرنے کے لئے عدالتی نظام موجود نہیں تھا؟ کیا ایک ایسی واردات  جس میں تقریبا سو سے زائد شہریوں کی جان گئی تھیں اس واردات کے متاثرین کو آزاد جمہوری ملک کی خودمختار عدالتیں تین دہائیوں سے زائد عرصے میں بھی انصاف کو یقینی بنانے کی ہمت و حیثیت نہیں رکھتی ہیں؟ دستور ہند نے تمام شہریوں کو بغیر کسی تعصبو تفریق کے انصاف دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج وہ وعدہ ٹوٹتا ہوا دیکھ کر ملک کا مسلمان یقینا نظام عدلیہ سے سوالات کرے گا؟

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN