نئی دہلی :(ایجنسی)
گجرات کے ایم ایل اے اور دلت لیڈر جگنیش میوانی کو آسام کی ایک عدالت نے آج ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے اس سے پہلے 24 اپریل بروز اتوار کوضمانت عرضی پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ جگنیش میوانی کو آسام پولیس نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف ان کے ٹویٹ پر درج مقدمے میں گرفتار کیا تھا۔
دی کوئنٹ ہندی ڈاٹ کام کی خبر کے مطابق میوانی کو گجرات کے پالن پور سے آسام پولیس کی ٹیم نے جمعرات کو کوکراجھار کے ایک مقامی بی جے پی لیڈر نے ان کے خلاف شکایت درج کرنے کے بعد گرفتار کیا تھا۔
41 سالہ جگنیش میوانی پر مجرمانہ سازش، عبادت گاہ سے متعلق جرائم، مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور امن میں خلل ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
اپنی شکایت میں، بی جے پی لیڈر اروپ کمار ڈے نے الزام لگایا ہے کہ جگنیش میوانی کا ٹویٹ ’ممکنہ طور پر ایک مخصوص کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے عوام کے ایک حصے کو بھڑکا سکتا ہے‘۔
پی ایم مودی کے کھلے عام تنقید کرنے والے جگنیش میوانی نے اپنی گرفتاری کو ’پی ایم او (وزیر اعظم کے دفتر) کے ذریعہ انتقامی سیاست‘قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ بناسکانٹھا کی وڈگام سیٹ سے آزاد ایم ایل اے، میوانی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلا الیکشن کانگریس امیدوار کے طور پر لڑیں گے۔








