نئی دہلی :
پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس ہنگامے اور تنازعات میں دھلنے کے آثار ہیں۔ اپوزیشن پارٹیاں پیگاسس جاسوسی اسکنڈل، زرعی قوانین سمیت کئی ایشوز پر احتجاج ومظاہرے کررہی ہیں ۔107 گھنٹے کے شیڈول وقت میں سے پارلیمنٹ ابھی تک صرف 18 گھنٹے چلی ہے۔ نیوز ایجنسی پی ٹی آئی نے سرکار ی ـذرائع کے حوالہ سے بتایا کہ اس وجہ سے 133 کروڑ روپے سے زیادہ ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا نقصان ہواہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک جاری مانسون سیشن کے 89 گھنٹے ضائع ہو چکے ہیں۔ مانسون سیشن 19 جولائی سے شروع ہوا تھا اور 13 اگست تکچلے گا۔
سرکاری ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر پی ٹی آئی نے بتایا کہ راجیہ سبھا اپنے مقررہ وقت میں سے صرف 21 فیصد ہی کام کر پائی ہے، جبکہ لوک سبھا شیڈول وقت میں سے تقریباً 13 فیصد کام کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
لوک سبھا کے 54 گھنٹوں میں سے ایوان کو صرف سات گھنٹے چلنے دیا گیا ، وہیں راجیہ سبھا کو 53 گھنٹے میں سے 11 گھنٹے چلنے دیا گیا۔ ابھی تک پارلیمنٹ اپنے 107 گھنٹوں میں سے صرف 18 گھنٹے چل پائی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ ٹھیک سے نہ چل پانے کی وجہ سے سرکاری خزانے کو 133 کروڑ روپے سے زیادہ کانقصان ہواہے۔
اپوزیشن پارٹیاں پیگاسس جاسوسی اسکنڈل، زرعی قوانین سمیت کئی مسائل پر بحث کی مانگ کرتے ہوئے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں مظاہرے کررہی ہیں ۔ ان سب کے درمیان لوک سبھا میں پانچ بل پاس ہو چکے ہیں ۔ راجیہ سبھامیں بھی اتنے ہی بل پاس ہوئے ہیں۔










