ایران -اسرائیل میں جنگ بھلے ہی رک گئی ہو مگر تیاری دونوں طرف ہے اور ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں ـ اسرائیل کئی بار حملے کی دھمکی دے چکا ہے وہیں ایران بھی خاموش نہیں بیٹھا ہے اس کا کہنا ہے کہ اب کی بار زیادہ تباہ کن حملے کیے جائیں گے ـ اسی دوران ایران میں موساد کے مخبروں اور ایجنٹوں کے خلاف زبردست مہم چل رہی ہے کئی مبینہ جاسوس پھانسی پر چڑھائے جاچکے ہیں ادھر ایک خبر نے سب کو چونکا دیا ہے ـ اسرائیلی ایجنسی موساد ایران میں اب بھی پوری طرح فعال ہے۔ معروف انگریزی روزنامہ ’دی ٹیلی گراف‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے 30 سے زائد سائسندانوں (محققین) کے قتل کے بعد ایران نے اپنے ذہین اور قابل جوہری سائنسدانوں کو ایک خفیہ مقام پر بھیج دیا ہے جو کہ ایک بہترین سیکورٹی ڈھانچہ ہو سکتا ہے۔
ایک سینئر ایرانی افسر نے دعویٰ کہ بیشتر سائنسداں اب اپنے گھروں میں نہیں رہ رہے، اور نہ ہی یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہیں۔ انھیں تہران یا شمالی ساحلی شہروں میں محفوظ مقامات پر لے جایا گیا ہے، جہاں وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ بنگلوں میں رہتے ہیں۔ یعنی اب ایران نے اپنے سائنسدانوں کو خفیہ مقامات پر بھیج دیا ہے، تاکہ موساد کے ایجنٹوں سے انھیں بچایا جا سکے۔
’دی ٹیلی گراف‘ کو اسرائیل کی طرف سے تیار تقریباً 100 سائنسدانوں کی فہرست میں سے 15 سے زیادہ بچے ہوئے سائنسدانوں کے نام دکھائے گئے ہیں۔ اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ اب انھیں (سائسندانوں کو) یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ اپنے کام جاری رکھیں اور آگے کے حملوں کا جوکھم اٹھائیں، یا کوئی نیا کیریئر تلاش کریں۔ ایرانی افسر کا کہنا ہے کہ ’’ان میں سے بیشتر اب اپنے گھروں میں نہیں رہتے۔ انھیں یا تو تہران یا شمال میں محفوظ گھروں میں لے جایا گیا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’جو لوگ یونیورسٹیوں میں پڑھا رہے تھے، ان کی جگہ ایسے لوگوں کو رکھا جا رہا ہے جن کا جوہری پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘
جو حالات اس وقت نظر آ رہے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ جون میں ہوئی جنگ بندی کبھی بھی ختم ہو سکتی ہے۔ کئی ایرانی لیڈران نے کہا ہے کہ انھیں اسرائیل کی جنگ بندی پر بھروسہ نہیں ہے اور وہ جنگ کے لیے تیار ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ مستقل دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر ایران نے اپنا جوہری پروگرام نہیں روکا تو پھر سے حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔









