ممبئی:( پریس ریلیز )
ممبئی علاقہ وڈالا کےپولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار تین بے گناہ مسلم نوجوان معراج جرار شیخ ،محمد شفیق ارار شیخ ، ارار عبد الرحمن شیخ کوسیشن کیس نمبر 34/2019 کے تحت چلائے گئے مقدمہ میں سیشن عدالت ممبئی نے باعزت رہا کر دیا ہے۔ ممبئی عدالت سے باعزت بری ہونے کا فیصلہ آنے کے فورا بعد تینوں مسلم نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ نے جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے دفتر واقع زین العابدین بلڈنگ بھنڈی بازار پہو نچ کر ذمہ داران جمعیۃ اور لیگل ٹیم کا شکریہ ادا کیا ۔اس بات کی اطلاع آج یہاں ناجائز مقدمات میں ماخوذ بے گناہ نوجوانوں کی رہائی کے لئے قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے۔
مزید تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممبئی وڈالا پولیس اسٹیشن کے دوپولیس اہلکاروں نے ایک تحریر داخل کی تھی کہ جب وہ ایک کیس کی تحقیقات کے لئے اپنا قانونی فریضہ انجام دے رہے تھے تو یہ نوجوان اور ان کے ساتھ کئی لوگوں نےمل کر ان پر حملہ کر دیا اور بے رحمی سے پٹائی کی جس میں وہ لہو لہان ہو گئے ،اسی اثناء میں ان کے شناختی کارڈ،پین کارڈ ،ڈرائیونگ لائسنس و دیگر ضروری کاغذات بھی گم ہو گئے ۔مار کھانے والے پولیس اہلکاروں نے کسی طرح 100 نمبر ڈائل کرکے مدد مانگی ،چنانچہ موبائل وین کے ذریعہ انہیں اسپتال منتقل کیا گیا ۔
اس کیس میں جملہ 9 ؍ سرکاری گواہوں کی گواہی مکمل کرائی گئیںجس میں مار کھانے والے دوپولیس اہلکار ،تفتیشی افسر ،میڈیکل افسر اور مجسٹریٹ شامل تھے۔جمعیۃ علماء کی لیگل ٹیم نے انتہائی اہم قانونی نکاۃ پر مشتمل دلائل کے ذریعہ عدالت کے رو برو یہ واضح کیا کہ جن پولیس اہلکاروں کی پٹائی ہوئی تھی وہ نہ تو اپنے قانونی فرائض انجام دے رہے تھے اور نہ ہی وہ وردی میں تھے ۔اس کے ساتھ ساتھ دیگر اہم قانونی ضابطے ، استغاثہ کورٹ کے سامنے لانے میں ناکام رہی تمام ثبوت و شواہد اور بحث کے بعد سیشن عدالت نے تینوں ملزمین کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ قانونی حلقہ میں اس فیصلے کو کافی سراہا جا رہا ہے عدالت میں اس کیس کی پیروی جمعیۃ لیگل سیل کے سکریٹری ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان اور ایڈوکیٹ عشرت علی خان کر رہے تھے۔
ممبئی سیشن عدالت کے اس فیصلہ پرحضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب صدر جمعیۃ علماء ہندنے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں سے یکے بعد دیگرے نو جوانوں کا بری ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو پولیس کی جا نب سے عمداپھنسایا جا رہا ہے ،اور ان کی زندگیاں تباہ کی جارہی ہے ہم ایسے بے گناہوں کے لئے قانونی لڑائی جاری رکھیں گے۔ جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے ان تینوں نوجوانوں کے عدالت سے بری ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ کیس ہمارے پاس پیروی کے لئےآیا،اس وقت ہم نے اپنے ذرائع سے ملزمین کے تعلق سے مکمل معلومات حاصل کی،جس سے ہمیں معلوم ہوا کہ ملزمین بے گناہ ہیں اور سازش کے تحت پولیس نے اسے پھنسایا ہے ،ہم نے اپنے وکلاء سے صلاح و مشورہ کے بعد اس کی پیروی کا فیصلہ کیا، الحمد للہ ہمیں اس میں کامیابی مل گئی ہے۔جس سے ان جملہ ملزمین اور ان کے اہل خانہ کو کافی مسرت اور راحت حاصل ہوئی ۔











