تحریر: لال منی ورما (ترجمہ:رنجے کمار)
ملک کی سیاسی طور پر سب سے اہم ریاست اتر پردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات یوگی آدتیہ ناتھ کے بطور وزیر اعلیٰ ہونے والے پہلے اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ یہ انتخاب یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ ساتھ سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی سمیت تمام بڑی پارٹیوں کے لیڈروں کے لیے اہم ہونے والا ہے۔
2017 کے گزشتہ یوپی اسمبلی انتخابات میں، جب اکھلیش کی قیادت والی ایس پی اقتدار میں تھی، اس وقت کی اہم اپوزیشن بی ایس پی جیسی حریف جماعتوں نے امن و امان اور بدعنوانی جیسے مسائل پر اکھلیش حکومت کے خلاف مہم چلائی تھی۔ اس کے بعد بی جے پی نے مظفر نگر فسادات اور کیرانہ سے ہندوؤں کے مبینہ نقل مکانی کو ہوا دے کر ’مسلمانوں کی خوشنودی‘ کے معاملے پر توجہ مرکوز کیا تھا۔
فروری-مارچ 2022 میں ہونے والے یوپی انتخابات میں ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیاں آدتیہ ناتھ حکومت کو کسانوں کے مسائل، امن و امان، بڑھتی مہنگائی اور کورونا وبا کے دوران پیدا ہونے والے بحران کو لے کر نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جبکہ بی جے پی کی مہم دو اہم مسائل پر مبنی ہے۔ پہلا ترقیاتی کام آدتیہ ناتھ حکومت نے کیا اور دوسرا ہندوتوا۔
بی جے پی ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کو اپنی بڑی کامیابی کے طور پر دکھا رہی ہے۔ دوسری طرف، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا اور سی ایم آدتیہ ناتھ سمیت بی جے پی کے سرکردہ لیڈروں نے سماج وادی پارٹی سے کہا ہے کہ وہ 1990 میں ملائم سنگھ یادو کی قیادت والی حکومت کے دوران ایودھیا میں کار سیوکوں پر پولیس فائرنگ کے لیے معافی مانگے۔ وہ ایس پی صدر اکھلیش یادو کو محمد علی جناح کی تعریف کرنے والے مبینہ ریمارکس کے لیے بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔
یوپی میں حالیہ ریلیوں میں بی جے پی کے کئی لیڈروں نے پولرائزیشن کے مسائل کو اٹھانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ امت شاہ اپنی ریلیوں میں جیل میں بند ایس پی لیڈر اعظم خان، جیل میں بند بی ایس پی ایم ایل اے مختار انصاری اور کانگریس لیڈر عمران مسعود اور نسیم الدین صدیقی جیسے مسلم اپوزیشن لیڈروں کا نام لے کر اپوزیشن پارٹیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ امیٹھی میں منعقدہ ایک عوامی میٹنگ میں سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ انہیں ’’گرو سے کہو ہم ہندو ہے‘‘ کہنے میں کوئی جھجک نہیں ہے۔
الیکشن کو بی جے پی اور ایس پی کے درمیان دو طرفہ جنگ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے لیے حکمران کیمپ کے لیڈر بی ایس پی اور کانگریس لیڈروں سے زیادہ اکھلیش کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دراصل، بی جے پی اس بات کا اندازہ لگا رہی ہے کہ اگر مسلم ووٹ بی ایس پی کی طرف بڑھتے ہیں تو یہ بی جے پی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے کیونکہ بی ایس پی پہلے ہی دلت برادریوں میں بہت مقبول ہے۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے ہفتہ کو اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرنے سے کچھ دن پہلے، آدتیہ ناتھ حکومت نے دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں نجی ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی کا اعلان کیا۔ یہ اعلان ایس پی اور اے اے پی کے کسانوں کو مفت بجلی اور گھریلو صارفین کے لیے ماہانہ 300 یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کرنے کے بعد آیا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نئے میڈیکل کالج اور ایمس کے ساتھ ساتھ ان کے دور حکومت میں بنائے گئے ایکسپریس وے کی بھی تشہیر کررہی ہے جس میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران پریشانیوں کو لے کر بی جے پی پر اپوزیشن کے حملے کے پیش نظر پچھلی ایس پی حکومت سے اس کا موازنہ کرتے ہوئے بی جے پی کہہ رہی ہے کہ ان معاملات میں ایس پی کا ٹریک ریکارڈ کمزور رہا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ یوپی میں بی جے پی کے سب سے بڑے لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں اور ان کی حکومت پچھلے پانچ سالوں سے انتخابی مہم چلا رہی ہے۔ انہوں نے پانچ سالوں میں ریاست کے ہر ضلع اور بیشتر اسمبلی حلقوں کا دورہ کیا ہے۔ پچھلے دو مہینوں میں انہوں نے ان سیٹوں پر توجہ مرکوز کی ہے جہاں 2017 کے انتخابات میں بی جے پی کو شکست ہوئی تھی۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسمبلی انتخابات لڑیں گے۔ بی جے پی نے 2017 کے انتخابات میں 312 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور 2022 کے انتخابات میں دوبارہ 300 کا ہندسہ عبور کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے لیے اس نے اپنا دل (سونی لال) اور نشاد پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔
(بشکریہ: جن ستا )










