شیام میرا سنگھ
نویکا کمار ٹائمز ناؤ نوبھارت کے نئے نیوز چینل کی ایڈیٹر بنی ہیں۔ بطورصحافت ان کی صلاحیت مسلمانوں کے خلاف نفرت کے علاوہ ریا چکروتی اور سشانت سنگھ راجپوت معاملے پر سنسنی پھیلا کر ان کی پرائیویسی کی دھجیاں اڑانے کی رہی ہے ۔ نفرت ، تفرقہ، دھمال اور جھوٹ ہی ان کے سی وی میں چینل کی مہارت بنی ہوئی ہیں۔ اسی چینل میں ایک سشانت سنہا نام کاایک فساد پھیلانے والا ایک صحافی لایا گیا ہے ۔ سننے میں آیا ہے کہ انہی لوگوں نے صحافیوں کی ہیرنگ بھی کی ہے ۔ انہی لوگوں نے انٹرویو کئے ہیں ۔ میں اس بات کی تصدیق نہیں کرتا ،لیکن ایساسننے میں آیا ہے ۔
جب باس ہی لوٹ مار- مار کر چاپلوسی کرنے والے منتخب کئےجائیں گے تو ان کے ماتحت کام کرنے والے اچھے صحافی چاہ کر بھی اچھا نہیں کر سکیں گے ۔ دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ نیچے بیٹھے صحافی غلطی سے ’’ اچھا نہ کردیں‘ ‘ اس بات کو یقینی کرنے کے لیے ہی ان لوگوں کو اوپر پر بیٹھا یا گیا ہے ۔
دوسری طرف سریش چوہانکے ایک ٹی وی چینل کا چیف بنا ہوا ہے ۔ ری پبلک چینل نام کے فسادی چینل پر ارنب گوسوامی کا قبضہ ہے ۔ اسی طرح ہر ٹی وی چینل میں مودی بھکتی کرنے والے اینکروں کو بٹھایا ہوا ہے ۔ اچھے صحافیوں نیوزچینل سے باہر کردئے گئے۔ وہ چاہے اجیت انجم ہوں ،چاہے پنے پرسن واجپئی یا ملند کھانڈ یکر ۔ عوامی نمائندگی کرنے کی چاہ رکھنے والوں کو یا تو ان میڈیا ہاؤس میں گھسنے نہیں دیا جا رہاہے ۔ یا انہیں اتنے چیلنجز دے جاتے ہیں کہ وہ خاموش ہو جائیں یا خود نوکریاں چھوڑ دیں۔ عوام کے لیے صحافت کرنے والے کو پورٹل ، یوٹیوب پر سمیٹ دئے گئے ہیں۔ جہاں وہ مالی، سیاسی اور ذہنی طور سے دوچار رہتے ہیں۔ زیادہ تر صحافی، صحافت چھوڑ کر دوسرے شعبے میں چلے جاتےہیں ۔ کل ملا کر جو سچ میں صحافت کر سکتے تھے ان کے لیے صحافتی اداروں کے دروازے بندہیں ۔ نتیجتاً 135 کروڑ شہریوں کے ملک میں جمہوریت کا چوتھا ستون منہدم ہوچکاہے ۔
یہی حال یونیورسٹیوں کا ہے۔ اچھے اچھے پروفیسر نکال دئے گئے ۔ چاپلوسی کرنے والے دوئم درجہ کے آر ایس ایس کارکنان کو وائس چانسلر بنادیا گیا ۔ اچھے پروفیسر اپنے کیبن تک محدود کردئے گئے ۔ یونیورسٹیوں کی چابی فسادیوں کے ہاتھ میں سونپ دی گئیں۔
یہی حال سنیما کاہے ۔ سنیما اداروں اور سینسر بورڈ کو بھی ایسے لوگوں کو سونپ دیا گیا ہے جنہیں آرٹس سے مطلب نہیں ہے ، ان کا صرف اس بات کی مانیٹرنگ کرنا ہے کہ کچھ بھی ایسا نہ چلا جائے جو اس ملک کے عوام کو سوچنے پر مجبور کرتا ہو ۔ ایسے مواد کو عوام کے سامنے پیش کرنا ہے جو شہریوں کو جھوٹی دیش بھکتی کے نشے میں ڈوب کر رکھے۔ یہی حال ادبی اداروں کاہے ۔ وہاں بھی اچھے ادیبوں کو نکال کر ایسے لوگوں کو بٹھا دیا گیا ہے جن کا کام یہ یقینی کرنا ہے کہ کیسے بھی کرکے عوامی ادب شائع نہ ہو جائے۔ لوگوں کی فکر نہ کھل جائے۔
جو مستحق ہیں وہ باہر ہیں جو نااہل ہیں وہ اعلیٰ عہدہ پر ہیں ۔ اس پورے منظر نامے کو یاد کرتے ہوئےمجھے ہر روز جرمن نازیوں اور یہودیوں پر بننے والی فلم ’’A boy in stripped Pazama‘‘کا خیال آتاہے ۔ اس میں ایک منظر ہے ،جس میں ایک یہودی ’ڈاکٹر ‘ نازیوں کے گھر میں برتن صاف کرتا ہے اور فسادی نازی فوجی اس میں لال مارتا ہے ۔ اسی طرح کا حال اس ملک کا ہو چکاہے ۔ اچھے پروفیسر ،اچھے صحافی، اچھے ادیب ،اچھے فنکار اداروں سے باہر کردئے گئےہیں اور نااہل ،فسادی اور نفرت کی تشہیر کرنے والے ان کے اعلیٰ عہدے پر بٹھادئے گئے ہیں۔










