پٹنہ :
لوک جن شکتی پارٹی ( ایل جے پی ) میں دو دن کے اندر آئے بھوچال نے بہار میں سیاسی تصویر بدل دی ہے۔ والد رام ولاس پاسوان کے بعد بیٹے چراغ پاسوان کو وارثت کے طور پر ملی پارٹی اب انہی سے الگ ہوگئی،حالانکہ رپورٹس کے مطابق یہ بہار میں تبدیلی سیاسی پیش رفت کی محض شروعات ہے۔ دراصل ایل جے پی میں ٹوٹ کو جےڈی یو کا ’مشن ایل جے پی‘ ماسٹر پلان بتایا جا رہا ہے ۔ اب جے ڈی یو نے اس آپریشن کی کامیابی کے بعد کانگریس کو توڑنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔اس کے لیے نتیش کی پارٹی نے ’آپریشن کانگریس‘شروع کیا ہے ۔
آن لائن ہندی پورٹل ’ جن ستہ‘ نے لکھاہے کہ کانگریس کے ایک بیک گراؤنڈ کےلیڈر کو اس آپریشن کی رفتار تیز کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ بہار میں گزشتہ سال ہوئےانتخابات میں کانگریس کو 19 سیٹوں پر جیت ملی تھی، ایسے میں کانگریس میں کسی بھی جوڑ -توڑ کو بغیر دل -بدل قانون کے دائرے میں لائے آگے بڑھانے کے لیے جے ڈی یو کو کم سے کم اس کے دو تہائی یعنی 13 ایم ایل اے کورضامند کرناہوگا۔ جانکاری کے مطابق جے ڈی یو کے جس وزیر کو کانگریس کو توڑ نے کی ذمہ داری دی گئی ہے اس نے 10 ایم ایل اے سے بات کررہے ہیں پارٹی چھوڑنے کے لیے تقریباً تیار بھی کرلیا ہے ، بس معاملہ دو تہائی کی تعداد پر اٹکا ہوا ہے ۔
نہیں ٹوٹ رہے ہیں کانگریس کے وفادار ایم ایل اے
بہار کانگریس میں موجودہ وقت میں کئی ایسے لیڈر ہیں جو جے ڈی یو کی جانب سے بار – بار لالچ دیئے جانے کے باوجود ٹوٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ا ن میں اقلیتی طبقے کے 3 ایم ایل اے ،پرانے کانگریسی پریوار سے جڑے 3 ایم ایل اے، پارٹی سے جیت حاصل کئے دو نئے ایم ایل اے اور پارٹی کے انتخابی نشان پر دوبار ا منتخب ہو کر آئے ایک وفادار ایم ایل اے جے ڈی یو کے آپریشن کانگریس کے راستے میں روڑا بنے ہوئےہیں۔
بتایا گیا ہے کہ کانگریس کو توڑنے کے لئے کانگریس کے بیک گراؤنڈ کے لیڈر کے ساتھ ’آپریشن ایل جے پی‘ کو انجام تک پہنچانے والے جے ڈی یو ممبر پارلیمنٹ کو بھی لگایا گیا ہے۔ انہوںنے اپنی جیت حاصل کرنے والے لیڈروں کے ساتھ اپنے رابطہ میں آئے کانگریسی ایم ایل اے کو جے ڈی یو میں شامل ہونے کے فوائد بتائے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی طرح کے سمجھوتہ میں فائدہ انہیں ہی ہوگا، حالانکہ آگے یہ دیکھنا ہو گا کہ کانگریس کے کتنے لیڈر ٹوٹ کر جاتے ہیں۔










