کولکاتا :
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخاب کو اس بار ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے مابین براہ راست مقابلہ سمجھا جارہا ہے۔ ٹی ایم سی کا الزام ہے کہ بی جے پی پولرائزیشن کے ذریعہ تمام ہندو ووٹ کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ساتھ ہی ٹی ایم سی نے اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما اسدالدین اویسی پر بھی مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے نشانہ سادھا ہے۔ خود بنگال کی سی ایم ممتا بنرجی نے اس پر بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حیدرآباد سے ایک گائے (اویسی کو) لے کر آئی ہے۔ انہوں نے بی جے پی سے پیسہ لئے ہیں۔ ہمیں انہیں یہاں ٹکنے نہیں دینا ہے۔
اس پر اسدالدین اویسی نے جوابی حملہ بولاہے۔ انہوں نے ٹوئٹس کی جھڑی لگاتے ہوئے کہاکہ 30 اپریل 2002 کو جیسا کہ گجرات جل رہا تھا اور متاثرہ افراد کیمپوں میں موجود تھے۔ لوک سبھا گجرات فساد کی مذمت کے لئے ایک تحریک پر تبادلہ خیال کر رہی تھی۔ ممتا بنرجی نے اس کے خلاف اور بی جے پی کے حق میں ووٹ دیا۔ کیا دیدی نے گجرات کے متاثرین کو مفت یا وزارتی عہدے کے لیےبیچ دیا؟
اویسی یہیں نہیں رکے ۔ انہوں نے کہا کہ صرف مجرمگینگ ہی علاقے کو آپس میں بانٹتے ہیں اور جب کوئی داخل ہوتا ہے تو ایک دوسرے پر حملہ کرتے ہیں، چونکہ میں اس مجرمانہ سنڈیکیٹ کا حصہ نہیں ہوں ، اس لئے ممتا بنرجی کا پریشان ہونالازمی ہے۔ ‘’بی جے پی آئے گئی‘ ایسا کہنے کے علاوہ آپ نے بنگال کے مسلمانوں کے لئے کیا کیاہے؟ بنگال کے 15 فیصد مسلمان سرکاری تعلیم سے محروم ہیں۔ 80 فیصد پانچ ہزار روپے سے بھی کم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ دیہی بنگال میں 38.3٪ فیصد ڈھائی ہزار روپے سے کم کماتے ہیں۔ تین -چوتھائی سے زیادہ مسلمان کے پاس کوئی زمین نہیں ہے۔
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ نے کہا ’ ہم انسان ہیں اور ہم یہاں صرف ممتا بنرجی کو جیتانے کے لئے پیدا نہیں ہوئے ۔ ہمیں عزت ، تعلیم ، طبی خدمات اور سیاسی بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ جب وہ (ممتا بنرجی) 2003 میں بی جے پی-آر ایس ایس کے ساتھ نزدیکیاں بڑھا رہی تھیں تب بھی ہم اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ وہ وزیر بن گئیں ، وزیر اعلیٰ بن گئیں ، لیکن ہمیں کیا ملا؟ ‘
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں میں آبادی کے حساب سے حصہ ملنے میں 60 سال لگیں گے۔ممتا بنرجی آر ایس ایس کی پسند سے خود ساختہ سیکولر بن گئیں۔ بنگال میں مسلمانوں کی ایک پوری نسل بنا زمین کے غریب ،ان پڑھ رہی۔ اس کے لئے کوئی بھی حیدرآبادی مسلمان ذمہ دار نہیں ہے۔ کیا ہم اس بے عزتی کے لیے بی جے پی کے پرانے ساتھیوں کو ووٹ دیں گے ، اگر اس حیدرآبادی مسلمان کے پاس کہنے کے لیے کچھ ہے تو بالکل نہیں۔ اس لئے ہم مسلمانوں میں ڈر پھیلانے کے علاوہ اور کچھ نہ کرنے کے لیے ممتا بنرجی سے سوال پوچھنا جاری رکھیں گے۔








