لکھنؤ : (ایجنسی)
اگر معاملہ پوری طرح سیٹ ہو گیا تو اگلے کچھ دنوں میں بی جے پی اور بی ایس پی کے ایک درجن سے زیادہ ممبران اسمبلی سماج وادی پارٹی کے سائیکل پر سوارہوجائیں گے۔ یہ ایم ایل اے پوروانچل اودھ اور مغربی اترپردیش سے تعلق رکھتےہیں۔ ان میں سے کچھ ایم ایل اے تو ایسے بھی ہیں جو تین ہفتہ پہلے دہلی میں ایک پوروانچل کے ممبرپارلیمنٹ سے بھی ملاقات کرچکے ہیں۔ اس کے بعد سے تمام ممبران اسمبلی نے سماج وادی پارٹی کے لیڈروں سے رابطہ کرنا شروع کر دیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق اگلے کچھ دنوں میں بات بنتے ہی یہ لوگ سماج وادی پارٹی میں شامل ہوجائیں گے ۔
ذرائع کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے سات ایم ایل اے اور بی ایس پی کے چھ ایم ایل اے سماج وادی پارٹی سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر نے تصدیق کرتے ہیں کہ حکمراں جماعت اور بی ایس پی کے کئی ایم ایل اے ان کی پارٹی جوائن کرنے والے ہیں ۔ سماج وادی پارٹی کے چیف ترجمان اور سابق وزیر راجندر چودھری کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی ان تمام لوگوں کا خیرم مقدم کرتی ہے جو سماج وادی پارٹی کے نظریے کی پیروی کرتے ہیں۔ چودھری کا کہنا ہے کہ یقیناً کئی بڑے لیڈر سماج وادی پارٹی کے رابطے میں ہیں ، جو جلد ہی ان کی پارٹی میں شامل بھی ہو جائیں گے ۔
بھارتیہ جنتا پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی میں خود کو بے چین محسوس کرنے والے کئی ایم ایل اے اور کئی لیڈر کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے۔ ان لیڈروں کا الزام ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں ان کی سنی نہیں جا رہی ہے ۔ جب اپنے علاقے کے عوام کی آواز اوپر تک پہنچانے کی کوشش کرتے تھے تو ان کو درکنار کر دیا جاتا تھا ۔ان ممبران اسمبلی کا کہنا ہے کہ اسمبلی انتخاب میں وہ اپنے عوام کے پاس کس منھ سے جائیں گے ۔ کیونکہ ان کے مسائل کا حل تو ہوا ہی نہیں ۔ ایسے میں ان کے پاس دوسری پارٹی میں جانے کے علاوہ اور کوئی متبادل نہیں ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل اے نے بتایا کہ ان کے ساتھ کوئی اورایم ایل اے بھی ایسے ہیں جو خود کو پارٹی میں نظرانداز کئے جارہے ہیں،حالانکہ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتہ بی جے پی کے کچھ سینئر لیڈروں نے ان کے مسائل ضرور سنے تھے لیکن اس سے متفق نہیں ہے۔ اسی طریقے سے بہوجن سماج پارٹی کے ایک ایم ایل اے نے بتایا کہ ان کے کئی لیڈر پارٹی چھوڑ کر سماج وادی پارٹی جوائن کر چکے ہیں ۔ اس لئے وہ بھی اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو پارٹی چھوڑ دیں گے ۔










