نئی دہلی: لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے جمعرات، 22 اکتوبر کو کہا کہ چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے لیے اپوزیشن کی جانب سے کوئی نیا نوٹس پیش کیا گیا تو اس کا جائزہ پارلیمانی قواعد اور مقررہ طریقۂ کار کے مطابق لیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتخابی فہرستوں پر نظرِ ثانی اور الیکشن کمیشن کے کام کاج کو لے کر اپوزیشن کا احتجاج جاری ہے۔
اوم برلا نے پریس کانفرنس کے دوران ممکنہ مواخذے کی تحریک سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اگر کوئی نیا نوٹس آتا ہے تو اس کا قواعد اور طریقۂ کار کے تحت جائزہ لیا جائے گا۔ ان کے بیان سے واضح ہے کہ نئے نوٹس پر کارروائی کا فیصلہ اس کے مندرجات اور متعلقہ پارلیمانی ضابطوں کی جانچ کے بعد ہوگا۔
پہلے بھی مسترد ہو چکے ہیں ہٹانے کے نوٹس
گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے لیے اپوزیشن اس سے پہلے بھی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں نوٹس دے چکی ہے۔ مارچ 2026 میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں نوٹس پیش کیے گئے تھے، جنہیں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اور اس وقت کے راجیہ سبھا چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے اپریل میں مسترد کر دیا تھا۔
بعد ازاں 24 اپریل کو اپوزیشن نے راجیہ سبھا میں ایک نیا نوٹس پیش کیا تھا، جس میں نو الزامات شامل کیے گئے تھے۔ اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ گیانیش کمار کے دور میں انتخابی عمل اور ووٹر لسٹوں سے متعلق بعض فیصلوں پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ تاہم، کسی نوٹس کا پیش کیا جانا بذاتِ خود عہدے سے ہٹائے جانے کے مترادف نہیں ہے۔
ووٹر لسٹوں کی نظرِ ثانی پر تنازع
چیف الیکشن کمشنر کے خلاف اپوزیشن کی مہم کا ایک اہم پس منظر ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرِ ثانی، یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR)، ہے۔ حالیہ ہفتوں میں رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ الیکشن کمشنر سُخْبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے بعض فیصلوں اور احکامات کے بارے میں اعتراضات اٹھائے تھے۔ ان معاملات میں ووٹر لسٹوں میں نام شامل کرنے یا حذف کرنے، فارم 6 اور انتخابی ڈیٹا کے انتظام سے متعلق امور شامل بتائے گئے ہیں۔
اپوزیشن ان رپورٹس کو الیکشن کمیشن کے کام کاج پر سوال اٹھانے کی بنیاد قرار دے رہی ہے۔ دوسری طرف، الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ SIR سے متعلق فیصلے کمیشن کے متفقہ مؤقف کے تحت کیے گئے۔ ان دعوؤں اور جوابی مؤقف کے درمیان تنازع اب سیاسی بحث کے ساتھ قانونی دائرے میں بھی پہنچ چکا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا آئینی طریقۂ کار کیا ہے؟
آئین کے آرٹیکل 324(5) کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو اسی طریقے اور انہی بنیادوں پر عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے جن کے تحت سپریم کورٹ کے جج کو ہٹایا جاتا ہے۔ اس عمل کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مقررہ آئینی اکثریت سے قرارداد منظور ہونا ضروری ہے، اور بنیاد ثابت شدہ بدعنوانی یا نااہلی جیسے آئینی معیار پر پوری اترنی چاہیے۔
اس لیے کسی نوٹس کا جمع ہونا یا اس پر سیاسی حمایت حاصل ہونا کافی نہیں؛ اسے مقررہ قانونی اور پارلیمانی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اوم برلا کے تازہ بیان کا بنیادی نکتہ بھی یہی ہے کہ اگر نیا نوٹس آتا ہے تو اس پر فیصلہ قواعد اور طریقۂ کار کے مطابق کیا جائے گا۔










