نئی دہلی:(ایجنسی)
ملک میں کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ کی دستک کے درمیان نیشنل سپر ماڈل کمیٹی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اومیکرون ویرینٹ کی وجہ سے اگلے سال کے شروع میں ملک میں تیسری لہر آسکتی ہے۔ اس وقت ملک میں روزانہ تقریباً 7500 کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ مہلک ڈیلٹا وائرس کی جگہ اب اومیکرون لیتا جا رہا ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین ودیا ساگر نے کہا کہ اومیکرون وائرس کی تیسری لہر ہندوستان میں آئے گی لیکن یہ دوسری لہر سے کم مہلک ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال فروری کے شروع میں تیسری لہر متوقع ہے۔ اگرچہ یہ دوسری لہر سے ہلکی ہوگی، لیکن یہ ضرور آئے گی۔
آئی آئی ٹی حیدرآباد کے پروفیسر ودیا ساگر نے کہا کہ اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ ملک میں یومیہ دوسری لہر سے زیادہ کیسز دیکھنے کو ملیں گے۔ تمام بالغوں کو ویکسین دینے کی حکومت کی مہم مارچ سے جاری ہے جب ڈیلٹا ویرینٹ نے دستک دی تھی۔ ڈیلٹا وائرس نے لوگوں پر تب حملہ کیا جب ویکسین ابھی شروع ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ سیرو سروے کے مطابق ایک چھوٹا حصہ ڈیلٹا وائرس سے متاثر نہیں ہوا تھا۔ اب ہمارے پاس سیرو کا پھیلاؤ 75 سے 80 فیصد ہے۔ تقریباً 85 فیصد بالغوں نے پہلی ویکسین لگا چکے ہیںاور 55 فیصد بالغوں نے دونوں ڈوز لے چکے ہیں۔ پروفیسر ودیا ساگر نے کہا کہ اس لیے تیسری لہر میں، دوسری لہر کی طرح یومیہ کے معاملات کی بڑی تعداد نہیں ہوگی۔ ہمارے پاس اب اس سے نمٹنے کا زیادہ تجربہ بھی ہے لہٰذا ہمیں زیادہ پریشانی نہیں ہوگی۔
اس حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے پروفیسر ودیا ساگر نے کہا کہ انفیکشن کی تعداد دو عوامل پر منحصر ہوگی، پہلا یہ کہ اومیکرون کتنی قدرتی قوت مدافعت کو کمزور کر سکے گا جو ڈیلٹا کے خلاف جنگ میں حاصل کی گئی تھی۔ دوسرا، اومیکرون کس حد تک ویکسینیشن کے بعد بھی قوت مدافعت کو متاثر کر سکے گا۔ یہ دونوں حقائق ابھی تک منظر عام پر نہیں آئےہیں، اس لیے اس وقت ہر طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدترین حالات میں بھی ہندوستان میں یومیہ 2 لاکھ سے زیادہ کیسز نہیں ہوں گے۔
پینل کے ایک اور رکن منیندا اگروال نے اے این آئی کو بتایا کہ ہندوستان میں یومیہ ایک سے دو لاکھ کیسز ہو سکتے ہیں، جو دوسری لہر سے کم ہیں۔ برطانیہ میں زیادہ ویکسینیشنز ہیں لیکن سیرو کا پھیلاؤ کم ہے۔ اگرچہ ہندوستان میں سیرو کا پھیلاؤ زیادہ ہے جس کی وجہ سے قوت مدافعت زیادہ ہے، ویکسینیشن بھی بڑی تعداد میں ہوئی ہے۔










