نئی دہلی : (ایجنسی)
کورونا انفیکشن کا خطرہ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ جس تیزی کے ساتھ کیسز مل رہے ہیں، اس سے تشویش بھی بڑھ رہی ہے۔ کووڈ- 19 کا اومیکرون ویرینٹ اب تک ہندوستان کی 11 ریاستوں میں پھیل چکا ہے، ملک میں 87 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ بیرون ملک کی بات کریں تو گزشتہ روز یعنی جمعرات کو کورونا نے برطانیہ میں اب تک کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ برطانیہ میں ایک دن میں 88376 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ جبکہ ایک دن میں کورونا انفیکشن سے 146 لوگوں کی جان جاچکی ہے۔ یعنی خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
بھارت کی11 ریاستیں جن میں مہاراشٹر، راجستھان، دہلی، کیرالہ، گجرات، کرناٹک، تلنگانہ، مغربی بنگال، آندھرا پردیش، پنجاب، تامل ناڈو شامل ہیں وہ اومیکرون ویرینٹ کی زد میں آچکے ہیں۔ کورونا کے ڈیلٹا ویرینٹ کی شناخت گزشتہ سال 20 دسمبر کو ہوئی تھی۔ چند ماہ بعد یعنی اپریل 2021 میں ڈیلٹا ہی کی وجہ سے کورونا کی دوسری لہر ہندوستان میں پہنچی تھی۔ اب اس سال دسمبر کے مہینے میںاومیکرون ایک خطرہ بن کر سامنے آیاہے۔
دنیا کے ممالک نے کورونا کی نئی شکل کو جان لیوا ماننا شروع کر دیا ہے۔ خاص طور پر برطانیہ اور امریکہ میں لوگ اومیکرون کے نام سے خوفزدہ ہونے لگے ہیں۔ کیونکہ اومیکرون نے برطانیہ میں ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ امریکہ کے حالات بھی مسلسل خراب ہورہے ہیں۔ یہاں کیسز تیزی سے دوگنا ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر برطانیہ اور امریکہ جیسے ممالک انفیکشن سے ڈرتے ہیں، تو ہندوستان کے لوگوں کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
32#متاثرین کے ساتھ مہاراشٹر پہلے نمبر پر
ملک میں کورونا وائرس کا یہ سپر اسپریڈر ویرینٹ جس تیزی سے پھیل رہا ہے وہ تشویشناک ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے پہلے ہی اومیکرون کو تشویش کی ایک قسم کے طور پر بیان کیا ہے۔ اب تک کے اعداد و شمار کی بنیاد پر، اومیکرون کے 32 کیسوں کے ساتھ مہاراشٹر پہلے نمبر پر ہے۔ اس کے ساتھ ہی راجستھان میں اومیکرون کے کیسز بڑھ کر 17 ہو گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک کی راجدھانی دہلی میں اومیکرون سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔
ایل این جے پی میں داخل ہیں کورونا کے مریض
مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے دہلی میں تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ دہلی کے ایل این جے پی اسپتال میں اومیکرون کے مریضوں کے لیے ریزرو بستروں کی تعداد 40 سے بڑھا کر 100 کر دی گئی ہے۔ کیونکہ دہلی میں پائے جانے والے اومیکرون کے 10 میں سے 9 مریض ایل این جے پی اسپتال میں داخل ہیں، جب کہ ایک کو صحت یاب ہونے کے بعد چھٹی دے دی گئی ہے۔
امریکہ اور برطانیہ میں کورونا کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے
اومیکرون کی لہر برطانیہ پہنچ گئی ہے۔یہاں جمعرات کو 883746 مریض ملنے کے بعد ہڑکمپ مچ گیا ہے۔ یہ تعداد بدھ کو ملنے والے متاثرہ افراد سے 10 ہزار زیادہ ہے۔ یعنی بدھ کو برطانیہ میں تقریباً 78 ہزار کیسز پائے گئےتھے۔ بتادیں کہ رواں سال جنوری میں برطانیہ میں تقریباً 68 ہزار کیسز سامنے آئے تھے۔ وہاں اومیکرون کے کیسز 12 ہزار کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
امریکی صدر نے خبردار کر دیا
اب بیرون ملک حالات مسلسل خراب ہو رہے ہیں۔ امریکہ میں بھی متاثرہ افراد کی تعداد روزانہ دوگنی ہو رہی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کا اومیکرون ویرینٹ امریکہ میں مزید تیزی سے پھیلنے والا ہے۔ اس سے احتیاط ضروری ہے۔










